ایام قربانی میں اپنے محلوں، گلیوں اور علاقوں میں صفائی ستھرائی کا خیال رکھا جائے: سید عقیل حسین میاں
دیوبند، 4؍ جولائی
(رضوان سلمانی)
عیدالاضحی کا تہوار کے قریب آنے کے ساتھ ہی اس کی تیاریوں کاسلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے ، آسمان چھوتی مہنگائی کے باوجود فرزندان توحید کے اندر قربانی کے تئیں جذبہ قابل دید ہے۔ اس سلسلہ میںمدرسہ تعلیم القرآن (پرانا اصغریہ) کے مہتمم سید عقیل حسین میاں نے اپنے بیان میںکہا ہے کہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایام قربانی میں قربانی سے زیادہ پسندیدہ عمل اللہ پاک کی نگاہ میں کوئی اور نہیں ہے، کسی طرح کا بھی صدقہ و خیرات قربانی کا بدل نہیں بن سکتا؛ اس لئے واجب قربانی کے ساتھ ساتھ اللہ وسعت دیں تو مرحومین یا اپنے نابالغ بچوں کی جانب سے نفلی قربانی کا بھی اہتمام کریں۔
سید عقیل حسین میاں نے کہا کہ قربانی کا جانور اور اس کے جسم کا ہرہر جزء قابل احترام ہے، اس لئے اس بات کا پورا لحاظ رکھا جائے کہ قربان ہونے والے جانور کے جسم کا کوئی بھی حصہ چاہے وہ قابل استعمال ہو یا نہ ہو کوڑیوں پر نالیوں میں سڑکوں کے کنارے یا نا مناسب جگہوں پر بالکل دکھائی نہ دے حتی کہ ذبح کے وقت جو خون بہتا ہے اس کو بھی گڑھا کھود کر دبانے کی کوشش کی جائے اور اگر پختہ زمین میں قربانی ہورہی ہو تو خون کو کسی بڑے برتن میں جمع کرکے دفنانے کا انتظام ہونا چاہئے، ذرا سوچئے اللہ کے نام پر ذبح کئے گئے جانور کا خون اگر گندی نالیوں میں بہے یا اس کے جسم کے اعضاء اگر کوڑیوں پر پڑے ملیں تو یہ کیسی بے توقیری اور نامناسب بات ہوگی، اللہ پاک ہمیں معاف فرمائیں۔
عمومی مقامات اور کھلی جگہوں پر قربانی کرنے سے حتی الا مکان بچا جائے اگر کوئی آڑ نہ ہو تو شامیانہ وغیرہ باندھ کر قربانی کے عمل کو انجام دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایام قربانی میں بالخصوص اپنے محلوں، گلیوں اور علاقوں میں صفائی ستھرائی کا بھرپور خیال رکھا جائے، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہماری کسی بد احتیاطی کی وجہ سے دوسروں کو قطعاً کوئی تکلیف نہ ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسروں کو اذیت دینے کی وجہ سے ہم قربانی کے ثواب ہی سے محروم نہ ہوجائیں۔سید عقیل نے کہا کہ مدارس اسلامیہ امت کا قیمتی اثاثہ اور حفاظت اسلام کے مضبوط قلعے ہیں ان کی بقا، ضروریات کا تکفل اور ترقی کی فکر ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،
عید الاضحی کے موقع پر چرم قربانی کی فروختگی کے ذریعہ خاصی آمدنی مدارس کی ہوجایا کرتی تھی، لیکن گذشتہ چند سالوں سے کھالوں کی قیمت میں غیر معمولی گراوٹ کی وجہ سے نفع کی امید معدوم ہوگئی ہے۔ اس لئے گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی ہم امت کے غیرت مند افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہرحصہ کے ساتھ کم از کم سو روپئے کے ذریعہ علاقائی مدارس کا تعاون کریں، جن لوگوں پر قربانی واجب نہیں وہ بھی کم از کم اس کار خیر میں حصے دار بننے کی کوشش کریں، قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے، آپ حضرات کا انفرادی اعتبار سے یہ معمولی سا تعاون عند اللہ مقبول ہوگا ان شاء اللہ اور مجموعی اعتبار سے مدارس کے لئے بڑے نفع کا باعث ہوگا اور ان کی دینی ضروریات کے پورا ہونے کا ذریعہ بنے گا۔
قربانی کے ایام کے دوران اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی سب سے زیادہ پسندیدہ عمل ہے، قربانی کا کوئی بدل نہیں ہے اور یہ جذبہ اور اخلاص اللہ اور بندہ کے رشتہ کو مستحکم بناتا ۔ انہوں نے کہاکہ قربانی کے دوران دوسرے مذاہب کے لوگوں کے جذبات کا خاص خیال رکھا جائے،حکومتی گائیڈ لائن پر عمل کیا جائے اور سوشل میڈیا پر قربانی کے متعلق تصاویر وائرل نہ کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قربانی حضرت ابراہیم علہ السلام کی سنت ہے جو ہمارے نبی کی طرف سے ہمارے پاس پہنچی ہے ، جو لوگ قربانی کا متبادل تلاش کرنے میں لگے ہیں اور طرح طرح کی تاویلیں پیش کررہے ہیں وہ سراسر غلط ہیں، کیونکہ قربانی کا بدل قربانی ہی ہے،
اگر کوئی شخص صدقہ،یا غریبوں، مسکینوں اور ضروتمندوں کی مدد کرنا چاہتاہے وہ ان کی مدد کرے لیکن اس کا شمار قربانی میں نہیں ہوگا اور اس طرح کے عمل کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسلئے ہر صاحب حیثیت شخص قربانی کرے۔انہوں نے کہا کہ قربانی خالص اللہ کے لئے اخلاص اور للہیت کے ساتھ کیا گیا عمل ہے ،یہی وہ عمل ہے جس سے مالک اور بندہ کا رشتہ مزید مستحکم ہوتاہے۔قربانی کے بعد غریبوں کو ان کا حصہ اور متعلقین کو ان کا حصہ پہنچائیں۔انہوں نے کہا کہ دوسروں کے جذبات کا پوری طرح احترام کرنا چاہئے کیونکہ اچھے اخلاق ہی مسلمان کی پہلی شناخت ہے۔
