Superium Court

حکومت ہمارے صبر کا امتحان نہ لے۔سپریم کورٹ

تازہ خبر قومی

مرکز کو عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کا کوئی احترام نہیں
توہین عدالت کے تحت کارروائی کا انتباہ

نئی دہلی :6؍ستمبر
(زین نیوز؍ایجنسیز)
سپریم کورٹ نے آج ٹریبونل ریفارم ایکٹ اور تقرریات میں تاخیر پر مرکزی حکومت کی سخت سرزنش کی۔چیف جسٹس این وی رمن نے کہا کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ مرکز کو عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کا کوئی احترام نہیں ہے ، اگر وہ اس کا احترام کرتی تو اسے نافذ کرنے کے بجائے اسے ملتوی نہ کیا جاتا۔

سپریم کورٹ نے سخت لہجے میں کہا کہ آپ ہمارے صبر کا امتحان نہ لیں۔ سخت ریمارکس میں چیف جسٹس نے مرکز کو ٹربیونلز میں تقرریوں کرنے کے لیے ایک ہفتہ کا وقت دیا ہے۔ یہ بھی کہا کہ مجھے اُمید ہے کہ حکومت تقررات کا حکم جاری کرے گی۔ عدالت نے کیس کی سماعت اگلے ہفتہ(پیر) تک ملتوی کردی ہے۔

سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے ذریعہ مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی اور خبردار کیا کہ اگر تقرریوں میں نرم رویہ اختیار کیا گیا تو حکومت کے خلاف توہین عدالت سے متعلق کارروائی کی جائیگی۔

سماعت سنتے ہوئے جسٹس ناگیشور راؤ نے کہا کہ جن ٹربیونلز کی سفارشات پر ہم بحث کر رہے ہیں وہ اس اصلاحاتی بل کے وجود میں آنے سے دو سال پہلے بھیجے گئے تھے ، لیکن آج تک تقرری نہیں کی گئی

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ آرمڈ فورسز ٹربیونلز میں بھی جائیدادیں ہیں ، تمام درخواستیں سپریم کورٹ سے رجوع ہورہی ہیں۔ مرکزی حکومت کے خلاف الزامات ہیں کہ مرکز ممبران کی تقرری نہ کرکے ٹریبونل کو کمزور کررہا ہے۔

ایسی صورتحال میں مرکزی حکومت کے پاس تین آپشن ہیں۔ پہلے ، اسے ٹریبونل ریفارم ایکٹ 2021 کے قانون پر روک لگانی چاہیے۔ دوسرا یہ کہ ٹربیونلز بند کرنے کا حکم دیں ۔ تیسرا یہ کہ سپریم کورٹ خود ٹربیونلز میں تقرریاں کرنے کا کام شروع کرے۔

جسٹس راؤ نے یہ بھی کہا کہ عدالتی ٹربیونلز کے ارکان کی تقرری نہ کرکے حکومت نے انہیں غیر موثر بنا دیا ہے۔