حیدرآباد۔24؍اگسٹ
(پریس نوٹ)
ریاست کی مختلف یونیورسٹیز کے ملازمین بالخصوص یونیورسٹی پروفیسرس ان دنوں اپنے وظیفہ کی حد عمر میں اضافہ کے احکامات کابے چینی سے انتظار کررہے ہیں ۔ریاست میں گزشتہ مارچ سے لے کر اب تک 20 ملازمین اپنی حد عمر کے تکمیل کے بعد وظیفہ حسن خدمات پر سبکدوش ہوئے ہیں ۔
ایونیورسٹی پروفیسر س ن دنوں اپنی وظیفہ کی حد عمر میں اضافہ کی امید کے ساتھ وزراء اور عہدیداروں کے یہاں چکرلگا رہے ہیں جس کی امید میں وہ وظیفہ اور اس کے فوائدکی خاطر درخواست دینے سے گریزاں ہیں ۔اس سے یہ تمام ملازمین مالی مشکلات میں گھیر گئے ہیں ۔حالیہ دنوں ریٹائرڈ پروفیسر نائیڈو اشوک نے افسوس کے ساتھ کہا کہ یو جی سی کی تنخواہیں حاصل کر نے والے ڈگری کالج کے ٹیچرس کے بشمول ریاست میں 10لاکھ سرکاری ملازمین کے وظیفہ کی حد عمر میں اضافہ کرتے ہوئے صرف یونیورسٹی پروفیسرس کو نظر انداز کرنے کو ناانصافی سے تعبیرکیا اور کہا کہ یو جی سی قواعد کے مطابق2008میں یونیورسٹیز کے ملازمین کے وظیفہ کی حد عمر 65 سال مقرر کی گئی تھی جس پر ملک کی مختلف ریاستوں میں عمل کیا جارہا ہے۔

ہماری ریاست میں بھی حد عمر میں اضافہ کیلئے سابق وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی پروفیسر تروپتی راؤ کی زیر قیادت حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ مذکورہ کمیٹی نے مختلف امور کا جائزہ لیتے ہوئے وظیفہ کی حدعمر کو بڑھاکر 65 سال کرنے کی 2017ء کو حکومت نے ایک سفارش پیش کی تھی مگر پروفیسر نائیڈو اشوک نے مایوسی ظاہر کی کہ حکومت اس رپورٹ کے تئیں عدم سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیز میں پروفیسرس کی تعداد میں کمی پر جہاں ایک طرف طلبہ کی تعلیم پر منفی اثر پڑھے گاوہیں ریسرچ کا میدان بھی مفلوج ہوکر رہے جائیگا۔اعلیٰ تعلیم کے فنڈ‘ یو جی سی اسکیمس‘ناک اور این بی اے جیسی مسلمہ حیثیت بھی حاصل نہیں ہوسکے گی۔انہوں نے چیف منسٹر مسٹر کے چندشیکھرراؤ سے مانگ کی کہ وہ ریاست کے دیگر ملازمین کی طرح یونیورسٹیز پروفیسرس کے بھی وظیفہ کی عمر میں اضافہ کرے۔
