ادارہ ادبِ اسلامی ہند شاخ بید رکے زیراہتمام ادبی نشست و طرحی مشاعرہ

تازہ خبر مذہبی

بیدر۔ 5جنوری
عبدالصمد منجوالا
حضرت خواجہ عمادالدین محمودگاوان رحمتہ اللہ علیہ نے بہمنی سلاطین کے وزیراعظم کی حیثیت سے ادب کی جو شمع جلائی تھی وہ اندرہی اندر جلتی رہی اور ایک موقع پر اردو ادب کی شکل اختیار کرگئی ۔ کیونکہ حضرت رشید احمد رشیدؔ کے داداملّاجلال تھے ۔ جنہوں نے ادب میں کہاجاتاہے کہ اپنی استادی دکھائی تھی۔ ان ہی کے اولادوں میں حضرت رشید احمد رشید ؔنے جب اپناکلام دنیا کے سامنے پیش کیا تو وہ سبھوں کے لئے قابل قبول قرار دیاگیا۔ ادبی حوالے سے انھیں تسلیم کیاگیا۔ یہ باتیں معروف مؤرخ جناب عبدالصمد بھارتی نے کہیں۔ وہ کل 3جنوری کو ادارہ ٔ ادبِ اسلامی ہند بیدر کی جانب سے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ہال ، نورخاں تعلیم بیدر میں منعقدہ ادبی تقریب ’’بیاد حضرت رشید احمدرشیدؔ‘‘ سے صدارتی خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے مزیدکہاکہ جامعہ عثمانیہ کے قیام کے بعد مختلف وقتوں میں جومجلہ وہاں سے نکالاگیااس میں حضرت رشید احمد رشید ؔکا کلام تعارفی نوٹ کے ساتھ شائع ہوچکاہے۔ بیدر والوں نے انہیں استادالشعراء مانا۔ موصوف نے گذشتہ میں بیدر میں ہونے والی ادبی تقریبات کے مقامات کا تعارف کروایا اور کہاکہ بید رکی خانقاہیں ادبی مجالس اور مشاعروں کے لئے کا م آتی رہی ہیں۔ عمدہ اور اچھے مشاعرے یہاں ہواکرتے تھے۔ جناب عبدالمقیت قادری نے حضرت رشید احمدرشید ؔ سے متعلق مضمون پیش کیا جس میں انھوں نے انکشاف کیاکہ میں بیدر کاہوتے ہوئے بھی رشید صاحب کے نام اور ان کے کلام سے واقف نہیں تھا۔ گذشتہ ہفتہ مجھے ان کے کلام سے واقفیت ہوئی۔ مولوی محمد ظفراللہ خان نے اپنے مقالے ’’حضرت رشید احمدرشیدؔ۔دیدہ وشنیدہ ‘‘ میں رشید ؔصاحب کے تاریخ پیدائش سے لے کر مختلف واقعات کو بیان کیا۔ جس میں بتایاکہ حضرت رشید احمد رشید3؍فروری 1914کو بید رمیں ایک علمی اور تاریخی گھرانے میں پیداہوئے۔وکلاء کاگھرانہ تھا۔ تعلیم کو اہمیت دی جاتی تھی ۔ وہ انگریزی سے اردو اور اُردو سے انگریزی میں بہتر طورپر ترجمہ کیاکرتے تھے۔وہ جامعہ عثمانیہ کے گریجویٹ تھے۔ شاعری میں ان کے استاد وں میں نواب عزیز یارجنگ اور فانی ؔبدایونی شامل ہیں۔ کئی دفعہ وہ جوش ملیح آبادی کے ساتھ مشاعرہ پڑھ چکے تھے۔ مہاراجہ کرشن پرشاد کے مشاعروں میں صرف دوطالب علم شرکت کیاکرتے تھے ایک مخدوم محی الدین اور دوسرے حضرت رشید احمد رشیدؔ۔ جناب ظفراللہ خان نے اپنے مقالے میں رشید احمد رشید ؔ کے کلام کو پیش کرنے سے زیادہ ان کی زندگی سے وابستہ واقعات کو پیش کرنے پر زور دیا۔غیرمنقسم ہندوستان کے ادبی رسائل ہمایوں، شاہکاراور ادبی دنیا وغیرہ میں رشید صاحب کاکلام بڑے اہتمام سے شائع ہواکرتاتھا۔ 3جنوری 1986؁ء کو وہ اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ آج ان کی 35ویں برسی کے موقع پر یہ تقریب منعقد کی گئی ہے ۔ اس ادبی نشست کے اختتام کے فوری بعد طرحی مشاعرہ کا انعقادعمل میں آیا۔ جس کی صدارت جناب سید جمیل احمد ہاشمی صدر ادارۂ ادب اسلامی ہند بید رنے کی۔ حضرت رشید احمد رشید ؔ ہی کی دوطرحیں دی گئی تھیں۔ ایک طرح تھی ، افسوس آج شعرکا فن خاک ہوگیا اور دوسری طرح تھی ’’چین کاسانس لئے ایک زمانہ گذرا ‘‘ ۔ بیرون بیدر سے جن شعراء نے اپنی غزلیں روانہ کیں ان میں انجم شکیل احمد مدینہ منور،اعجاز پاشاہ اعجاز بگدلی پونہ (مہاراشٹر)، ڈاکٹر سہیل نظام ہبلی، وحیدواجد رائچور، ارشد شرفی حیدرآباد ، مسرورنظامی بسواکلیان اور بیدر سے مرزاچشتی صابری نظامی شامل رہے۔جنہیں بے حد داد سے نوازاگیا۔ مقامی شعراء میں منورعلی شاہد ، حامد سلیم حامد ؔ، امیرالدین امیرؔ، سید لطیف خلش ؔ، محمد ظفراللہ خان، محمد کمال الدین شمیم ؔ اور سید جمیل احمد ہاشمی نے اپنااپناکلام پیش کیا۔اور دادحاصل کی۔ ایک سے گرہ ایک لگائی گئی۔ جس پر کافی داد شعراء کوملی۔ وقفہ کے دوران محمدیوسف رحیم بیدری نے کہا کہ چونکہ اب تک حضرت رشید کی پیدائش کی تاریخ کا پتہ نہیں تھا۔آج محمد ظفراللہ خان صاحب کے مقالے سے پتہ چلاکہ وہ 3؍فروری 1914کو پیداہوئے تھے اس لحاظ سے آئندہ ماہ کی 3تاریخ کو 107ویں سالگرہ منائی جانی چاہیے۔ ان کی اس تجویز پر غور کرنے کی بات سامنے آئی۔ آخر میں بزرگ شاعر جناب سید جمیل احمد ہاشمی نے اپنی صدارتی تقریر میں کہاکہ خادمانِ ارد وادب اس جہاں سے اٹھتے جارہے ہیں۔ ہماری ذمہ دار ی ہے کہ ہم ان کے نعم البدل کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاکریں۔ اسی کے ساتھ ساتھ ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ان عمائدین کے چلے جانے سے پیداہونے والے خلاء کو خود بھی پرکرنے کی کوشش کریں ۔ موصوف نے نہایت رقت انگیز ی کے ساتھ بتایاکہ انگریزی میڈیم سے اپنے بچوں کو پڑھانے کے سبب ہمارالکھی تحریریں بھی پڑھنے والا ہمارے بعد کوئی نہیں ہے۔ خدا کے لئے اپنی مادری زبان اردو پہلے پڑھائیں۔ اگر ہم اپنے بچوں کو اردو نہیں سکھائیں گے تو ہمارے بچے اسلام اور ادب سے دور ہوجائیں گے ۔ لہٰذا آج کی تقریب کا پیغام یہی ہے کہ مرحومین کے لئے دعائے مغفرت ہو اور اپنے حصہ کا حق ادا کرتے چلیں۔ہمارے بچوں کو ہم خود اردو ادب پڑھائیں، اور سکھائیں۔ ہماری شناخت کے لئے اردو زبان ضروری ہے۔پروردگار ہمیں اپنے ادبی اسلاف کانعم البدل عطافرما۔ اور اردو کی شمع تاقیامت جلتی رہے۔ آمین ۔ بعدازاں سال گذشتہ میں اس دنیا سے گذر چکے پروفیسر شمس الرحمن فاروقی ، ڈاکٹر راحت اندوری ، پروفیسر مظفرحنفی ؔ، حسن چشتی ، اکرام باگ اور ڈاکٹر وحیدانجم گلبرگہ کے حق میں دعائے مغفرت کی گئی۔ پروگرام کا آغاز محمد مقصود احمد ناگوراکی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔محمد شفیع الدین نعت خواں نے نعت شریف کانذرانہ پیش کیا۔ اوراسی طرح حضرت رشید احمد رشید ؔ کی نعت شریف سنانے کاشرف مقصواحمدناگورا نے حاصل کیا۔ نظامت کے فرائض شاہ اسلم پاشاہ قادری نے بخوبی اداکئے۔ اور ان ہی کے اظہا رتشکر پر یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔