ہندوستان کے آئین اور عدالت کے فیصلوں پر پورا بھروسہ ۔مسکان خان کا بی بی سی کو خصوصی انٹرویو
نئی دہلی :10؍فروری
(زین نیوز)
کرناٹک کے حجاب تنازعہ کی بازگشت اب ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی سنائی دے رہی ہے۔ مہاراشٹر، مغربی بنگال، نئی دہلی اور تلنگانہ سمیت کئی ریاستوں میں مسلم طلباء نے حجاب کی حمایت میں مظاہرے جاری ہیں۔
وہیں نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے بھی اپنا ردعمل دیا ہے۔یوسف زئی نے بغیر حجاب کے اداروں میں داخلے کی اجازت نہ دینے کے تنازعہ پر کھل کر بات کی ہے اور کہاہے کہ یہ خوفناک ہے۔ ملالہ نے ٹویٹ کیا کہ لڑکیوں کو حجاب میں اسکول جانے سے روکنے کو خوفناک قرار دیا ہے
اس سب کے درمیان حجاب میں ملبوس لڑکی مسکان ان دنوں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔
اللہ اکبر کے نعرے کے ساتھ مسکان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں بی بی سی نیوز نےمسکان سے ایک خصوصی انٹرویو لیا ہے
بی بی سی کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مسکان نے کہا کہ وہ معمول کے مطابق کالج پہنچ گئیں۔ بہت سے لوگ ایک گروپ بنا کر وہاں کھڑے تھے۔ اس دوران گروپ میں کھڑے لوگ برقعہ اتارنے کے نعرے لگا رہے تھے جس کے جواب میں مسکان نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔
میں ڈر گئی تھی۔مسکان نے بتایا کہ وہ اتنے سارے لوگوں کو دیکھ کر ڈر گئی، اس نے بتایا کہ جب بھی ڈرتی ہے تو اللہ کا نام لیتی ہے، اس سے اس کا خوف دور ہو جاتا ہے۔ اسے ہمت ملتی ہے۔ اس نے بتایا کہ ہر کوئی زعفرانی رنگ کے کپڑے لہرا رہا تھا اور اسے حجاب اتارنے کو کہہ رہا تھا۔مسکان نے بتایا کہ حجاب ہمارا تحفظ کا ضامن ہے اور ہمارا حق ہےبنیادی طورپر ہمیں تحفظ فراہم کرتا ہے۔

مسکان نے بی بی سی کو بتایا کہ باہر سے لوگ کالج میں ہنگامہ برپا کر رہے ہیں، کالج کے زیادہ تر طلباء اس میں ملوث نہیں ہیں ۔ جبکہ کالج کی پرنسپل اور دیگر اساتذہ نے کہا ہے کہ وہ پہلے کی طرح کالج آ سکتی ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ حجاب پہننا چاہیے یا نہیں، مسکان نے کہا کہ بالکل حجاب پہننا چاہیے۔

س کے ساتھ ہی حجاب اور اس کی منظوری کے حوالے سے جاری تنازعہ کے بارے میں مسکان نے کہا کہ انہیں ہندوستان کے آئین اور عدالت کے فیصلوں پر پورا بھروسہ ہے۔ ہم سب کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر عدالت کا فیصلہ حجاب کے خلاف آیا تو آپ کیا کریں گی تو مسکان کا کہنا تھا کہ انہیں عدالت اور آئین پر مکمل اعتماد ہے، وہ کسی مذہب کے خلاف نہیں ہیں۔
