اف یہ احسان فراموشی

تازہ خبر مضامین

علماء وائمہ کی ناقدری سے بچو
از قلم:  عبدالقیوم شاکرالقاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد تلنگانہ
9505057866
گذشتہ ہفتہ دس دن میں ریاست تلنگانہ شہر حیدرآباد نظام آباد ودیگر موضع جات اور دیگر ریاستوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مساجد کے ائمہ کرام وخدام دین کے ساتھ امت مسلمہ بالخصوص ذمہ داران کمیٹی کی جانب سے نارواسلوک کے واقعات سامنے آے جس کو دیکھ کر انتہای جذبات کے ساتھ غصہ تو آیا ہی لیکن اس سے زیادہ افسوس ان مصلیان وذمہ داران پر ہوا جو برسوں سے اس امام کی اقتداء کی نیت کرکے اپنی نماز کو عبادت کے قابل بناتے رہے اور پیچھے اس ا مام کے الفاظ دہراتے ہوے عظیم الشان عمل نماز کو نماز بناتے ہوے گذاردییے لیکن آج جب اسی عالم دین اور امام مسجد کے ساتھ نازیبا وناروا سلوک کرتے ہوے یا کرتے ہووں کو دیکھتے ہوے ان کے دلوں پرکیوں پردہ پڑجاتا ہے یامحض چاپلوسی اور مفاد پرستی نے ان کو آگھیرا یا اپنی دنیا اپن دیکھو والی فکر دامن گیر ہوگیء یا کوی سانپ سونگھ گیا کہ امام مسجد کو بے جا وبے قصور ستایا جاتاہے معمولی سی بات کو بہانہ بناکر خدمت سے معزول کردیا جاتا ہے اسی پر بس نہیں بلکہ نوکروں کی طرح اونچی آواز سے بات کی جاتی ہے اس سے بڑھ کر سب وشتم اور گالی گلوج اور ماردھاڑ کی جاتی ہے تو ایسے موقع پر ان کے دل کیوں نہیں کانپ اٹھتے ؟

دل میں خیال آیا کہ کم ازکم اپنی بساط کی ذمہ داری اداکردی جاے اور جہاں ذمہ داران سے بات کی جاسکتی ہوں وہاں بات کی جاے اور علماء کی قدردانی کو سمجھایاجاے راقم سطور نے کیا اور آئندہ بھی اخلاص کے ساتھ کرنے کا عزم ہے ساتھ ہی ساتھ قلم کے ذریعہ عوام وخواص کو بتایا جاے کہ جس طبقہ کے پیچھے تمہاری نمازیں اداہورہی ہیں قرآن وحدیث اور شریعت اسلامیہ نے ان کو کیا مقام اور کیا رتبہ دیا ہے تاکہ سمجھنے والے کچھ تو سمجھے اور عمل کہ توفیق مل جاے اسی نیت سے چند سطور رقم کردیاہے

اللہ پاک ہم۔سب کو اپنے علماء حفاظ ائمہ ومؤذنین اور دینی خدام کی قدردانی کی توفیق عطاء فرماء اور کسی بھی قسم کی ادنی سے ادنی ناقدری سے بچاے
یہ بات اظہر من الشمس ہیکہ برصغیر میں مسلمانوں کے وجود وبقاء اور اسلامی تہذیب وتمدن اور مذہبی وملی تشخص کے تحفظ کے لےء علماء ربانیین وائمہ کرام نے جو عظیم قربانیاں اور بڑے بڑے مجاہدات کےء ہیں نہ تو کوی اس کا احاطہ کرسکتا ہے نہ ہی ملت اسلامیہ کبھی ان کے اس احسان کا بدلہ چکاسکتی ہے جب تک اسلام باقی رہے گا اور دنیا میں دینی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری وساری رہیں گی اور یہ مسلمان اپنے اسلام پر باقی رہ کر شاہ راہ ترقی پر گامزن رہیں گے یہ پوری ملت اسلامیہ ان پاک نفوس اور علماء کرام کے گراں قدر احسانات کی مرہوں منت رہیں گے
ہر عقلمند انسان اس بات سے بخوبی واقف ہیکہ اللہ پاک کے نزدیک علم اور صاحب علم کا۔کیا مقام ومرتبہ ہے
قرآن مجید یوں گویا ہیکہ
قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون
کہ علم والے اور بغیر علم والے کبھی برابر نہیں ہوسکتے علم دین سے بے بہرہ انسان خواہ وہ کتنےہی بڑے منصب پر کیوں نہ فائز ہوجاے خواہ وہ کسی سوسائٹی اورتنظیم یاکسی مسجد کمیٹی صدر اور متولی ہی کیوں نہ بن جاے مگر وہ صاحب علم یا اپنی مسجد کے امام کے مقام کو پالے یہ ناممکن اور محال بات ہے

اللہ تعالی نے عالم دین کی عزت کی خاطر اس کے حق میں دعاے مغفرت کے لےء ساری کائنات کو لگارکھا ہے اسی طرح محشر میں علماء کرام کو ان انعامات سے نوازا جاے گا جن کو دیکھ کر فرشتے بھی رشک کریں گے

یہ علماء ہی ہیں جن کی وجہ سے روے زمیں پر علم کی بقاء ہورہی ہے جب یہ علماء رخصت ہونے لگ جائیں تو سمجھو کہ علم اٹھنا شروع ہوگیا جو قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس لےء علماء کرام کے وجود کو غنیمت جانواور ان کی قدرومنزلت کو سمجھ کر ان کی خدمت کو اپنے لےء سعادت سمجھو اگر کوی انسان عالم دین کے مقام کو سمجھنا چاہتا ہے تو بس ایک بات اپنے ذہن میں رکھ لیں کہ ان علماء کو انبیاء کرام کا وارث قراردیا گیا ہے
علاوہ ازیں بے شمار رویات واحادیث موجود ہیں جو علماء کرام کے منصب عظیمہ کو واضح کرتی ہیں
امت مسلمہ کے ایک ایک فرد کو چاہیے کہ وہ اپنی مسجد کے امام اور محلہ وشہر اور دیگر علماء کی قدردانی کریں اور ان۔کی ناقدری یا ہتک عزت والے افعال سے بچیں ورنہ تو باری تعالی اپنے ان خاص بندوں کی بے عزتی اور توہین کی بناء ہر ہماری دنیا وآخرت کو تہس نہس کردیں گے
خدا را
ہوش کےناخن لو اور اپنی فکر کروعلماء کو لعن طعن کرنے یا ائمہ مساجد کو برابھلاکہنے سے احتراز کرو
اللہ تعالی سارے عالم کے مسلمانوں کو عقل سلیم عطاء فرماے دین کا صحی فہم اور ادراک نصیب فرماے
آمین