مہاراشٹرا:3؍فروری
نمائندہ خصوصی
مہاراشٹرا میں آیمہ و موذنین اور نگراں مساجدکےاعزازیہ کو لاک ڈاؤن کا عذر بتاتےہوۓ موقوف کردیا گیاہےواضح رہے کہ مہاراشٹرا حکومت کی جانب سے 150 مساجدکو تنخواہیں دی جاتی ہے جو رجسڑ ہیں جبکہ ریاست میں مہاراشٹر میں 25000 سے زیادہ مساجد ہیں۔رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے مہاراشٹر کے مساجد کے ذمہ داروں کے ساتھ منعقدہ میٹنگ میں اس بات کی اپیل کی گئی تھی کہ ریاست کے تمام درج رجسڑ مساجد اور اس کے ذمہ دار حکومت کی فہرست میں مساجد کا اندراج کرائیں۔انھوں نے کہا کہ اس مسئلہ کو ہم جلد ہی مہا وکاس اگھاڑی حکومت کے سامنے رکھنے والے ہیں کیوں کہ اس پر جلد از جلد کارروائی ہو تاکہ لاک ڈاؤن کی مار سے یہ طبقہ بچ سکے بیشتر مساجد میں علاقے کے عوام کے تعاون کے بدولت مسجد کے امام متولی اور دوسرے ذمہ داروں کی تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں لیکن حکومت نے جب ان کی تنخواہ کی ادائیگی کے لئے قوانین بنائے ہیں تو اسکے تحت حکومت کو اپنی ذمہ داری بھی نبھانی چاہئے۔رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہا کہ حکومت اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرے کیونکہ مساجد میں جو لوگ اس فریضے کو ادا کرتے ہیں یا وہ اس پر مامور کیے گئے انکی آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔
