انوار الحق قاسمی

اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ حضرت نبی اکرم ﷺمخلوقِ خدا میں سب سے زیادہ صاحبِ جمال تھے ، یعنی: آپ کے جسمِ اطہر کاہرہر عضو ساخت وپرداخت میں سب سے زیادہ معتدل تھا ، اور اس میں بھی کوئی اختلاف نہیں کہ حضرت نبی اکرم ﷺ اور حضرت یوسف علیہ السلام دونوں مخلوقِ خدا میں سب سے زیادہ صاحبِ حسن تھے؛ البتہ دونوں میں سب سے زیادہ صاحبِ حسن کون تھے؟ اس میں اہلِ علم کا اختلاف ہے۔ حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا:حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مخلوقِ خدا میں سب سے زیادہ صاحبِ جمال تھے اور حضرت یوسف علیه السلام سب سے زیادہ صاحبِ حسن تھے۔
جمال کے معنی یہ ہیں کہ اعضاء بالکل موزوں اور مناسب ہوں ،اور حسن کے معنی یہ ہیں کہ رنگ سفید اور ظاہری نقشے خوبصورت ہوں۔ جب کہ اکثراہلِ علم فرماتے ہیں کہ حضرت نبى اكرمﷺ مخلوقِ خدا میں سب سے زیادہ صاحبِ جمال ہونے کے ساتھ ساتھ صاحبِ حسن بھی تھے ، جس کی دلیل سنن ترمذی کی روایت ہے کہ حضرت انس رضى الله عنه فرماتے ہیں کہ :”ما بعث الله نبيّاً إلاحسن الوجه حسن الصوت، وكان نبيكم أحسنهم وجهاً وأحسنهم صوتا”اللہ تعالی نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا، وہ حسن والا اور بہترین آواز والا تھا اور تمہارا نبی ان سب میں سب سے زیادہ حسن والا اور سب سے اچھی آواز والا ہے۔
جہاں تک مسلم شریف کی اس روایت کا تعلق ہے جس میں حضرت نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:”وإذا ھو قد أعطي شطر الحسن” یعنی حضرت یوسف علیہ السلام کو نصف حسن سے نوازا گیا تھا،اس سے بظاہر شبہ ہوتاہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کاحسن حضرت نبی اکرم ﷺ کے حسن سے فائق ہے۔ تو یادرکھیں کہ اس حدیث کی شارحین نے مختلف توجیہات ذکر کی ہیں: ایک توجیہ یہ کی گئی ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو اس حسن کا نصف دیا گیا تھا جو آپﷺ کو دیا گیا تھا۔دوسری توجیہ یہ کی گئی ہے کہ خود متکلم اس میں داخل نہیں ہے،
یعنی: حضورﷺ کے علاوہ دیگر انسانوں میں حضرت یوسف علیہ السّلام کو نصف حسن دیا گیا تھا۔ اس کی تائید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس شعر سے بھی ہوتی ہے کہ جس میں آپ نے فرمایا *:”لواحى زليخا لو رأين جبينه … لآثرن بالقطع القلوب على الأيدي”* یعنی حضرت یوسف علیہ السلام کا حسن دیکھ کر عورتوں نے اپنی انگلیاں کاٹ لی تھیں، اگر وہ آپ ﷺکاحسن وجمال دیکھ لیتیں تو اپنے دل کاٹ لیتیں۔تیسری توجیہ یہ کی گئی ہے کہ حسن وجمال میں جن جن باتوں کا لحاظ کیا جاتا ہے، ان سب میں مجموعی طور پر آپ ﷺ حضرت یوسف السلام پرفائق تھے۔
(مستفاد: دارالافتاء دارالعلوم دیوبند:170126،فتح الملھم:2/250,251) الحاصل حضرت نبی اکرم ﷺ حسن وجمال دونوں میں حضرت یوسف علیہ السلام سے فوقیت رکھتے تھے۔
کسی شاعرنے کیا خوب کہا ہے کہ: *رسولِ ہاشمی نبیوں میں ختم الانبیاء ٹہرے… حسینوں میں حسیں ایسے کہ محبوبِ خدا ٹہرے* حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺکے حسن وجمال کو بیان کرنا مشکل ہے۔ *جمال وحسن کی الفاظ میں تعبیر ناممکن۔۔۔مجسّم نور کی کھینچے کوئی تصویرناممکن*