بی جے پی نے کہا- آگ لگانا ان کی عادت ہے
نئی دہلی : 12/ ستمبر
(زیڈ این ایم ایس)
کانگریس لیڈر راہول کی بھارت جوڑو یاترا کے بعد دے بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سوشل میڈیا جنگ تیز تر ہوتی جارہی ہے۔ایسا لگتا ہے راہول گاندھی کی بھارت جوڑ یاترا سے بی جے پی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی ہے۔
اور اس نے یاترا کے آغاز سے ہی راہول گاندھی اور کانگریس کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔اور خود مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی یاترا پر طنز کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ راہول گاندھی کو یاترا پاکستان میں چلانی چاہیے اور ایک طنز میں وزیر داخلہ نے کہاکہ کانگریس کو تاریخ دوبارہ پڑھنی چاہیے۔
دو دن قبل بی جے پی کی جانب سے راہول گاندھی کی جانب سے پہنی گئی ٹی شرٹ کو لیکر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا تو کانگریس کی جانب سے پی ایم مودی کپڑوں سوٹ چشمہ اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے مفلر (گلفام) کو لیکر ایک دوسرے کے خلاف سوشل میڈیا پر زبردست جنگ چلی۔
آج کانگریس کی ‘بھارت جوڑو یاترا’ کا چھٹا دن ہے۔ اس دوران کانگریس کی جانب سے آر ایس ایس کے لباس کو لے کر ایسا ٹوئٹ کیا گیا، جس کی وجہ سے بی جے پی لیڈر برہم ہوگئے۔
To free the country from shackles of hate and undo the damage done by BJP-RSS.
Step by step, we will reach our goal.#BharatJodoYatra 🇮🇳 pic.twitter.com/MuoDZuCHJ2
— Congress (@INCIndia) September 12, 2022
بی جے پی نے کہا کہ کانگریس کو آگ لگانے کی پرانی عادت ہے۔ بی جے پی نے سکھ فسادات سے لے کر ممبئی فسادات کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کو نشانہ بنایا۔
دراصل، آج کانگریس نے ایک تصویر ٹویٹ کی ہے۔ اس تصویر میں آر ایس ایس کے لباس میں آگ لگ رہی ہے۔ اس میں دھواں بھی اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔
کانگریس نے ٹویٹ میں مزید لکھا، "ہم ملک کو نفرت کے ماحول سے آزاد کرنے اور آر ایس ایس-بی جے پی کے ذریعہ ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کے مقصد کی طرف ایک وقت میں ایک قدم بڑھا رہے ہیں۔” ہم اپنے مقصد کی طرف بڑھ رہے ہیں
کانگریس کے اس ٹویٹ کے بعد بی جے پی لیڈر حملہ آور ہو گئے۔ بی جے پی کے ترجمان شہزاد پونا والا نے لکھا، ‘ملک کو جلانا کانگریس کی پرانی عادت ہے۔
1984 کے فسادات ہوں، جلگاؤں ہوں، ممبئی ہوں، ہاشم پورہ ہوں، بھاگلپور ہوں یا میرٹھ۔ یہ فہرست طویل ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ راجیو گاندھی نے 1984 کے فسادات کو کس طرح جائز قرار دیا۔انہوں نے کہا، کانگریس صرف ملک کو جلانے کا سوچتی ہے۔
مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے کہا، ‘کانگریس کا خاندانی پیشہ ہے، یا تو ہم ملک کو توڑیں گے یا پھر ملک کو جلا دیں گے۔ کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہونے والے یوگی حکومت کے وزیر جتن پرساد نے کہا کہ سیاسی اختلافات فطری اور قابل فہم ہیں۔
لیکن سیاسی مخالفین کو جلانے کے لیے کس ذہنیت کی ضرورت ہے؟ اس منفی اور نفرت کی سیاست کی سب کو مذمت کرنی چاہیے
