بجھتاہے چراغ اردو

تازہ خبر مذہبی مضامین

رشحات قلم: عبدالقیوم شاکر القاسمی
امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد تلنگانہ
9505057866
ہرقوم کی ایک شناخت اور پہچان ہوتی جو اس کا امتیازاور خصوصی وصف کہلاتی ہے اسی سے وہ جانی پہچانی جاتی اور متعارف ہوتی ہیں
اس کرہ ارضی پر بہت ساری قومیں آئیں کسی نے اپنی خداداصلاحیتوں کو پروان چڑھا کر افق دنیا پراپنے اثرات چھوڑے کسی نے محنت وجفاکشی کو اپنا طرہ امتیاز بناکرجریدہ عالم پر اپنی چھاپ چھوڑی ہر ایک کواپنی اپنی صلاحیت ولیاقت سے عروج ملا اور پھر ایک وقت آیا کہ سب زوال پذیر ہوتے چلے گےء دنیا والے ان کا نام ونشاں بھی بھول گےء
لیکن
اگر یوں کہا جاے تو بے جا نہ ہوگا کہ اردو زبان وادب کو قدرتی انتظام کے تحت اللہ تعالی نے وہ مقبولیت دے دی ہے کہ دنیا چاہ کر بھی اس کو بھلا نہیں سکتی ہے
بلکہ
آگے بڑھ کر کہاجاے کہ یہ اردوزبان اب اسلامی زبان بن گیء ہے تو میں اپنے قول میں حق بجانب رہوں گا چونکہ اسلامی تاریخ اسلامی لٹریچر مسائل دین وشریعت نماز روزہ زکوۃ حج ایمانیات عبادات معاملات معاشرت اور اخلاقیات ودیگر اہم اسلامی تعلیمات اب زیادہ تر فارسی زبان ودیگر زبانوں سے منقول ہوکر اردو زبان میں شائع وذائع ہوچکے ہیں اس لےء اب دنیا کے ہر مسلمان کو اس زبان سے وابستگی ازحد ضروری ہوچکی ہے
سچ کہا تھا کسی کہنے والے نے کہ اردو زبان کواب اسلامی زبان سمجھ کر اس کو سیکھنے سکھلانے کا انتظام کرنا چاہیے
مگر
افسوس تو اس بات پر ہوتا ہیکہ آج اردو کے نام پر اپنے اخبارات اور رسالے چھاپنے والے بھی اس کی نوک وپلک سے بے خبر ہوتے دکھای دیتے ہیں
یقیناآج اس اردو زبان کے ساتھ حکومتوں سے لے کر اداروں کی مجرمانہ غفلت اور سوتیلے سلوک نے اس کوناپید کرنے میں ایک بڑا کردار اداکررہے ہیں ہمارے عصری اداروں میں بھی انگریزی زبان اور انگریزی بول چال پر اتنا زور دیا جارہا ہے کہ ہماری نسل نو یہ سوچنے پرمجبور ہورہی ہیکہ کیا واقعۃ اردو اس دنیا سے ناپید ہوگیء ہے ؟
ہمیں شکوہ اوروں سے نہیں اپنی قوم وملت کے دانشورطبقہ اور عصری اداروں کے ذمہ داران سے ہے کہ ہم نے اپنی اس مادری زبان کواپنے اسکولوں اور اداروں میں کونسا درجہ دےرکھا ہے
ایک زمانہ تھا کہ ہر دفتر اور محکمہ میں اردوزبان وادب کی طوطی بولتی تھی اور آج ہماری اس غفلت وسست روی نے اس کو کیا مقام دیا ہے وہ عالم آشکارا ہے
اردوزبان ہی کے ایک شاعر نے اچھی منظر کشی کی ہے

تھاعرش پہ اک روزدماغ اردو
پامال خزاں آج ہےباغ اردو
غفلت توذراقوم کی دیکھو کاظم
وہ سوتی ہے بجھتاہے چراغ اردو

یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہیکہ اس ملک اور دیگر ممالک میں اگر اردوزبان کچھ زندگی کا ثبوت دے رہی ہے تو وہ دینی مدارس کی چہاردیواریاں اور اس کے طلباء واساتذہ نے کسی حد تک اس زبان کو سنمبھالے رکھا ہے
ان کے علاوہ دیگر تنظیموں اداروں اور محکمہ جات میں
بس سال میں ایک مرتبہ
عالمی یوم اردو کا منالینا اور چند ایک پروگرام اور مشاعروں کاانعقاد کرکے اپنے دل کو خوش کرلینا اسی کو اردوزبان کی حفاظت سمجھ لیا گیاہے
کیا اس سے اردو کی بقاء کا سامان اور ترویج واشاعت اور اس کے فروغ کا حق اداہوجاے گا ؟
یہ تو اچھا ہوا کہ دنیا کے ایک عظیم ترین مفکر اور نامور شخصیت علامہ اقبال علیہ الرحمۃ سے منسوب کرکے 9/ نومبر کو ان کی یوم پیدائش اور کارہاے نمایاں میں اردو ادب وزبان کی خدمت کے حوالہ سے ہر سال یوم اردو منایا جاتا ہے اور خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس طرح اپنے حقوق کے لےء باضابطہ طورپر ہم حکومتوں سے محاسبہ اور مطالبہ کرتے ہیں حصول حقوق کے لےء دھرنے اور احتجاج منظم کرتے ہیں کاش کہ محبان اردو اپنی اس مقدس زبان کے تحفظ وبقاء کے لےء بھی اسی طرح کی سعی کرتے تو شاید اردو زبان وادب کا منظر نامہ ہی کچھ اور ہوتا
اس موقع پر میں دل کی گہرائیوں سےشکریہ اداکرتا ہوں اردوڈیولپمینٹ آرگنائزیشن اور یونائٹیڈمسلم آف انڈیا ان دونوں تنظیموں کے ذمہ داران کا جنہوں نے 1997 میں یوم اردومنانے کا سلسلہ شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں جہاں جہاں اردوبولنے اور پڑھنے والے ہیں ہر اس جگہ پر پورے تزک واحتشام سے محبان اردو اس کو عالمی یوم اردو ڈے مناتے ہیں
آج اردوزبان کو دنیا کہ تیسری بڑی زبان مانا جاتا ہے تو اس بات کی طرف ہماری توجہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنی نئ نسل کو اس قومی زبان کو سیکھنے کی ترغیب دیتے کیونکہ ہماری اپنی زبان سے نوجوانوں کی دوری دین سے دوری کا سبب بنتی جارہی ہے
لہذا اردوزبان کی ترویج واشاعت اس کے پھلنے پھولنے کے لےء ہم سب کو آگے آکر اپنی اپنی بساط کے مطابق جدوجہدکرنا اور اس مہم کو آگے بڑھانے کی جہد مسلسل کرنی چاہیے