حیدرآباد51؍جنوری
(حافظ محمد ادریس مصباحی)
سارے عالم میں مدارس مساجد خانقاہوں کا دینی اصلاحی نظام اللہ کی رحمت کی بڑی نشانی ہے جہاں علم حاصل کرنے والے علماء حفاظ اپنی پوری زندگی قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنے اور علم دین کو فروغ دینے میں لگا دیتے ہیں اور کم تنخواہوں پر پوری زندگی گزارا کرتےہیں جبکہ انکے پاس فوری طور پر کسی بھی خوشی یا غم کے موقع پر بھی خوشی کا اظہار کرنے اور اسی طرح غم کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہونے کیلئے کوئ مالی سہولت بھی نہیں ہوتی جو اللہ اور رسولﷺ کی تعلیمات کا حصول معمولی پھٹی سلی چٹائیوں پر کرتے ہیں اور پوری جوانی اسلامی تعلیمات سیکھنے اور سکھانے میں لگادیتے ہیں جبکہ علماء وحفاظ اپنے دلوں میں وہ جذبہ رکھتے ہیں کہ اگر وہ خود کفیل بن جائیں تو اجرت پر کوئ دینی خدمت نہ کریں بلکہ اپنے حیثیت کے مطابق معلمانہ کردار کے ساتھ مالی اعتبار سے بھی اپنے اداروں اور ملت کے نونہالوں کیلئے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ آج وہ اتنی کم تنخواہوں پر گزارا کرتے ہیں جس سے وہ تین وقت کی روٹی اپنے بچوں کو کھلا سکیں اور اس زمیں پر مسلمانوں کا ایک بڑا حصہ اپنے ذہنوں میں علماء اور حفاظ کیلئے اپنے سینوں میں انکے اچھے لباس اور اپنی خوش اختیار زندگی پر بدگمانی دلوں میں حسد اور زبان پر بغض اور نظروں میں حسد رکھتاہے جبکہ شہر حیدرآباد کے بزرگ عالم دین مولانا عاقل ؒ فرماتے تھے سب اعلی لباس سب سے بہتر گاڑی اور ہر طرح کی عمدہ سہولتوں کا حقدار عالم حافظ مسجد کا امام ہے۔ چونکہ صرف دینی علم کے حصول کیلئے انکی طرح قربانیوں کی راہ پہ چلنے والا کوئ مسلمان نہیں اللہ تعالی روز محشر میں جہاں ہر شخص بے یارومددگار ہوگا ایسے ماحول میں علماء ائمہ اور مؤذنین کو الگ مقام پر رکھیں گے اور عام لوگوں سے قبل جنت میں داخلہ کی خوشخبری دینگے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا حافظ محمد ریاض احمد قادری حسامی ناظم مدرسہ اسلامیہ ریاض العلوم فلک نما حیدرآباد میں نماز جمعہ سے قبل مسجد محمودہ میں اپنے خطاب میں کیا۔ مولانا نے علماء کی قربانیوں کو عوام کے سامنے رکھتے ہوئے علماء سے گزارش کی کہ علماء بھی اپنے دل کو ہر ایک کیلئے وسیع کرلیں چونکہ شریعت کا مزاج نرمی ہے اسی طرح ہم پر لازم ہے کہ ہم ہر دوسرے کا ادب کریں چونکہ موجودہ دور میں مذہب کو لیکر تعصب رکھنے یا پیدا کرنے کی کوئ گنجائش نہیں ہے اپنی ذات کیلئے اپنے عقائد اور مذہب پر عمل پیرا رہنے میں کوئ حرج نہیں لیکن دوسروں پر مسلط کرنا یا شدت اختیار کرنا اس دور میں مزید امت کو دین سے دور کر رہاہے مسلمان بچوں نوجوانوں اور بزرگوں میں ایک بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہمیں ملینگے جنہیں کلمہ طیبہ صحیح طور پر پڑھنا بھی نہیں آتا لہذا یہ وقت کا اہم تقاضہ ہے کہ ہم اتحاد قائم کریں مولانا نے علامہ اقبال ؒ کے ایک شعر کے مفہوم میں کہا اگر ہمیں دنیا میں کچھ کرنا ہے تو سب سے پہلے اپنا یقین بنائیں پھر محنت کریں اور محبت اختیار کریں یہی ہماری تلواریں ہیں باطل کے خاتمہ کیلئے مولانا نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسی نسل چھوڑکر مرنا ہے جن کے ذریعہ یہ امت اور ہمارے خاندانوں میں ہمارے نبی ﷺ جیسے اخلاق ہو جن میں نفرت نہ ہو وہ محبت کے پیغام کو عام کرنے والے ہوں۔
