یہ دل کیوں نہ روے یہ آنکھ کیوں نہ بھر آۓ
ازقلم: عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد
9505057866
انوکھی وضع ہے سارے زمانہ سے نرالے ہیں
یہ عاشق کونسی بستی کے یارب رہنے والے ہیں
حدیث پاک میں قرب قیامت کی علامات کو واضح کرتے ہوے آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ قیامت سے پہلے علم اٹھالیا جاے گا تو سوال ہواکہ علم کوی حسی چیز تو ہے نہیں کہ اس کو اٹھانا ممکن ہوسکے تو جوابا فرمایا کہ علماء کو اٹھالیا جاے گا جس سے علم خود بخود اٹھ جاے گا حدیث پاک کا مفہوم اور مضمون اب ہمیں اپنی کھلی آنکھوں سے نظر آرہا ہے کہ گذشتہ دوسال کے عرصہ حیات میں اکابر علماء کرام صاحب نسبت بزرگان دین اولیاءاللہ اس دنیا سے جس بڑی تیزی کے ساتھ رخصت ہوے ہیں یکے بعد دیگرے جس کو دیکھ کر اب یہی کہاجاسکتا ہیکہ اللہ پاک شاید قیامت کے برپاکرنے کا ارادہ کرچکے ہیں
منجملہ ان بزرگان دین واہل علم میں ہمارے استاذ محترم داماد شیخ الاسلام جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدرامیر الہند اور ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری رح ہیں جو بتاریخ 21/مئ 2021 مطابق 8/شوال المکرم 1442بروز جمعہ سواایک بجے نماز جمعہ قبل اس دنیاے فانی سے لاکھوں محببین ومتعلقین اور مسترشدین کو آبدیدہ کرکے اپنے مالک حقیقی سے جاملے
اناللہ واناالیہ راجعون
آپ ایک نیک وپاکیزہ خانوادہ اور انتہای متبع سنت پابند شریعت گھرانہ سے تعلق رکھتے تھے آپ والا کی زندگی بجاے خود سنتوں کی ایک عملی تصویر تھی رفتار وگتفار اخلاق وکردار کی تو آپ بلندی پر پہونچے ہوے تھے خوبصورت وخوب سیرت نورانی چہرہ سادہ مزاج انتہای خلیق وباکردار صاف ستھری آئینہ سے بھی زیادہ شفاف زندگی کے حامل تھے جو دیکھتا تو بس دیکھتا ہی رہتا خوش مزاجی تو آپ کے انداز تکلم سے ہی جھلکتی تھی بارہا ہمکلامی کا شرف اور علم حدیث کی مائنازکتاب موطا امام مالک کا درس آپ ہی سےپڑھنے کی سعادت راقم سطور کو میسر آی
یقینا حضرت قاری صاحب رح کے دیدار ہی سے بہت سارے لوگ اپنے دلوں کاسکون پاتے اور ملاقات کو اپنی زندگیوں کا قرار محسوس کرتے آپ سے تکلم کو اپنی سعادت سمجھتے تھے
کئ ایک منفرد اور انوکھے صفات سے باری تعالی نے آپ کو متصل فرمایا تھا ان گنت خوبیاں آپ کی ذات میں جڑ دیں تھی عشق رسول ومحبت رسول کے آپ آئینہ دار تھے انتہای محبت وشفقت کے ساتھ نرم مزاجی ولینت کے ساتھ آسان سے لفظوں اور دھیمی سے آواز میں درس دیا کرتے اور مختلف موقعوں پر وعظ وتقریر اورناصحانہ خطابات فرمایاکرتے تھے دارالعلوم دیوبندکی مسند درس وتدریس اور جمعیۃ علماء کے قد آدم اسٹیج پر آپ ہر وقت ایک چمکتے دمکتے ستارہ کی طرح نظرآتے تھے علم وعمل کے ایک کوہ ہمالیہ تھے
تواضع وخاکساری تو آپ کی پہچان ہی بن گیء تھی نرم دم گفتگو گرم دم جستجو کی ایک مجسم تصویر تھے
خاندانی شرافت تو بے مثال تھی نانہیال اور دادیہال دونوں جانب سے آپ شریف النسب تھے حالیہ دنوں میں اپنے پوترے کی تکمیل حفظ کی سعادت مندی پر جوباری تعالی کے احسانات اپنے اوپر گنواے تھے اس وقت کی تحریر کو پڑھتے ہی کلیجہ کانپ اٹھا رونگٹے کھڑے ہوگےء خوشی کےآنسوتھمنے نہ پاے جی خوش ہوگیا دل مطمئن ہوگیا اور اس خاندان بلکہ اس کے ایک ایک فرد سے عقیدت ومحبت میں اضافہ ہوا اور راقم نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا کہ ایک ہی خاندان میں دسیوں حفاظ وحافظات ہیں بوڑھے جوان بچے بچیاں سب الحمداللہ حافظ قرآن ہیں نسلا بعدنسل اللہ پاک قرآن کی عظیم دولت کو اس خاندان میں منتقل فرمائے ہوے ہیں جو یقینا قابل فخر بات ہے
بہر کیف
آپ کی کن کن صفات حسنہ کو لکھا اوریاد کیا جاے ہمہ خوبیوں کے آپ مالک تھے ظاہرو باطن یکساں رکھنے والے مقبول عام وخاص عالم دین تھے
اپنی ایک الگ ہی پہچان رکھنےوالا زمانہ بھر کا تھکا ہوا یہ نرالامسافر بھی اب ہم سے رخصت ہوچکا ہے
دارالعلوم دیوبند جمعیۃ علماء مجلس تحفظ ختم نبوت امارت شرعیہ ہند اور دیگربڑی بڑی تنظیمیں اپنے اس مخلص عہدیدار سے اب خالی ہی رہیں گی جس کے خلاء کو شاید ہی کوئی پرکرسکے
خدارحمت کند ایں پاک طینت را
میں اس موقع پر ملک کے دوعظیم وگرانمایہ موتیوں لائق وفائق فرزندان جناب مولانامفتی سلمان منصورپوری صاحب وجناب مولانا مفتی عفان منصور پوری صاحب مدظلہما اور جملہ وابستگان اور اہل خانہ وافراد خان کے سب ہی چھوٹوں بڑوں مردوخواتین کی خدمت میں اپنی طرف سے اصالۃ اور تمام ہی دینی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے نیابۃتعزیت مسنونہ پیش کرتا ہوں
اللہ پاک حضرت قاری صاحب علیہ الرحمۃ کی مغفرت فرمائے اعلی علیین اور جنۃ الفردوس میں جگہ نصیب فرماے پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے پوری ملت اسلامیہ کو آپ کا نعم البدل نصیب فرماے
آمین
