ہمیں اپنی فکر کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے

تازہ خبر قومی

مدرسہ صفیہ نسوان میں مولانااحمدعبیدالرحمان اطہر ندوی کا فکرانگیز خطاب
رشحات قلم : عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد تلنگانہ
9505057866
فرمایاکہ
اللہ پاک نے ہمیں مسلمان بنایا مسلمان گھرانہ میں پیدا فرمایا یہ اس کا عظیم احسان ہےلیکن
ہم کو مسلمان ہونے کا مطلب سمجھنے کی ضرورت ہے
ہم رسمی مسلمان ہیں حقیقت میں مسلمان بننےکی ضرورت ہے
ہماری غفلت کے نتیجہ میں اپنے مسلمان ہونے کا جو شعور ہونا چاہیے آج ہم کو وہ نہیں ہے
اللہ کے نبی نے سب سے پہلے جو دعوت دین دی اور اس وقت جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ان سے پوچھیں کہ حقیقی اسلام کیا ہوتا ہے ان کی زندگیوں کو پڑھیں تاریخ اسلام کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اسلام کامطلب کیا ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں تمہیں ایک اللہ سے جوڑنے کی دعوت دیتا ہوں
اس وقت جو صحابہ نے اسلام کو قبول کیا وہ کتنے مجاہدات کرکے اسلام میں آےہیں اس کا اندازہ ہم کو نہیں ہے
آج الحمدللہ توحید کے حوالہ سے
بڑی حد تک لوگ کفر وشرک سے محفوظ ہیں لیکن
ہمارے اند رسب سےپہلے آخرت پر یقین کامل ہونا چاہیے اسی کانام اسلام ہے
صحابہ کرام نے مایبقی کو ترجیح دی تھی مایفنی پر
دنیاتو فقط ایک دہوکہ ہے یہاں کا مال ومتاع عزت وشہرت سب فنا ہونے والے ہیں
اصل زندگی تو مرنے کے بعد والی زندگی ہے اسکا ذوق اور وجدان ہمارے اندر پایا جانا چاہیے
مگر افسوس کہ
آج ایک بادبہاری چلتی ہے کسی بھی دینی کام اور تنظیموں کی جس کی وجہ سے لوگ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں اوردکھای دیتے ہیں
بس
اس کے بعد آہستہ آہستہ ساری حقیقتیں رسموں میں تبدیل ہوجاتی ہے اور ہم نام کے مسلمان رہ جاتے ہیں پھر وہی دنیا کی محبت ہم پرغالب آجاتی ہے
پہلے جماعت نہیں تھی امت تھی اور آج معافی کے ساتھ کہوں کہ جماعت مقدم ہوگیء فکر امت نہیں رہی
آج امت میں رونے دھونے والے ختم ہوگے ہرجماعت اب تنظیم کے لےء کام کررہی ہے امت کے لےء دھڑکنے والے دل آج ختم ہوتے جارہے ہیں
حقیقت میں جو فکر امت وفکر آخرت ہونی چاہیے آج وہ ہمارے اندر مفقود ہے
اور یی ہماری ذلت ورسوای کا سبب بنا ہوا ہے ہم اپنے علم کے ذریعہ فکرآخرت پیداکریں صرف
معلومات سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ وہ علم جس سے خشیت پیدا ہوں وہ حقیقت میں علم ہے
علم سے اگر خشیت پیدا ہوں تو علم
علم نافع ہے یہ سنگ میل ہے ہمارےلےء اس لےء باقی رہنے والی چیز آخرت ہے اسی کی فکر ہوں تو علم سے فائدہ ہوگا
قاری امیر حسن صاحب نے فرمایاکہ
لکھنو میں ایک بزرگ کا مزار ہے جب انہوں نے اپنے استاذ سے کتاب الصلوۃ پڑھی تو کہاکہ بس اب آگے نہیں پڑھوں گا اس لےء کہ مجھے اس پر عمل کرنا ہے نماز کو پڑھنا سیکھوں گا اسی حکم پر عمل کروں گا
جب مال آے گا کتاب الزکوۃ پڑھوں گا پھر اس پر عمل کروں گا تو اتنا اہتمام تھا علم پر عمل کرنے کا
پھر کیا ہوا اپنے علم پر عمل کی وجہ سے وقت کے ولی بن گےء اللہ والے بن گےء
دوستو
اعمال کی دوقسمیں ہیں
ظاہری اور باطنی
ظاہری اعمال کو اعمال کہتے ہیں اور باطنی اعمال کو اخلاق سےتعبیر کیا جاتا ہے ہمیں دونوں کو سدھارنے اور سنوارنے کی ضرورت ہے
یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ آج بھی
اصلاح واستفادہ سے کوی مستغنی نہیں ہے
مولاناعلی میاں ندوی رح کس پایہ کے عالم دین تھے دنیا میں کتنا آپ کا شہرہ تھا اللہ تعالی نے کتنا کام لیا لیکن باوجود اس کے بزرگوں کے در کے چکر لگایا کرتے تھے
اخیر میں حضرت پرتابگڈھی کے پاس آیاکرتے
ان کی نظر میں روپیہ اور مٹی دونون برابر تھے اس لےء اپنے آپ کو بھی بھی بے نیاز مت سمجھو
آج مسلمانوں کے گھروں میں بھی حرص عام ہے قناعت ختم ہوتی جارہی ہے
مال ہے تو رکھو مگر اس سے محبت نہ کرو بلکہ دل سے اس کی محبت نکالو
اگر مال کی محبت نہ نکلی دنیا کی محبت نہ نکلی تو پھر اس علم سے کوی فائدہ نہیں ہے
ٹی وی کا ایک بڑا نقصان حرص کاپیداہونا ہے اوربھی بہت سارے نقصانات ہیں مگر حرص بھی اس سے آتی ہے اورقناعت کامزاج ختم ہوجاتا ہے اسلےء
آخرت کی فکر اصل چیز
دل کا قبلہ آخرت ہونا چاہیے
ہماری دنیا وآخرت کی کامیابی اسی میں مضمر اور پوشیدہ ہے ہم اپنے دلوں کا قبلہ درست کرلیں
اللہ پاک توفیق عمل نصیب فرماے
آمین