دیوبند، 14؍ مارچ
(رضوان سلمانی)
دارالعلوم دیوبند کے سابق شیخ القراء مولاناقاری ابوالحسن اعظمی کی کتاب ’’نگارشات اور میرے قلبی تأثرات‘‘ کا اجراء علماء کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس موقع پر پروگرام کی صدارت کررہے قاری ابوالحسن اعظمی نے کہا کہ معروف عالم دین مولانا ندیم الواجدی اور معروف ادیب مولانانسیم اختر شاہ قیصر کی رعنائیاں اور توانائیاں روز مختلف عنوانات کے ساتھ سامنے آتی ہیں ، ہر موضوع اور عنوان کو انہوںنے جلا بخشی ہے اور گزشتہ 50سال سے ان کا قلم کاغذ سے اپنے رشتوں اور مضبوط تعلق کو قائم رکھے ہوئے ہیں ۔
دونوں حضرات کے مضامین نے دل پر جو خوشگوار تأثر قائم کیا ، اسی کا اظہار یہ میری کتاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’فکرِ انقلاب‘‘ دہلی نے اتنے ضخیم اور وقیع نمبرات شائع کئے ہیں کہ ہمارے حلقہ میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ آل انڈیا تنظیم علمائے حق کے صدر مولانا اعجاز عرفی نے اس سمت میں جو محنت اور جدوجہد کی ہے وہ لائق ذکر ہیں ۔
اپنی اسی تنظیم کے تحت انہوں نے یہ گراں قیمت اور بیش بہا نمبرات پیش کئے ہیں،فکر انقلاب کا نیا شمارہ اکابر دارالعلوم دیوبند جلد دوم کی صورت میں منظر عام پر آیا۔ اس شمارے میں مولاناندیم الواجدی مدیر اعلیٰ ترجمان دیوبند کے 22مضامین اور معروف ادیب مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کے 6مضمون شامل ہیں ، ان دونوں حضرات کے مضامین پر میں نے اپنے دلی تأثرات پیش کئے ہیں اور اپنے خامۂ اثر سے ان مضامین کی خوبیوں اور امتیازات کو اُبھارا اور پیش کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا ندیم الواجدی کے ان مضامین میں حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب ؒ، مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندویؒ ، امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانیؒ ، مسیح الملت مولانا مسیح اللہ خاں ؒ ،مولانا حامدالانصاری غازیؒ ، مولانا احمد حسنؒ ، مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ، مولانا قاری صدیقی باندویؒ ، مولاناسید محمد ازہر شاہ قیصرؒ ، سید محبوب رضویؒ، مولانا وحیدالزماں کیرانویؒ وغیرہ جیسی علم وعمل اور قرطاس وقلم کی مالک شخصیات پر بھرپور اندازمیں روشنی ڈالی گئی ہے، تمام 22حضرات کے کاموں اور خدمات کو اُجاگر کیا گیا ہے، اسی طرح مولانانسیم اختر شاہ قیصر نے مفکر ملت مفتی عتیق الرحمن ؒ ،مولانا حامدالانصاری غازیؒ ، مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندویؒ ، مولانا نور عالم خلیل الامینیؒ، مولانا شاہین جمالیؒ، امیر شریعت مولانا ولی رحمانیؒکی مقناطیسی شخصیات خامہ فرسائی کی ہے ۔
دونوں حضرات کی قلم وقرطاس سے وابستگی قدیم ہے اور دونوں ہی نے اپنے مخصوص اسلوب اور انداز میں ان شخصیات کے خدوخال نمایاں کئے ہیں۔ اس دوران معروف عالم دین مولانا ندیم الواجدی اور مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے مشترکہ طو رپر کہا کہ مولانا قاری ابوالحسن اعظمی نے فکر انقلاب میں شائع ہونے والے ہمارے مضامین پر جن خوبصورت اور فکرانگیز تأثرات کا اظہار کیا ہے اور جس طرح ہماری پذیرائی اور حوصلہ افزائی کی ہے اس کے لئے ہم ان کے ممنون ہیں۔
قاری صاحب کو دیدۂ معتبر حاصل ہے اور انہوں نے جس زاویہ سے ہمارے مضامین کا انتخاب کیا ہے وہ ان کے حسن نظر کا کمال ہے۔ ان کی تحریروں نے جو انہوں نے ہرمضمون کے شروع میں لکھی ہیں اس سے مضامین کی قدر وقیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس حسن اخلاق اور اخلاص کے لئے ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ یہ ان کی محبتوں کی سوغات ہے جسے ہم ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
