خاطی پولیس اہلکار ومتعلقہ ذمہ دار کو فی الفور معطل کرنے صدر جمعیۃ علماء کاماریڈی کا مطالبہ
دکن کی ممتاز و مایہ ناز شخصیت خطیب بے باک حضرت مولانا جعفر پاشاہ صاحب کے ساتھ پولیس کا رویہ انتہائی افسوسناک
کاماریڈی :8؍جون
(زین نیوز)
تلنگانہ پولیس کے متعصّبانہ رویہ کولیکر مسلمانوں میں شدید غم وغصہ کی لہر پائی جاتی ہے ایک طرف لاک ڈاون میں پرانے شہر میں پولیس والوں نے کئی ایک نوجوانوںکو تشدد کا نشانہ بنایا توکئی نوجوانو ں کو ہراساں اورپریشان کیا ۔گذشتہ گزشتہ دن مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل عرف جعفر پاشاہ کےساتھ پولیس کے سخت گیر رویہ اور بدسلوکی کی مختلف گوشوں سے ناراضگی کا اظہار اور مذمت کی جارہی ہے تلنگانہ پولیس جو فرینڈلی پولیس کہلاتی ہےخصوصاً مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ اختیار کررہی ہےجس کی وجہ سےتلنگانہ پولیس کی شبیہہ متاثر ہورہی ہے
حافظ فہیم الدین منیری صدر جمعیۃ علماء کاماریڈی خاطی پولیس اہلکار ومتعلقہ ذمہ دار کو فی الفور معطل کرنے کا چیف منسٹر تلنگانہ سے مطالبہ کیا ہےانھوں نے کہاہے کہ پولیس کا امن کی برقراری میں اہم رول ہوا کرتا ہے لیکن آئے دن بعض اہلکاروں کی جانب سے عوام پر کئے جانے والے ظلم و زیادتی سے محکمہ کی بدنامی کا ذریعہ بن رہی ہے۔
اب تو یہاں تک نوبت پہونچ گئی کہ تلنگانہ کی سب سے معزز شخصیت وخطیب بے باک حضرت مولانا جعفر پاشاہ صاحب کے ساتھ نازبیا سلوک کرکے پورے حیدرآباد کا نام بدنام کردیاگیا حافظ محمد فہیم الدین منیری صدر جمعیۃ علماء کاماریڈی نےگزشتہ دن پیش آئے واقعہ حضرت جعفر پاشاہ صاحب امیرملت اسلامیہ پر پولیس کے نازیبا سلوک پر سخت مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ چندر شیکھر راؤ صاحب سے پرزور مطالبہ کیا کہ خاطی پولیس اہلکار ومتعلقہ ذمہ دار کو فی الفور معطل کیا جائے
، اور مولانا کے ساتھ جو گستاخی کی گئی ہے اس کے لئے متعلقہ عہدیدار امیر ملت اسلامیہ سے بنفس نفیس ملاقات کرکے معافی مانگے، پولیس اہلکار نے مولانا کے ساتھ نازیبا سلوک کرکے پوری قوم کو رسواء کیا ہے، ایسے عہدیداروں کے ساتھ سختی کا۔ معاملہ نہیں کیا جائے گا تو عوام کا اعتماد اٹھتا چلا جائے گا۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنمولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل عرف جعفر پاشاہ رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ تلنگانہ و آندھرا پردیش شہر کے افضل گنج بس اسٹانڈ پر اس وقت احتجاجاً بیٹھ گئے جبکہ پولیس افضل گنج نے ان کی کار کو لاک ڈاؤن کے بعد قریب دوبجے روک لیا جس پر مولانا نے انسپکٹر پولیس افضل گنج سے اس بات کی درخواست کی کہ دراصل وہ ٹولی چوکی کے قریب ٹریفک میں پھنس گئے تھے اس لئے کچھ تاخیر ہوگئی ہے اور وہ بمشکل 5منٹ کے اندر پنجہ شاہ پہنچ جائیںگے جس پر انسپکٹر نے ان کی اس درخواست کو بحث کا نام دے کر ان کی کار کو روک دیا۔

مولانا جعفر پاشاہ نے بتایاکہ دراصل وہ میاں پور میں واقع مدرسہ کے ایک میٹنگ میں شرکت کے بعد مکان واپس لوٹنے کے دوران ٹولی چوکی کی انتہائی مصروف ترین شاہراہ پر ٹریفک میں پھنس گئے تھے اس لئے انہیں افضل گنج تک پہنچنے میں تاخیر ہوگئی اور اس کی تفصیلات انہوںنے انسپکٹر کو بتلائی تھی لیکن اس کے باوجود بھی انسپکٹر نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی کار کو روک لیا وار گاڑی چھوڑ کر پیدل جانے کو کہا۔
مولانا جعفر پاشاہ نے اپنے بیان میں کہاکہ دراصل پولیس متعصبانہ رویہ اختیار کررہی تھی کیونکہ بعض دوسرے مذہب کے افراد بغیر کسی رکاوٹ کے جارہے تھے۔ انہوںنے کہا کہ تقریباً 15تا 20 منٹ افضل گنج بس اسٹاپ پر بیٹھے رہے اور اس دوران انسپکٹر افضل گنج نے انہیںوہیں سے گھر جانے کی اجازت دےدی۔تاہم مولانا نے کہاکہ پولیس کا رویہ اس طرح مذہبی رہنماؤں کے ساتھ اس قدر سخت گیر نہیں ہونا چاہئے جبکہ انہوںنے قبل ازیں ہی تاخیر سے متعلق عذر پیش کردی تھی۔ مولانا نے پولیس کے اس رویہ پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔
