یوم عاشوراء حقائق اورمروجہ رسوم

تلنگانہ مذہبی

از قلم:  عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء  نظام آباد تلنگانہ
9505057866

اسلامی نیاسال ماہ محرم الحرام 1443کا الحمداللہ آغاز ہوچکا ہے اس ماہ مبارک میں جہاں اور بہت ساری رسم ورواج اور خرافات اور غیر اسلامی وغیر شرعی اعمال وافعال مسلم سماج ومعاشرہ میں عام ہوچکی ہیں وہیں بہت ساری غلط فہمیاں اور اور حقائق سے بعید باتیں بھی عام ہوتی جارہی ہیں جن سے اجتناب اورپرہیز کرنا ہرمسلمان کی ذمہ داری ہے
یوں تو اس مہینہ کی بڑی فضیلت احادیث کی روشنی میں ثابت ہے کہ اسلام میں رمضان المبارک کے روزے فرض ہونے سے پہلے اسی ماہ کے ایام میں روزے رکھے جاتے تھے
احادیث شریفہ کے حوالہ سے یہ بات ملتی ہیکہ یہ مہینہ اللہ کہ۔جانب سے ایک خاص رحمت کا مہینہ ہے
اس کے علاوہ اس مہینہ کو شھراللہ کہا گیا یعنی اللہ کامہینہ
اللہ کی جانب اس کی نسبت کرنے سے اس کی عظمت وتقدس میں اور اضافہ ہوگیا
اسی طرح یہ مہینہ اشھرحرم یعنی تعظیم وتکریم والے مہینوں میں سے ایک ہے نیز اسلامی سال کا آغاز اس ماہ سے کیا گیا اور جس میں روزہ جیسی عبادت کو باعث اجر وثواب بتلایا گیا تاکہ اس ماہ کی برکت سے انسان کاپورا سال برکتوں سے معمور ہو
بہرکیف
اس ماہ کے تقدس کے پیش نظر ہمیں چاہیے کہ ہر قسم کے رسم ورواج سے بچیں اور کرنے کے کاموں کی جانب توجہ دیں
احادیث سے بس دو باتیں یوم عاشوراء کے متعلق ثابت ہیں جن کو کرنے اور عمل درآمد ہونے کی ضرورت ہے
(1)پہلاکام روزہ رکھنا
جس کی تفصیل یہ ہیکہ یہ زمانہ سابق میں یہودی لوگ صرف محرم الحرام کی دس تاریخ یعنی عاشوراء کے دن روزہ رکھاکرتے تھے
اللہ کے نبی نے ہم کو بتلایا کہ ہم نہ تو اس روزہ کی برکت سے محروم ہوسکتے اور نہ ہی یہودیوں کی مشابہت اختیار کرسکتے
لہذا عاشوراء کے روزہ کے ساتھ ساتھ ایک دن پہلے یعنی نو اور دس محرم کا روزہ رکھ لیا جاے یا پھر عاشوراء کے ساتھ بعد والے دن گیارہ محرم کا روزہ رکھ لیا جاے تو برکات روزہ بھی حاصل ہوجاے گی اور یہودیوں کی مشابہت سے بھی بچ جائیں گے
(2)دوسراکام
عاشوراء کے دن اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنے میں فراخی اور کشادگی کرنا یہ ایک مستحب عمل ہے جس کی برکت سے پورا سال اللہ تعالی فراخی رزق کے دروازے کھول دیں گے اور رزق میں وسعت وبرکت ہوگی
ان دواعمال کے علاوہ کسی اور قسم کے اعمال کا تذکرہ عاشوراء کے حوالہ سے نہیں ملتا ہے اس لےء اس ماہ میں غیر اسلامی جتنے کام ہوتے ہیں ان کی کوی اصل وحقیقت نہیں ہے ان تمام ہی غیر اسلامی کاموں سے دوررہنا چاہیے
کچھ کام وہ ہیں جو بنفسہ تو اچھے لگتے ہیں لیکن عاشوراء کی مناسبت سے ان کو کرنا بدعت قرار دیا گیا ہے جن کے کرنے سے بندہ معصیت اور گناہ کا مرتکب بن جاتا ہے
جیسے اس ماہ کو غم کا مہینہ سمجھ کر ماتم کرنا اور تعزیہ کے جلوس میں شرکت کرنا
یہ عمل بھی کئ ایک گناہ کو اپنے اندر لےء ہوے ہے
اسی طرح عاشوراء کو کھچڑی بنانابھی درست نہیں ہے جس کی بہت ساری وجوہات ہیں کہ دشمنان خوارج اس دن حضرت کی شہادت کی خوشی میں مختلف قسم کے اناج ملاکر پکاتے اس لےء ہم اہل بیت سےمحبت والفت رکھنے والوں کو اس رسم بد سے اجتناب کرنا چاہیے
کچھ لوگ ایصال ثواب کی نیت سے اس دن کھانا پکاکر لوگوں کو کھلاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ حضرت حسین کی روح کو اس کا ثوملتا ہے
پانی یا شربت کی سبیل لگانا
راستوں اور چوراہوں پر کچھ مسلمان اس طرح کی سبیل لگاکر سمجھتے ہیں کہ یہ نیکی کا کام ہے
ہاں پانی پلانا باعث ثواب ضرور ہے مگر اس دن کو بطورخاص یہ عمل ثواب کے بجاے گناہ کا سبب بن جاتا ہے
بعض جگہوں پر اس دن مٹھای تقسیم کی جاتی ہے یہ عمل بھی رسم ورواج سے تعلق رکھتا ہے جس سے پرہیز کرنا چاہیے
بعض لوگ اس دن عید کی طرح زیب وزینت کرتے ہیں علماء کرام نے اس عمل کوبھی بدعت قراردیا ہے
خلاصہ کلام اینکہ جب اس ماہ مقدس کی عظمت احادیث سے ثابت ہوچکی ہے تو اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرکے اعمال صالحہ کرکے اللہ کو راضی کرنے کی ضرورت ہے ہر قسم کے غیر اسلامی کاموں سے بچتے ہوے دین اسلام کی تعلیمات کو اپنانے کی ضرورت ہے
اللہ پاک سارے مسلمانوں کو توفیق فہم وعمل نصیب فرماے
آمین