عدالت کا حکم – روس یوکرین میں فوجی آپریشن بند کرے۔
آئی سی جے کے احکامات کی تعمیل نہ کرنے کی صورت میں ر وس عالمی سطح پر مزید تنہا ہو جائے گا
نئی دہلی :17؍مارچ
(اے ایم این ایس)
انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس‘ عالمی عدالت انصاف(آئی سی جے) کے فیصلے میں روس کو یوکرین پر حملے کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے بھارت کے جج دلویر بھنڈاری نے بھی روس کے خلاف ووٹ دیا۔ بھنڈاری نے یوکرین میں روسی کارروائیوں پر اپنے خیالات کی بنیاد پر روس کے خلاف ووٹ دیا۔
In a 13-2 decision which means 13 voters were in favour of the direction to Russia, while 2 were against. Indian judge at the UN court Justice Dalveer Bhandari voted in favour of the majority, against Russia.
( Ukraine v. Russian Federation ) pic.twitter.com/IyBrLW2HTE— Desi Kaanoon (@DesiKaanoon) March 17, 2022
یوکرین کے معاملے پر ان کا آزادانہ اقدام بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کے سرکاری موقف سے مختلف ہے۔ بھارت نے اقوام متحدہ میں یوکرین-روس کے معاملے پر ووٹنگ سے گریز کیا ہے اور اس مسئلے کو سفارتی بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔
آئی سی جے نے ماسکو سے کہا کہ وہ یوکرین میں اپنی فوجی کارروائی کو دو کے مقابلے میں 13 ووٹوں سے معطل کرے۔ آئی سی جے نے اپنے حکم میں کہا، "روسی فیڈریشن فوری طور پر ان فوجی کارروائیوں کو معطل کر دے جو اس نے 24 فروری 2022 کو یوکرین کے علاقے میں شروع کیے تھے۔”
Today’s ruling of the International Court of Justice @CIJ_ICJ requiring the Russian Federation to “immediately suspend the military operations” in Ukraine fully reinforces my repeated appeals for peace.
This war must stop. https://t.co/BK1pwvmMUT
— António Guterres (@antonioguterres) March 16, 2022
عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سےچہارشنبہ جو اہم فیصلہ سنایا ہے۔ آئی سی جے نے روس کو حکم دیا ہے کہ وہ یوکرین سے اپنی فوجی کارروائیاں فوری طور پر روک دے۔ فیصلہ سنانے والے ججوں میں ایک بھارتی جج دلویر بھنڈاری بھی شامل ہے۔
بھارت نے اقوام متحدہ میں یوکرین-روس کے معاملے پر ووٹنگ سے گریز کیا ہے اور اس مسئلے کو سفارتی بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔
یوکرین نے آئی سی جے میں اپیل کی تھی،
اقوام متحدہ کی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ 15 ججوں کے ووٹ کے بعد دیا، جس میں 13 ججوں نے روس کے خلاف اور 2 ججوں نے روس کے حق میں ووٹ دیا۔ یوکرین نے 24 فروری کو روسی حملے کے بعد عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا تھا۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کو جنگ کا ذمہ دار ٹھہرانے کا مطالبہ کیا۔
Ukraine v Russia: International Court of Justice (ICJ) to deliver its verdict on provisional measures sought by Ukraine against Russia #Ukraine #UkraineWar #RussiaUkraineWar #RussiaUkraineCrisis #ICJ pic.twitter.com/cEi6TjeJnF
— Bar and Bench (@barandbench) March 16, 2022
ججوں نے روس کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی حمایت کرنے والی دیگر قوتیں یوکرین میں فوجی کارروائیاں نہ کریں۔ اگرچہ اس عدالت کے فیصلے پابند ہیں لیکن اس کے احکامات پر عمل درآمد کرانے کا کوئی نظام عدالت کے پاس نہیں ہے۔ ماضی میں ایسے بہت سے معاملات سامنے آئے ہیں جب ممالک نے آئی سی جے کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔
اقوام متحدہ کا ادارہ ہونے کی وجہ سے رکن ممالک عام طور پر عدالت کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔ اگر فیصلہ قبول نہ کیا گیا تو آئی سی جے سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں متعلقہ ملک پر دباؤ ڈالتا ہے۔
تاہم، چین جیسے ممالک جن کے پاس ویٹو پاور ہے اکثر آئی سی جے کے احکامات کی تعمیل نہیں کرتے۔ روس یو این ایس سی کا مستقل رکن بھی ہے اور اسے ویٹو پاور بھی حاصل ہے۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ آئی سی جے کے اس فیصلے پر روس کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔
Ukraine gained a complete victory in its case against Russia at the International Court of Justice. The ICJ ordered to immediately stop the invasion. The order is binding under international law. Russia must comply immediately. Ignoring the order will isolate Russia even further
— Volodymyr Zelenskyy / Володимир Зеленський (@ZelenskyyUa) March 16, 2022
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے عالمی عدالت انصاف کے اس فیصلے کو بڑی فتح قرار دیا ہے۔ زیلنسکی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ یوکرین نے آئی سی جے میں روس کے خلاف مکمل فتح حاصل کی ہے۔ آئی سی جے نے حملے کو فوری طور پر روکنے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم بین الاقوامی قانون کے تحت پابند ہے۔
روس کو اس پر فوری عمل کرنا چاہیے۔ اس حکم کو نظر انداز کرنے سے روس عالمی سطح پر مزید تنہا ہو جائے گا۔
