بے قصور افراد کی گرفتاری پر لگائی جائے روک۔مقررین
دیوبند انتظامیہ کا شہر کے سرگردہ افراد اور مدارس کے ذمہ داران کے ساتھ اجلاس
دیوبند،15؍جون
(رضوان سلمانی)
گذشتہ دنوں بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کی ذریعہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کی گئی گستاخی کو لیکر گذشتہ جمعہ احتجاجی مظاہرہ کے دوران دیوبند میں ہوئی ہنگامہ آرائی اور افرا تفری کے ماحول کو پر امن کرنے اور آنے والے جمعہ سمیت شہر وعلاقے میں امن وامان قائم کرنے کے مقصد سے جمعیۃ علماء یونٹ سہارنپور اور دیوبند انتظامیہ کی جانب سے ایک امن کمیٹی کی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں مسلم سماج دانشوران ،مدارس کے ذمہ داران اور شہر کے سرگردہ افراد نے شرکت کی ۔
آج عید گاہ روڑ پر واقع محمود ہال منعقدہ میٹنگ میں سبھی مقررین نے کہا کہ شہر میں امن وامان کا ماحول بنانے کے لئے ایک دوسرے کا تعاون کرنا چاہئے اور قانونی طریقہ سے ہی اپنی آواز حکومت تک پہنچانی چاہئے ۔اس موقع پر ایس پی دیہات سورج رائے نے سبھی سے امن وامان قائم رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن اور بھائی چارہ بنائے رکھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے ۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ جمعہ دیوبند اور سہارنپور میں جو بھی ہوا وہ صحیح نہیں تھا ۔انہوں نے کہا کہ پر امن طریقہ سے اور قانونی طور سے اپنی بات رکھنے کا ہر انسان کو حق ہے قانونی طریقہ سے دھرنا اور احتجاجی مظاہرہ کرنے سے کسی کو اعتراض نہیں ہے لیکن ہنگامہ آرائی اور بد امنی پھیلانی کی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی ۔انہوں نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے کسی بے قصور پر کوئی کار روائی نہیں کی جائیگی لیکن بد امنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کار روائی عمل میں لائی جائے گی۔ایس ڈی ایم دیوبند دیپک کمار نے کہا کہ انتظامیہ کے ساتھ ساتھ شہر کے ہر فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ گذشتہ جمعہ کو جو کچھ ہوا آگے ایسا نہ ہو اسلئے سبھی کو اپنے حصہ کی ذمہ داری ادا کرنی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ دیوبند ایک عالمی شہرت یافتہ شہر ہے یہاں پر ہندو مسلم اتحاد اور امن ،بھائی چارہ کا پیغام پوری دنیا میں جاتا ہے اسلئے یہاں کی روایت کو ہمیشہ زندہ رکھنا چاہئے ۔
دارالعلوم دیوبند کے استاذ مولانا منیر الدین قاسمی نے کہا کہ مدارس کے ذمہ داران اپنے طلبہ کو اس طرح کے احتجاجی مظاہروں سے دور رکھیں ۔انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر جو بھی طریقہ ہے اس طریقہ پر اپنا اعتراض اور مخالفت درج کرائی جاسکتی ہے لیکن طلبہ کو اس میں شامل نہیں ہونا چاہئے ۔
جامعۃ الشیخ کے مہتمم مولانا مزمل علی قاسمی نے گذشتہ جمعہ کو ہوئی نوجوانوں کی گرفتاری پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جہاں پر نوجوانوں نے کچھ غلطیاں کی ہیں وہیں انتظامیہ سے بھی چوک ہوئی ہے لیکن آگے ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔انہوں نے بے قصور نوجوانوں کی گرفتاری پر بھی روک لگانے کا مطالبہ کیا ۔جمعیۃ علماء یونٹ سہارنپور کے جنرل سکریٹری ذہین احمد نے انتظامیہ اور عوام سے اپیل کی کہ دیوبند میں امن وامان قائم رکھنے میں ہمیں ایک دوسرے کا تعاون کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہماری اس میٹنگ کا مقصد آپس میں تبادلہ خیال کرنا اور امن وامان کا ماحول بنائے رکھنا ہے ۔
ذہین احمد نے کہا کہ قانونی طور سے دھرنا اور احتجاجی مظاہرہ کیا جاسکتا ہے یہ ہمارا قانونی حق ہے لیکن بد امن پھیلانی کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہے کیونکہ یہ ملک ہمارا ہے اور ملک میں اتحاد اور امن وامان قائم رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے ۔انہوں نے انتظامیہ سے اس بات پر بھی زور دیا کہ بے قصور نوجوانوں کی گرفتاری پر روک لگائی جائے ۔
سی او رام کرن سنگھ اور تھانہ انچارج پربھاکر کینتورا نے بھی سبھی کو دیوبند میں امن وامان قائم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جس طریقہ سے گذشتہ جمعہ کو نماز کے بعد بازار بند اور احتجاجی مظاہرہ کے طریقہ اختیار کیا گیا وہ ٹھیک نہیں ہے بلکہ صحیح طریقہ سے اپنی بات پہنچانے کا قانونی راستہ اختیار کرنا چاہئے ۔انہوںنے کہا کہ دیوبند پولیس انتظامیہ پوری طریقہ سے عوام کی خدمت کے لئے ہے لیکن بد امن پھیلانے والوں کے ساتھ کسی بھی طرح کی نرمی نہیں برتی جائیگی ۔
ان کے علاوہ دارالعلوم زکریہ کے مہتمم مولانا مفتی شریف خان ،دارالعلوم دیوبند کے مولانا اسجد قاسمی،تحصیل دار تپن کمار مشر،جمال الدین انصاری ،سابق نگر پالیکا رکن سید حارث وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دیوبند کی عوام سے امن وامان قائم رکھنے کی اپیل کی ۔اس موقع پر مفتی عارف مظاہری،مولانا شمشیر قاسمی،چودھری صادق،حاجی منشاد،قاری زبیر قاسمی،شہنواز ملک،سلیمان فاروقی،راحت خلیل،ڈاکٹر واجد ملک،توفیق احمد جگی،شاہد حسن،عبد الواحد،نجم عثمانی،راؤ مسیح اللہ وغیرہ سمیت بڑی تعداد میں شہر کے افراد اور مدارس کے ذمہ داران موجود رہے ۔
