وادی میں الرٹ ، پابندیاں عائد ، موبائل انٹرنیٹ بند
نئی دہلی:2؍ستمبر
(زین نیوز؍ایجنسیز)
سخت گیر علیحدگی پسند اور حریت کے سابق سربراہ سید علی شاہ گیلانی چہارشنبہ کی رات انتقال کر گئے۔ وہ 92 برس کے تھے۔ ڈاکٹروں نےچہارشنبہ کی سہ پہر سانس لینے میں دشواری اور سینے میں تکلیف کی شکایت کے بعد گھر پر ان کی دیکھ بھال کی گئی۔ رات ساڑھے دس بجے ان کا انتقال ہوا۔ وہ 2008 سے مسلسل حیدر پورہ میں نظر بند تھے۔
آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے کہا کہ پوری وادی میں پابندیوں کے نفاذ کے ساتھ ساتھ موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی ہے۔ دریں اثنا حریت رہنما اور جموں و کشمیر پیپلز لیگ کے صدر مختار احمد وازہ کو جنوبی کشمیر کے اننت ناگ سے رات گئے گرفتار کیا گیا۔ گیلانی کے انتقال کے بعد پوری وادی کو چوکنا کر دیا گیا۔ حساس مقامات پر پولیس اور سیکوریٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ سید علی گیلانی کو سری نگر میں ان کے گھر کے قریب واقع قبرستان میں جمعرات کی صبح ساڑھے چار بجے سپر لحد کیا گیا ذرائع نے مزید بتایا کہ ان کے رشتہ داروں کی مختصر سی تعداد موجود تھی جن میں ان کے دو بیٹے بھی شامل تھے۔مرحوم سید علی گیلانی کے ایک رشتے دار نے بتایا ہے کہ حیدر پورہ کے قبرستان میں صبح ساڑھے 4 بجے سید علی گیلانی کی تدفین کی گئی۔
تمام اضلاع کے ایس ایس پیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھیں۔ دوسری جانب پولیس نے شمالی کشمیر کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سری نگر کی طرف نہ جائیں۔
سوپور سے تین بار ایم ایل اے ہوئے رہنے والے سید علی شاہ گیلانی جون 2020 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد حریت (جی) کے چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ 29 ستمبر 1929 کو سوپور میں پیدا ہوئے ، گیلانی پہلے جماعت اسلامی کے رکن تھے ، لیکن بعد میں انہوں نے تحریک حریت کی بنیاد رکھی۔ وہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی رہے۔ وہ 1972 ، 1977 اور 1987 میں سوپور سے ایم ایل اے رہے۔