حیدرآباد۔3جنوری
زین نیوز ڈسک
کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے آج مغربی بنگال کے ضلع ہوگلی میں بنگال کے بااثر عالم مولانا عباس صدیقی سے ان کی قیام گاہ پر ملاقات کی۔ اس ملاقات کو مغربی بنگال میں 2021میں مقرہ اسمبلی انتخابات سے قبل ایک بڑی تبدیلی کی حیثیت سے دیکھاجارہا ہے۔ مولانا عباس صدیقی مشہور مذہبی مقام فور فورا شریف سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے قبل ازیں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں چیف منسٹر ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس ( ٹی ایم سی) سے مقابلہ کے لئے خود کی اپنی پارٹی قائم کرینگے۔ مولانا عباس صدیقی نے گذشتہ چند مہینوں میں کئی پروگرام منعقد کئے جن میں عوام کی قابل لحاظ تعداد نے شرکت کی۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے جنہوں نے بنگال انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے آج کہا کہ وہ مولانا صدیقی کی پشت پناہی میں انتخابات لڑینگے اور ان کے مشورے پر عمل کریںگے۔ بیرسٹر اسد اویسی نے کہا ’’ ہم ان کی تائید کریںگے‘ ان کے پشت پناہ ہونگے اور ان کے مشورہ اور منصوبہ کے مطابق عمل کرینگے‘‘۔ اس طرح صدر مجلس نے یہ بات واضح کردی کہ وہ مولانا صدیقی کی قیادت میں انتخابات میں مقابلہ کریںگے۔ مغربی بنگال میں 2021 میں مقررہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان کے بعد بیرسٹر اسد اویسی کی بنگال میں یہ پہلی تنظیمی میٹنگ تھی۔ بات چیت میں مولانا عباس صدیقی کے علاوہ ان کے رشتہ داروں نوشاد صدیقی‘ بایزید امین اور صابر غفار بھی موجود تھے۔فور فورا شریف کیلئے ریاست میں اے آئی ایم آئی ایم کے سینئر آرگنائزر عمران سولنکی بھی بیرسٹر اسد اویسی کے ہمراہ تھے۔ بنگال میں اے آئی ایم آئی ایم کی ہنوز کوئی باضابطہ ریاستی کمیٹی نہیں ہے لیکن بیشتر اضلاع میں اس کی ٹیمیں اور آرگنائزرس ہیں۔ تاہم ٹی ایم سی نے کہاکہ اویسی اور صدیقی کے درمیان ملاقات ایک معمولی واقعہ ہے۔ ممتا بنرجی کابینہ میں لائبریری اور ماس ایجوکیشن اکسٹنشن کے وزیر صدیق اللہ چودھری نے جو جمعیتہ العلماء ہند کے ریاستی یونٹ کے صدر بھی ہیں کہاکہ دونوں کے ہاتھ ملانے سے ٹی ایم سی کے انتخابی امکانات کو نقصان نہیں پہونچے گا۔ صدیق اللہ چودھری نے کہاکہ بنگال کو اے آئی ایم آئی ایم کی ضرورت نہیں ہے۔ بی جے پی سے نمٹنے کے لئے ہم کافی ہیں۔ ممتابنرجی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی تمثیل ہیں۔ مسلمان بیوقوف نہیں ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ممتا بنرجی نے مسلم طبقہ کے لئے کیا کیا ہے۔ کس طرح حکومت نے سی اے اے ‘این آر سی اور این پی آر کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔
