نئی دہلی : 9؍جولائی
(زیڈ این ایم ایس)
سری لنکا میں معاشی بحران سے تنگ مظاہرین نے ہفتہ کے روز صدر گوتابایا راجا پاکسے کی سرکاری رہائش گاہ پر قبضہ کر لیا جس کے بعد صدر راجا پاکسے اپنی رہائش گاہ سے فرار ہو گئے۔ دفاعی ذرائع نے صدر راجا پاکسے کے فرار ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ڈیلی مرر کے مطابق، پولیس نے ہفتہ کی صبح مظاہرین کو صدارتی رہائش گاہ میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور پانی کی توپیں اور گولیاں چلائیں۔
تاہم مظاہرین رکاوٹیں توڑ کر صدارتی رہائش گاہ میں داخل ہو گئے۔ صدر گوتابایا نے کولمبو میں احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی احاطے کو خالی کر دیا تھا۔ ریلی کے دوران سری لنکا کی پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ پرتشدد جھڑپوں میں 100 سے زائد مظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ زخمیوں کو نیشنل ہسپتال کولمبو لے جایا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی مظاہرین نے رکن پارلیمنٹ راجیتا سینارتنے کے گھر پر بھی حملہ کیا۔ بتادیں کہ اس سے قبل 11 مئی کو اس وقت کے وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے پورے خاندان کے ساتھ فرار ہو گئے تھے۔ ایک مشتعل ہجوم نے کولمبو میں راجا پاکسے کی سرکاری رہائش گاہ کو گھیر لیا۔
دوسری جانب سری لنکا کے وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے نے پارٹی رہنماؤں کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور فوری حل تلاش کیا جائے گا۔ وزیر اعظم وکرما سنگھے نے اسپیکر سے پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کی اپیل کی ہے۔ ایک خط میں، سری لنکا پوڈوجانا پیرامونا (SLPP) کے 16 ایم پیز نے صدر گوتابایا راجا پاکسے سے فوری طور پر مستعفی ہونے پر زور دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کولمبو میں صدر کی رہائش گاہ کو مظاہرین نے دوپہر کو گھیرے میں لے لیا
اس کے بعد مظاہرین نے راجا پاکسے کی سرکاری رہائش گاہ پر بھی توڑ پھوڑ کی اور رہائش گاہ پر قبضہ کر لیا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ سری لنکا میں بگڑتے معاشی بحران کے درمیان صدر گوٹابایا راجا پاکسے کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے آج ایک حکومتی احتجاجی ریلی جاری ہے۔
سری لنکا میں جمعہ کو غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ فوج کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ پولیس چیف چندنا وکرمارتنے نے کہا کہ دارالحکومت اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں جمعہ کی رات 9 بجے سے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ہزاروں حکومت مخالف مظاہرین جمعہ کو کولمبو میں داخل ہوئے جس کے بعد کرفیو کا فیصلہ کیا گیا۔
جمعے کے روز پولیس نے کرفیو نافذ کرنے سے پہلے کولمبو میں طلباء مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور پانی کی توپیں چلائیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں میں مذہبی رہنما، سیاسی جماعتیں، اساتذہ، کسان، ڈاکٹر، ماہی گیر اور سماجی کارکن شامل ہیں
