کابل :7؍ستمبر
(اے این ایم ایس)
افغانستان پر مکمل قبضہ کرنے کے بعد بالآخر طالبان نے اپنی حکومت کے سربراہ کے نام کا اعلان کر دیا۔ طالبان نے کہا ہے کہ محمد حسن اس کی حکومت کے سربراہ ہوں گے۔ ملا حسن آخوند افغانستان کے سپریم لیڈر ہوں گے۔ طالبان کے شریک بانی ملا برادر ان کے نائب ہوں گے۔ اخوندزادہ کا دوسرا نائب مولوی حنفی کو بنا دیا گیا ہے۔ طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ ملا یعقوب قائم مقام وزیر دفاع اور سراج الدین حقانی قائم مقام وزیر داخلہ ہوں گے۔
Breaking: The Taliban announced acting ministers for the future government.#TOLOnews pic.twitter.com/KEoomL3YN2
— TOLOnews (@TOLOnews) September 7, 2021
عامر خان متقی کو قائم مقام وزیر خارجہ اور عباس ستانکزئی کو قائم مقام نائب وزیر خارجہ بنایا گیا ہے۔ افغانستان کے سرکاری نیوز چینل ٹولو نیوز نے ٹویٹ کر کے یہ معلومات دی ہے۔ اسی دوران بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے طالبان ترجمان کے حوالے سے کہا کہ نئی طالبان حکومت صرف ایک ‘ایگزیکٹو’ حکومت ہے۔ منگل کی رات طالبان نے اپنی ایگزیکٹو حکومت کے وزراء کی فہرست جاری کی۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت ایران کی طرز پر بنائی گئی ہے۔ حسن اخوند کو سپریم لیڈر بنایا گیا ہے جبکہ دو نائب ان کے ماتحت کام کریں گے۔ وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کے ناموں کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ تاہم ، ایک ساتھ یہ شامل کیا گیا ہے کہ جو حکومت اب بنائی گئی ہے وہ ایگزیکٹو حکومت ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ملک کے عوام نئی حکومت کا انتظار کر رہے ہیں۔
طالبان نے 15 اگست کو افغانستان پر قبضہ کر لیا۔ ایک دن پہلے یعنی 6 ستمبر کو اس نے پنجشیر سمیت پورے افغانستان پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ ایگزیکٹو کابینہ کا اعلان طالبان حکومت کے قیام کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جاتا ہے۔ اس کام کرنے والی طالبان حکومت میں کسی خاتون کو وزیر نہیں بنایا گیا۔ اور نہ ہی طالبان سے باہر کسی کو کابینہ میں جگہ دی گئی ہے۔