حیدرآباد:11؍مئی
(زین نیوز)
آج پرگتی بھون میں وزیراعلی کے چندرشیکھر راؤ کی زیر صدارت منعقدہ کابینی اجلاس میں کورونا کے پھیلاؤ پر قابو پانے و نیز لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بشمول دیگر اُمور سے متعلق مندرجہ ذیل فیصلے کئے گئے۔
کابینہ کی جانب سے کئے گئے فیصلے:
– ریاستی کابینہ نے کل 12 مئی بروز چہارشنبہ صبح 6 بجے سے 10 دنوں کے لئے ریاست گیر لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح کابینہ نے طئے کیا ہے کہ دس دنوں پر مشتمل اس لاک ڈاؤن کے دوران روزآنہ صبح 6 بجے تا 10 بجے عوامی ضروریات سے متعلق تمام طرح کی سرگرمیوں کے لئے رعایت دی جائے اور صرف 4 گھنٹوں پر مشتمل اس چھوٹ کے دوران ہی ہر طرح کی دکانات کھلی رہیں گی۔ جبکہ مابقی 20 گھنٹوں کے لئے سختی سے لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے گا۔
– 20 مئی کو دوبارہ کابینی اجلاس منعقد کیا جائے گا اور صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے لاک ڈاؤن میں توسیع سے متعلق فیصلہ لیا جائے گا۔
– جنگی خطوط پر ویکسین کے حصول کے لئے گلوبل ٹینڈرز طلب کرنے کا بھی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے۔
– کابینہ نے چیف سکریٹری شری سومیش کمار کو ہدایت دی کہ وہ سرکاری شعبے کے ساتھ ساتھ خانگی شعبے میں بھی تمام اسپتالوں میں ریمیڈیسیور انجکشن، آکسیجن اور کورونا سے متعلق دیگر ادویات کی دستیابی کے لئے درکار اقدامات کریں۔
– کابینہ نے ضلعی سطح پر وزراء کی زیر قیادت کلکٹر، ڈی ایم ایچ او اور ڈرگ انسپکٹرز پر مشتمل کمیٹیوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلی نے وزراء کو ہدایت دی کہ وہ اپنے متعلقہ ضلع ہیڈکوارٹر میں روزآنہ کی اساس پر کورونا کی صورتحال سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد کریں۔
– وزیراعلی نے دوران اجلاس فون پر ریمیڈیسیور انجکشن کے مینوفیکچررز سے بات کی اور ریاست کو درکار مقدار میں ادویات کی سربراہی کی ہدایت دی۔
– کابینہ نے آئی ٹی و انڈسٹریز منسٹر شری کے ٹی آر کی زیر صدارت ریاستی سطح پر ایک ٹاسک فورس کی تشکیل کو منظوری دی ہے تاکہ روزآنہ کی اساس پر ادویات اور انجکشنس کی حصولی و فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ ٹاسک فورس کے دیگر ارکان میں پرنسپل سکریٹری (انڈسٹریز) شری جیش رنجن، جی اے ڈی کے پرنسپل سکریٹری شری وکاس راج، پنچایت راج پرنسپل سکریٹری شری سندیپ سلطانیہ، سی ایم او سے سی ایم سکریٹری و کوویڈ اسپیشل آفیسر شری راج شیکھر ریڈی شامل ہیں۔
لاک ڈاون سے مستثنیٰ شعبہ جات
– زرعی پیداوار، زراعت سے جڑے ہوئے شعبہ جات، زرعی مشینری سے متعلق کام، رائس ملوں سے متعلق سرگرمیاں، متعلقہ ٹرانسپورٹ، ایف سی آئی کو دھان کی سربراہی سے متعلق سرگرمیاں، کھاد اور بیجوں کی دکانات، بیج تیار کرنے والی فیکٹریوں اور دیگر زرعی سرگرمیوں پر لاک ڈاؤن کا اطلاق نہیں ہوگا۔
– کابینہ نے ریاست کے کسانوں کے مفادات کو ملحوظ رکھتے ہوئے معمول کے مطابق دھان کی خریداری کے عمل کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
– دواساز کمپنیوں، طبی آلات تیار کرنے والی کمپنیوں، میڈیکل ڈسٹری بیوٹرز، میڈیکل شاپس، ہر طرح کی طبی خدمات، سرکاری اور خانگی اسپتال اور ان میں خدمات انجام دے رہے ملازمین و عملے کو خصوصی پاسوں کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی۔
– دیہی اور شہری علاقوں میں پینے کے پانی کی سربراہی اور صفائی ستھرائی کے کام معمول کے مطابق جاری رہیں گے۔
۔ برقی کی پیداوار اور تقسیم کے بشمول ان سے مربوط دیگر سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
– قومی شاہراہوں پر آمد و رفت معمول کے مطابق جاری رہے گی۔
– قومی شاہراہوں پر موجود پٹرول اور ڈیزل اسٹیشس بھی کارکرد رہیں گے۔
– کولڈ اسٹوریج اور گوداموں سے متعلق سرگرمیوں کو چھوٹ رہے گی۔
– پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو چھوٹ رہے گی۔
– ای جی ایس کام معمول کے مطابق جاری رہیں گے۔
– سرکاری دفاتر اپنے 33 فیصد عملے کے ساتھ کارکرد رہیں گے۔
– پچھلے لاک ڈاؤن کی طرز پر بینکس اور اے ٹی ایمس معمول کے مطابق کام کریں گے۔
– پیشگی منظوری کے ساتھ شادیوں میں زیادہ سے زیادہ 40 افراد کی شرکت کی اجازت رہے گی۔
– متوفین کی آخری رسومات کے لئے زیادہ سے زیادہ 20 افراد کو شرکت کی اجازت رہے گی۔
– تلنگانہ ریاست کی سرحدوں پر چیک پوسٹسں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
– میٹرو اور آر ٹی سی صبح 6 بجے تا صبح 10 بجے کارکرد رہیں گی۔
– راشن شاپس صبح 6 بجے سے صبح 10 بجے تک کھلے رہیں گے۔
– ایل پی جی کی سربراہی خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
– کابینہ نے سنیما ہال، کلبس، جم، سوئمنگ پول، تفریحی مقامات اور اسپورٹس اسٹیڈیمس کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کابینہ نے ڈی جی پی کو ہدایت دی کہ وہ کوویڈ قواعد پر سختی سے عمل پیرا رہتے ہوئے لاک ڈاؤن کو سختی سے نافذ کریں۔
