مفتی عفان منصورپوری کا مدرسہ مظہرالعلوم میں خطاب
تلخیص عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد
9505057866
یاایھاالناس اناخلقناکم من ذکر وانثی وجعلناکم شعوبا وقبائل لتعارفوا ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم۔الآیۃآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دنیا میں تشریف آوری ایک انقلابی تاریخ رکھتی ہے آپ نے اپنی تعلیمات کی روشنی میں ایک عظیم انقلاب برپا کیا جس وقت آپ تشریف لاے اس وقت جہالت کا اندھیراہی اندھیرا چھایا ہوا تھا آپ نے علم کی روشنی لای جس کے نتیجہ میں زمانہ جاہلیت کے سارے رسم ورواج جو انسانی معاشرہ کےلےء مضر اور نقصان دہ تھے ان سب کو ختم فرمادیا
آپ علیہ السلام نے اپنی آمد کا نچوڑ اور خلاصہ بیان کرتے ہوے بعثت نبوی کا یہ پیغام دیا کہ اے لوگو اب تمہیں زندگی کے ان اصول وضوابط کو اختیار کرنا پڑے گا جو میں لے کر آیا ہوں جاہلیت کے رسوم ورواج کو اب چھوڑنا پڑے گا اب اگر ہمارے سماج میں کوی ایسی رسم پروان چڑھتی ہے جس کا خاتمہ نبی پاک نے فرمادیا ہوں تو یہ نبی کے مشن کے سراسر مخالف ومغائر ہوگا یہ آپ کے احکامات وتعلیمات کی نافرمانی اور نبی کے مشن کے خلاف ہے
فرمایاکہ اللہ تبارک وتعالی تفرقہ بازی اور انتشار کو پسند نہیں فرماتے ہیں نبی پاک نے زمانہ جاہلیت میں اس بری عادت سے لوگوں کو روکا اور اس کا خاتمہ فرمادیا لیکن افسوس کہ آج ہرجگہ آپسی اختلافات عروج پر ہے کہیں ذات پات کا تو کہیں رنگ ونسل کا تو کہیں حسب ونسب کا تو کہیں امیر وغریب کا فرق بیان کرکے لوگ فخر ومباہات میں مبتلا ہوتے ہیں حالانکہ اللہ تعالی نے واضح الفاظ میں فرمادیا کہ اے لوگو ہم نے تم کو مردوزن کے اختلاط سے پیدا کیا آپس میں ایک دوسرے کو کوی فوقیت وبرتری حاصل نہیں ہے ہاں البتہ تمہارے درمیان ہم نے شعوب اور قبیلوں کو بنایا وہ تمہارے آپسی تعارف اور پہچان کے لےء بناے ہیں ہاں مگر اللہ کے نزدیک معززترین وہ شخص ہے جس کے دل میں اللہ کا خوف اورڈر موجود ہوں جو سنتوں کے مطابق اپنی زندگی گذارتاہے
اعلی نسب کی بنیاد پر یا ذات اور قبیلوں کا یہ آپسی اختلاف زمانہ جاہلیت میں ہو اکرتا تھا حضور علیہ السلام نے اس رسم بد کو ختم فرمادیا اگرہم پھر سے ان چیزوں کی بنیاد پرآپس میں تفریق پیداکرتے ہیں تو ہم رسول اللہ کے مشن کے مخالف کام کررہے ہیں اللہ تعالی نے اس مبارک آیت کے ذریعہ فرمادیا کہ اے لوگو عزت وشرافت کا تعلق خاندان اور قبیلوں سے نہیں بلکہ ایمانداری ودینداری سے ہے جناب رسول اللہ سے زیادہ خاندانی اور نسبی شرافت کس کوحاصل تھی
لیکن اس کے باوجود آپ نے اپنے خاندان کے خاص لوگوں کو ایک مرتبہ جمع فرمایا جس میں حضرت عباس آپ کے چچا اور پھوپی حضرت صفیہ اور آپ کی لخت جگر حضرت فاطمہ تھی جن کو مخاطب کرکے آپ نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ اے چچا پھوپی اور میری بیٹی آپ سے میرا خونی تعلق ہے خاندانی رشتہ ہے جس کو جھٹلایا نہیں جاسکتا لیکن آپ صرف مجھ سے نسبت پر اکتفا کرکے نہ بیٹھ جائیں بلکہ آپ سب کو اعمال کرنا پڑے گا اپنی زندگی میں محمد کی تعلیمات کو لانا پڑے گا ورنہ محض مجھ سے اور میرے خاندان سے تعلق کی بنیاد پر آگے کے مراحل حل نہیں ہوں گے
کل روزمحشر میں تمہارے کام نہیں آؤں گا اوراخیر میں فرمایا کہ من بطأ بہ عملہ لم یسرع بہ نسبہجس انسان کا عمل اس کو پیچھے دال دے گا اس کا نسب اس کو آگے نہیں بڑھاسکتا ہے انسان ہر ایک احترام اپنے دل میں پیدا کرے اپنے زکاندانی نسبت پر فخر کرکے دوسروں کو حقیر ہرگزنہ سمجھے ہمیں اپنے سماج اور معاشرہ سے اس برای کو ختم کرنا چاہیے یہ زمانہ جاہلیت کی رسم ہے اگر کوی انسان اپنے بھای کے ظالم ہونے کے باوجود اس کا ساتھ دے رہا ہے تو اللہ کے نبی نے فرمایا کہ یہ عصبیت ہے کہ تم مجض اپنا بھای ہونےبکی بنیاد پر اس کا ساتھ دیا جاے اسی طرح حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جس کسی سفر میں جاتے تو جس کو جو جگہ اچھی لگتی تھی وہ وہیں اپنا ہڑاؤ دال لیتا تھا اور آرام کرلیتاتھاایک مرتبہ اللہ کے رسول بھی سفر میں ساتھ تھے
ہم لوگوں نے اپنی عادت کے مطابق اپنی اپنی پسند کی جگہ کا انتخاب کرکے پٹاؤ دال لیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ کیا تم لوگ آپس میں اتنے منتشر ہوکر پڑاؤ دالتے ہو یہ غلط بات ہے اس طرح نہ کرو تو صحابی رسول فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے ہم لوگ آپس میں اس طرح مل کر اجتماعیت کے ساتھ پڑاؤ ڈالتے تھے کہ اگر ایک بڑی چادر اوپر ڈال دی جاے تو کہیں گڑھا نہ پڑے اسی طرح آج جو ظالم حکمران ہم پر مسلط کےء جارہے ہیں اس کی خبر حضور نے بہت پہلے دے دی تھی حضرت ابوہریرۃ نے فرمایا کہ تین برائیاں ہیں اگر کسی معاشرہ میں آجاے تو ان پر نااہل لوگوں کو حکمران بناکر مسلط کردیا جاے گا (1)قطع رحمی یعنی رشتوں کو توڑنے کا ماحول عام ہوجاے (2)سیدھا اور سچا راستہ بتانے والے کی بات نہیں مانی جاے گی آج یہ دونوں چیزیں عام ہوتی جارہی ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم پر ظالم حکمران مسلط کےء جارہے ہیں
