آمد رمضان سے قبل کرنے کے دوکام

تازہ خبر مذہبی

ازقلم: عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد
9505057866
ماہ مبارک رمضان مقدس کی آمد آمد ہے چند ہی ایام میں وہ مقدس مہینہ امت مسلمہ پر سایہ فگن ہونے والاہے اس ماہ مبارک کی برکت سے امت مسلمہ جہاں اوربہت سارے نیک کام اور اعمال صالحہ کرتاہے وہیں ایک خاص قسم کی عبادت روزہ رکھنے کا اہتمام کرتا ہے

ایسے میں ہم مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے اس سلسلہ میں چندگذارشات پیش خدمت ہے اللہ پاک سب کو توفیق عمل وقدردانی نصیب فرماے
عبادات رمضان میں سب سے ممتاز عبادت روزہ ہے جو طلوع آفتاب سے لے کر غروب شمس تک رکھاجاتا ہےجس کا مقصد خود قرآن مجید نے بتلایا کہ شاید تم متقی بن جاؤ تمہارے دلوں میں خشیت خداوندی اور خوف خدا پیداہوجاے اور تقوی کوی بازار سے یاکسی دوکان سے خریدی جانے والی شی نہیں ہے بلکہ انسان کے ضمیر کی آواز ہوتی ہے جو اس کو اللہ کی عظمت شان اور کثرت احسان کی یاددہانی کراکے گناہوں اور معاصی اور اپنے پروردگار کی نافرمانیوں سے روکتی ہے یہی وجہ ہیکہ کوی بھی بندہ جب روزہ رکھنے کی نیت سے سحری کھالیتا ہے تو دن بھر اس کا ضمیر اس کو ہر قسم کی برای اور منکر سے رکنے پر مجبور کرتا ہے خواہ وہ تنہای میں ہو یا کسی مجمع عام میں ہر جگہ اس کو احساس ہوتا ہیکہ آج میراروزہ ہے
میں کوئی بھی ایسا کام نہیں کروں گا جس کی وجہ سے میری یہ عبادت خطرہ میں پڑجاے اسی احساس کا نام تقوی ہے جو انسان کو زندگی کے ہرموڑپر اختیار کرنے کی ضرورت ہے
بہرکیف

اس موقع پر دو کام ہرمسلمان کو کرنے کی ضرورت ہے
(1)ایک
رمضان المبارک کی آمد سے پہلے پہلے ہم لوگوں کو چاہیے کہ اپنے دلوں کی صفای کرلیں اس کو تقوی اللہ کے لےء خالی کرلیں تاکہ رمضان المبارک میں جو رحمتیں اور برکتیں اللہ پاک کی جانب سے ملنے والی ہیں اور جن انوار وبرکات سے ہر انسان کا دل معمور ہونے والاہے اگر اس دل میں گناہوں طغیان وعصیان اور نافرمانیوں کی گندگی رہے گی دنیا ومافیھا کی محبت اس دل میں پہلے ہی سے گھر کی ہوی ہوگی تو وہ دل تجلیات خداوندی کا مرکز نہیں بن سکتاہے اس لےء لازمی ہیکہ پہلے اس دل کےبرتن کو ہرقسم کے گناہوں اور ہرفانی محبت کے جذبات سے خالی کیا جاے
حدیث پاک میں ہیکہ اللہ تعالی نے ہر انسان کو دل دیا ہےاور اس دل کو محبت کے قابل بنایا ہے وہ کسی نہ کسی شی سے محبت کرے گا لیکن کامیاب ہےوہ انسان جو اس دل کو اللہ کی محبت سے بھرلے اور تمام رذائل سے پاک وصاف کرکے اللہ کی محبت کو غالب کرلے تو ہم بھی اگر رمضان کی برکات حاصل کرنا چاہیتےہیں تو سب سے پہلے اس دل کو تقوی کے قابل بنالیں اور توبہ وانابت الی اللہ کے ماء مصفی سے اس دل کو دھوڈالیں
(2)دوسرے
اوقات کا صحیح استعمال کریں اپنا نظام العمل اور شیڈول بنالیں کہ کس وقت کیا کام اور کونسی عبادت کرنی ہے تاکہ شب وروز کے اوقات کا ہم صحیح استعمال کرسکیں
نماز تہجدکے لےء کب بیدار یونا ہے سحری کب کھانی ہے نماز فجر کے بعد کیا معمول رہے گا اشراق وچاشت کے اوقات کیا رہیں گے شام کو بستر پر سونے تک کے معمولات اگر بنالیاجاے تو انسان کو اس وقت کے آتے ہی احساس ہوجاے گا کہ مجھے تو اس وقت یہ کام کرناہے اب قرآن مجید پڑھنا ہے اب گھر کے ساز وسامان کی تیاری کرنی ہے وغیرہ وغیرہ
نظام العمل کے بنانے سے وقت میں برکت اور بروقت احساس ہوگا اور عمل کرنے میں سہولت ہوگی سب سے بڑافائدہ یہ ہوگا کہ انسان لغو و لایعنی اور فضولیات سے بچ جاے گا
ورنہ تو ہر وقت انسان یہی سوچے گا کہ فلاں وقت یہ عمل کرلیں گے جب وہ وقت آے گا توپھر سوچے گا کہ بعد میں کرلیں گے یوں ہی ٹال مٹول اور امروز وفرداکا شکار ہوکر کوی بھی عبادت مکمل دلچسی کے ساتھ نہیں کرپاے گا اور وقت ہاتھ نکل جاے گا تب افسوس کرے گا کہ کاش میں رمضان المبارک کی قدرکرلیتا
لیکن اب کف افسوس ملنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا
ہمارے اکابر واسلاف اور بزرگان دین کا پورے ایک مہینہ کا نظام العمل بنا ہوا ہوتاہے اسی لےء ان کے پاس وقت کی برکت اوراعمال کی کثرت نظرآتی ہے
اس لےء ظاہری اعتبارسے ہم اپنا نظام العمل بناکر اور باطنی اعتبار سے اپنے دل کو تقوی کے لےء تیارکرکے رمضان المبارک کا صحیح اور حقیقی استقبال کریں
اللہ کرے کہ اس ماہ مبارک کو پوری انسانیت کے لےء انقلاب کا ذریعہ بناے اور یم سب کو ہمت وحوصلہ عطاء فرماے
آمین بجاہ سیدالمرسلین