بارش کا پانی تعلیمی اداروں سرکاری دفاتر ،سرکاری اسپتال میں داخل
دیوبند،7؍ستمبر
(رضوان سلمانی)
گذشتہ دیر رات سے صبح سویرا تک ہونے والی زبردست بارش سے شہری،دیہی علاقوں کے علاوہ سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں پانی بھر گیا ہے۔بارش کی وجہ سے کھیت سے بھرے پڑے ہیں وہیں اتراکھنڈ وجھبریڑہ کو جوڑنے والی سڑک پانی سے بھری پڑی ہے جس کے باعث درجنوں دیہی علاقوں کو جوڑنے والا روڑ دیوبند مقبرہ روڑ اور تلہڑی خورد روڑ جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ جانے کی وجہ سے آمد ورفت دشوار ہوگئی ہے۔
منگل کی صبح تک 70؍ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی مجموعی طور پر ایک ہفتہ میں155؍ایم ایم بارش ہونے سے شہر اور دیہی علاقے پانی سے بھر گئے ہیں اور چاروں طرف کھیتوں میں بھی پانی ہی پانی نظر آرہا ہے۔گاؤں مانکی سے تلہیڑی خورد کو ملانے والی سڑک کا تقریباً25؍میٹر حصہ زمین میں دھنس گیا ہے جس کی وجہ سے آمد ورفت بند ہوگئی ہے اسلئے اس روٹ پر واقع تمام گاؤں سے رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔
دوسری جانب دیر رات سے ہونے والی زبردست بارش کی وجہ سے بی بی پور گاؤ ں کے باشندہ شیام سنگہ کا کچا مکان زمیں بوس ہوگیا ہے لیکن مکان کے گر جانے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن مکان کے ملبہ میں سامان دب گیا۔اس کے علاوہ جگہ جگہ پانی بھر جانے کی
وجہ سے سدیووبند کے سرکاری اسپتال میں مریضوں کو آنے جانے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور کارپریشن آفس میں بھی ایک ایک فٹ اونچائی تک پانی بھر گیا ہے جس کی وجہ بل جمع کرنے والوں کو متعلقہ ونڈو تک پہنچنے میں دشواری ہورہی ہے۔
دارالعلوم کے قریبی علاقوں محلہ دیوان،بڑضیاؤ الق،مدنی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ ،مدنی آئی اسپتال،پبلک گرلز انٹر کالج اور مزار قاسمی میں ایک مرتبہ پھر بہت زیادہ مقدار میں پانی بھر گیا ہے۔اداروں کے ذمہ داران سہیل صدیقی،نوشاد احمد،اسرار احمد،فیضی صدیقی اور مزار قاسمی کے سکریٹری محمد انس صدیقی نے میونسپل بورڈ کے چیئرمین،ای او اور دیوبند کے ایس ڈی ایم سے مطالبہ کیا ہے کہ ان مقامات سے پانی نکاسی کا فوری طور پر بندوبست کیا جائے۔
مانکی کے پردھان نے الزام عائد کیا ہے کہ جگہ جگہ کھدائی کئے جانے کی وجہ سے پانی بھرا ہے اور جگہ جگہ سے سڑکوں پر بھی درار پڑ گئی ہیں۔انہوں نے پی -ڈبلیو – ڈی سے فوری طور پر ٹوٹی سڑکوں کو درست کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
