زعفرانی گروپوں نے آج غیر مسلم لڑکیوں کو زعفرانی رنگ کی اوڑھنیاں پہنے پر مجبورکیا
مجلس رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل نے مسلۂ کو پارلیمنٹ میں اٹھایا۔
نئ دہلی : 4؍فروری
(زین نیوز)
کرناٹک میں پچھلے کچھ دنوں سے مختلف مقامات پر کالجوں میں مسلم لڑکیوں کے برقعہ پہننے کی بات کو لیکر مخالفت چل رہی ہے ۔گذشتہ دودن قبل کرناٹک کے اُڑپی ضلع کے کنڈا پور ایک اور کالج میں حجاب اسکارف اور برقعہ پہن کر کالج آنے والی مسلم طالبات کو کالج انتظامیہ کی جانب سے گیٹ پر ہی کالج میں داخل ہونے سے روک دیا گیاتھا۔اگرچہ مسلم لڑکیوں نے احتجاج کرتے ہوئے اسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا
This is pure discrimination
Students wearing #saffronshawls are attending classes in Kundapura college.
Whereas Muslim girls wearing #hijab not allowed even inside the college gate!
Is this justice? Why aren’t the boys thrown out? https://t.co/g6ZZZR5fQV pic.twitter.com/Xe2ssXaSaM
— Rabia Shireen (@rabiasyed97) February 4, 2022
آج زعفرانی جماعتوں کی جانب سے حجاب کو روکنے کی نئی مہم چلائی گئی جمعہ کو زعفرانی گروپوں کی جانب سےباقاعدہ حجاب کے خلاف مہم کا آغاز کرتے ہوئے اڈپی میں پری یونیورسٹی کالج کی کلاسوں میں ہندو طالب علموں کو بھی زعفرانی رنگ کی اوڑھنیاں پہنے پر مجبورکیا
بجرنگ دل کے ضلع سکریٹری سریندر کوٹیشور نے اس واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’اگر پولیس ہندو طلبہ کو زعفرانی اوڑھنی پہن کر کالجوں میں داخل ہونے سے روک رہی ہے تو وہ حجاب پہنے ہوئے مسلم طلبہ کو بھی کالج کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘‘ کوٹیشور نے کہا کہ اگر کالج انتظامیہ مسلم طلبہ کو حجاب پہننے والے طلباء کو کیمپس میں داخل ہونے کی اجازت دیتی ہے تو وہ تمام ہندو طلباء کو کیمپس کے اندر زعفرانی اُوڑھنی پہنانے پر مجبور کر دیں گے۔
It needs a caption. pic.twitter.com/EcnYa5mocz
— Safoora Zargar (@SafooraZargar) February 4, 2022
کالج کی طالبہ سائرہ بانو نے انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حجاب ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ ہمارے خاندان میں ہر کوئی حجاب پہن کر کالج جاتا تھا۔ ہمارا حجاب پہن کر کالج آنے سے کیا نقصان ہوتا ہے؟ آخر اچانک یہ قانون کیوں آگیا؟
حجاب کے معاملہ کو لیکر کرناٹک کے رکن اسمبلی یو ٹی قادر نے کہاکہ حجاب کو تعلیم میں مسلۂ نہ بنایا جائےانھوں نے اولیائے سے خواہش کی ہے کہ جس کالج میں حجاب کے لئے گنجائش نہیں ہے اپنی بچوں کو ان کالجوں میں نہ بھیجا جائے اور جن کالجوں میں حجاب کی گنجائش ہے وہاں اپنی بچیوں کو بھیجا جائے
کل ہند مجلس اتحاد السلمین اورنگ آباد کے رکن پارلیمان امتیاز جلیل نے حجاب کے مسئلہ پر کرناٹک کے کالجوں میں کی جارہی شرپسندی کو پارلیمنٹ میں اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کرناٹک حکومت دوہری پالیسی پر عمل پیرا ہے اس کو فوری طور پر روکا جائے۔
Gatekeeping. pic.twitter.com/O6uCkyxe0W
— smishdesigns (@smishdesigns) February 4, 2022
امتیاز جلیل نے حجاب کے معاملہ پر کہاکہ صدر جمہوریہ نے اپنے خطبہ میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈ کر کے حوالہ سے کہا تھا کہ ہماری سرکار بابا صاحب کے بتائے ہوئے راستوں پر چلتی ہے اور ہمارا نعرہ ہے کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ آزادی ‘ مساوات ‘ سب کے حقوق ‘ لیکن بی جے پی حکومت کا اسے دور تک کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے اور رہتا تو کرناٹک میں حجاب پہننے والی کالج کی مسلم طالبات کو کالج کے گیٹ پر روکا نہیں جاتا۔ انہوں نے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ حجاب کولیکر تعلیم میں مسلۂ نہ بنائیں
