نقاب میں بھی ہم نے انقلاب دیکھا ہے

تازہ خبر مضامین

مسکان خان کی جرات کو سو سلام
رشحات قلم :عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماءضلع نظام آبادتلنگانہ

گذشتہ چند برسوں سے ملک کے حکمرانوں اور حکومتی عہدوں پر فائز سیاسی لوگوں اور بعض ملکی وبیرونی تنظیموں کی جانب سے جو امن وامان والی فضاء کو مکدر کرنے اور اخوت وبھای چارگی کے ماحول کو ختم کرنے نیز آپسی شانتی وآشتی کو تباہ وتاراج کرنے کی بدنیتی سے نئے نئے قوانین کو لاگو کرنے اور اسلام ومسلمانوں پر ذہنی دباؤ بنانے کے لئےجو احکامات جاری کےء جارہے ہیں وہ عالم آشکارا ہے

جس پر روشنی ڈالنے یا کچھ لکھنے اور بولنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے بلکہ اس ملک کا رہنے والاہر باشندہ اس بات کو اور ان ذلیل وخسیس حرکات کو بچشم سر دیکھ رہاہے اور ملک میں ایک خاص ذہنیت اور مخصوص رنگ کو غالب کرنے کی ناپاک کوشش کو ہر عام وخاص محسوس کررہا ہے ملک میں سیاست اور اپنی قیادت کو باقی وبرقراررکھنے کے لےء مذہبی فرقہ واریت کو فروغ دے کر لڑاؤاورحکومت کرو کی فرنگی پالیسیوں کو روبہ عمل لانے کی مذموم پلاننگ کی جارہی ہیں

کبھی این آر سی تو کبھی طلاق کبھی مسجد ومندر تو کبھی اذان وآواز کبھی حجاب اور پردہ کو مدعی بناکر اس ملک کے رہنے والے ہندومسلم سکھ عیسای ودیگر طبقات کے درمیان ایک طرح سے نفرت کا ماحول بنایا جارہا ہے آپسی اتحاد وہم آہنگی کو منظم انداز میں نابود کرکے نفرت وعداوت کے بیج بوے جارہے ہیں لیکن ان شاء اللہ ان نفرت انگیز ہواؤں کا رخ موڑ کر پھر وہی امان والی فضاء کو عام کیا جاے گا ۔۔۔۔

خداسلامت رکھے ملک کی ان بنات حواء خواہ وہ کسی ذات اور طبقہ سے تعلق رکھتی ہوں یا کسی کالج ویونیورسٹی کی طالبات ہوں ۔جنہوں نے این آر سی کے موقع پر اپنی ہرچیزکو قربان کرکے میدان میں آئیں اور جگہ جگہ شاہین باغ کے نام سے دھرنے دییے اور اپنے آئینی حقوق کو منوایا یہاں تک کہ بندوق بردار لوگوں کی گولیاں بھی کھائیں اور سینہ سپر ہوکر ڈٹی رہیں

اسی طرح گذشتہ ایک ہفتہ سے کرناٹک میں حجاب اور برقعہ کو لے کر جو شور مچایا جارہا ہے اور جو ایک قسم کا سیاسی ناٹک کیا جارہا ہےجویقینا یوپی الیکشن کا ایک حصہ ماناجاے گا اور اپنے اسی سیاسی حربوں کو استعمال کرتے ہوے نفرتوں کو پروان چڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے راقم اس کی پرزور مذمت کرتا ہے اور اس مسئلہ کو جمہوریت کے لےء بدنماداغ تصورکرکے ایوانوں میں بیٹھے ذمہ داروں تک یہ بات پہونچانا چاہتا ہیکہ خدارا سونے کی چڑیا کو مٹی کی گڑیا نہ بناؤ کہ جب چاہو جدھر چاہو اور جیسے چاہو اس کو توڑ مروڑ کر مسل دیا جاے

اس ملک کی سب سے اچھی اور خوبصورت جمہوری تہذیب اور آئینی حقوق کو پامال نہ کرو محض اپنی سیاست وقیادت کو بچانے کے لےء ملک کی یکتا اور سندرتا کو داؤ پہ نہ لگاؤ۔۔۔۔۔

حجاب اس ملک کی رہنے والی ہر مسلم خاتوں کا مذہبی حق ہے اور دستور نے اس حوالہ سے ہر مذہب والوں کو اپنا اپنا مذہبی حق اور آزادی دی ہے جس کو آج گمبھیر مسئلہ بناکر ملک کی رسوای کا باعث بنایا جارہا ہے موجودہ واقعہ سے پہلے کبھی اس طرح کی سوچ کسی ہندوستانی کے ذہن وخیال میں نہیں آی جس سے معلوم ہوتا ہیکہ ملک کے ہر شعبہ سے متعلق کچھ لوگ ایک خاص قسم کا رنگ دینا چاہتے ہیں جو فرقہ پرستی اور تعصب کی آگ کو دہکا کر اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن میں سلام کرتا ہوں ان شیر دل اور شاہین صفت خواتین کو جنہوں نے دلی کے شاہین کا آغاز کرکے ملک کے کونہ کونہ میں عورتوں کے اندر حوصلہ وہمت پیدا کردی

جے این یو کی ان باوفا طالبات کو سلامی دیتا ہوں جنہوں نے پوری ہمت وشجاعت کے ساتھ فرقہ پرستی کے سامنے ڈٹے رہے اور دم توڑنے پرجبور کردیا اسی طرح کل کرناٹک کے مہاتماگاندھی کالج اوڑپی کی بہادر طالبہ مسکان خان کے جذبہ ایمانی کو سو سلام کرتا ہوں جس نے فرقہ پرستی کا جس جوانمردی وہمت کے ساتھ مقابلہ کیا اور منھ توڑ جواب دے کر ایک بار پھر حضرات صحابیات کے جذبہ ایمانی کی یادتازہ کردی اور ملک کے حکمرانوں کو دوٹوک جواب دے دیا کہ وہ کسی قیمت پر حجاب پر سمجھوتہ نہیں کرسکتی جان جاے مگر ایمان نہ جاے والی تمثیل پیش کرکے ملک کی لاکھوں خواتین کے دلوں میں حرارت ایمانی جگادی

یہ سچ ہیکہ اللہ تعالی نے اس صنف نازک کی حفاظت وصیانت کی ذمہ داری ایک مرد کے سپردکی ہے مگر عورت کو بھی اپنی ذات میں ایک تناور درخت بنایا جو ہر قسم کے سرد وگرم حالات کا دلیری کے ساتھ مقابلہ کرسکتی ہے ہورے عزم وحوصلہ کے ساتھ ڈٹ کر وہ کسی بھی طاقت کو زیر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے قرآن واحادیث کے حوالہ سے اگر یہ بات کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ تاریخ اسلام عورتوں کے جذبہ قربانی وہمت کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی ہے تاریخ اوراق پر نظر ڈالی جاے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اسلام کی ابتدای تاریخ میں مسلم خواتین کا جوکرداررہا ہے وہ رہتی دنیا تک کے لئےایک سبق ہے

حضرت خدیجۃ الکبری رض عنھا جنہوں نے سب سے پہلے تصدیق رسالت کا اولیین شرف حاصل کیااور وحی اول کے نزول کے موقع پر بھی آپ علیہ السلام کو تسلی بخش و حوصلہ افزاء کلمات کہ کر آپ کا بوجھ ہلکا کیا اپنوں اور پرایوں کی جانب سے آنے والی مصائب ومشکلات رزتہ داروں کی جانب سے ہونے والے طعن وتشنیع شعب ابی طالب کی محصوری تمام مشقتوں وصبر آزما حالات میں بھی اپنء دین وایمان پر ڈٹی رہیں اور کسی لومۃ لائم کی پرواہ کے بغیر زندگی گذار کر اس دارفانی سے رخصت ہوی آپ علیہ السلام کی پھوپی حضرت صفیہ کی بہادری وشجاعت کو دیکھ لیں جنہوں نے جنگ کے دوران زخمیوں کو میدان جنگ سے باہر لاتیں اور مرہم پٹی کرتے ہوے اپنے حصہ کی خدمت کرڈالیں اسی اثناء میں ایک یہودی نے دوسری خاتون پر حملہ کی کوشش کی تو آپ نے ایسا وار کیا کہ اس دشمن دین کا سر تن سے جدا کردیا اور میدان جنگ میں ہھینک دیا حضرت زینب بلند کردار والی خاتون کی بھی یادتازہ ہوگی

جنہوں نے نہ صرف اپنے بیٹوں کی شہادت کا غم سہا بلکہ اپنے شیر خوار بھتیجوں اور بھای کی قربانیوں کو بچشم خود دیکھااور قربانیوں کی تاریخ میں نمونہ بن کر چل بسیں حضرت ام عمارہ کی تاریخ کوپڑھیں تو پتہ چلے گاکہ کس ہمت کے ساتھ انیوں نے احد کے معرکہ میں شریک ہوئیں اور ایسی شجاعت وبہادری کا مظاہرہ کیا کہ مسلمان مغلوب ہوتے دکھای دییے تو آپ نے پانی کا مشکیزہ پھینک کر تلوار سمبھالی اور دشمنوں کے مقابلہ کے لےء اترآئ اور خاتون احد کا لقب پایایسا لگتاہیکہ راہ خدا کی شہید اول خاتوں حضرت سمیہ کی تاریخ کو آج دہرانے کی ضرورت ہے

جنہوں نے سب سے پہلے اپنے خون کا نذرانہ ہیش کرکے شجر اسلام کی آبیاری کی آپ نے اپنے بیٹے اور شوہر کے ساتھ مل کر دشمنان اسلام اہل مکہ اور ابوجہل کے ظلم وستم کا مردانہ وار مقابلہ کیا سخت سے صکٹ اذیتوں کے باوجود آپ نے اسلام کا دامن نہیں چھوڑا بالآخر اسلام کی شہید اول خاتون قرارپائیں حضرت اسماء بنت ابوبکر نے بھی جو قربانیاں اپنے دین ومذہب کی خاطر پیش کی ہیں

صبح قیامت تک اس کو بھلایا نہیں جاسکتا حضرت خنساء جنہوں نے اپنے چاروں بیٹوں کو جنگ قادسیہ سے پہلے نصیحت کی کہ آخرت کی زندگی دنیا کی زندگی سے بدرجہا بہتر وباقی ہے بہرحال کرناٹک کی یہ مسلم طالبہ مسکان خان کی ہمت افزای اور جرأت کو سلام کرنے کی ضرورت ہے جس نے نقاب میں انقلاب پیدا کیا اور ساری دنیا کو جھجھوڑ کر رکھ دیا اور اپنی غیرت ایمانی وحمیت دینی کا ثبوت دے دیا

اگر ہماری مائیں بہنیں آج بھی اپنے اندر ایمانی جذبات کو پیداکرکے زندگی گذاریں گی تو یقینا ان نفوس قدسیہ کی طرح ہمارے ساتھ بھی باری تعالی کی مدد ونصرت شامل حال رہے گی اللہ پاک عالم اسلام کے مسلمان مردوخواتین سب ہی کے اندر جذبہ قربانی پیدا فرماے اپنے دین وایمان کی عظمت ووقعت کو سمجھتے ہوے اس کے تحفظ کے لےء ہر آنے والی شیطانی وطاغوتی ہواؤں کاسینہ سپر ہوکر مقابلہ کرنے کی ہمت وتوفیق عطاء فرماے