ٹوکیو میں بھگدڑ ۔ 20 لاکھ گھروں میں بجلی بند
ٹوکیو:16؍مارچ
(اے ایم این ایس)
جاپان میںچہارشنبہ کی رات 7.3 شدت کا زلزلہ آیا۔ دارالحکومت ٹوکیو سمیت کئی شہروں میں اس کا اثر دیکھا گیا۔ جاپان کے میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ نے صرف ایک لائن کے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے ملک کے شمال مشرقی علاقے میں سونامی کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ دارالحکومت ٹوکیو میں بھگدڑ کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ بدھ کو ہی ہندوستان کے لداخ میں 5.2 شدت کا زلزلہ آیا۔ یہاں کسی قسم کے نقصان کی کوئی خبر نہیں ہے۔
https://twitter.com/plana_journ/status/1504106714001457154
میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلے کا مرکز فوکوشیما کے علاقے میں تقریباً 60 کلومیٹر گہرائی میں تھا ۔ اس کے بعد عوام کے لیے خصوصی ایڈوائزری جاری کی گئی۔ جاپان کے وقت کے مطابق رات 11 بج کر 36 منٹ پر زلزلہ آیا۔ اس دوران زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں موجود تھے۔
ابھی تک کسی نقصان کی کوئی خبر نہیں ہے۔ کچھ سمندری علاقوں میں لہریں ایک میٹر تک اٹھ گئیں۔ جاپان ٹائمز کے مطابق تقریباً 20 لاکھ گھر بجلی سے محروم ہو چکے ہیں۔ بعض علاقوں میں خطرے سے بچنے کے لیے بجلی کی سپلائی کاٹ دی گئی۔
#WATCH Biggest earthquake in Japan since 2017.
It just happened few minutes ago#Japan #Earthquake #tokyo https://t.co/dv3h53xkED— Ravi Ranjan (@Ravi_Ranjan35) March 16, 2022
جاپانی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوکوشیماجوہری پلانٹ کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ 11 سال قبل آنے والے زلزلے میں اسے بری طرح نقصان پہنچا تھا۔ اس وقت زلزلے کی شدت 9.0 تھی۔ جاپان میں اکثر زلزلے آتے ہیں، کیونکہ یہ Ring of Fire کے علاقے میں واقع ہے۔ یہاں گھروں اور بڑی عمارتوں کا ڈیزائن اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ زلزلے کے بڑے جھٹکے برداشت کر سکیں۔ 2011 کے زلزلے اور سونامی میں تقریباً 19,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ فوکوشیما نیوکلیئر پلانٹ کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
