دیوبند، 9؍ اکتوبر
(رضوان سلمانی)
اپنے متنازعہ بیانات کے لئے مشہور ڈاسنا مندر کے مہنت نرسمہا نند گری نے دیوبند پہنچ کر ملک کے مدارس کو نشانہ بنایا اور بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے مدارس کو ذمہ داری ٹھہراتے ہوئے کہاکہ ہندوستان کے مدارس آبادی بڑھانے کا درس دے رہے ہیںجس کا مقصد جمہوری طریقہ سے ملک پر قبضہ کرکے پوری دنیا کو تباہ کرناہے،انہوںنے کہاکہ اکثریتی فرقہ کو اس سازش سے ہوشیار رہنا چاہئے۔
انہوں نے دیوبند میں اے ٹی ایس سینٹر کے قیام کے حکومت کے فیصلہ کی تعریف کی اور دارالعلوم دیوبند کو جم کر نشانہ بنایا ۔منگل کے روز دیوبند پہنچنے پر سوامی نرسمہانند گری کا بی جے پی یوتھ مورچہ کے سابق ضلع جنرل سکریٹری ابھیشیک تیاگی کی قیادت میں مختلف ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے استقبال کیا۔
اس دوران نرسمہا نند نے ہندو سماج کو مدارس کے خلاف بھڑکاتے ہوئے مدارس کے ذریعہ کی جانے والی سازش کا مقابلہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ 14؍ نومبر کوکیندوکی پہنچے گیں جمعیۃ علماء ہند کے لئے سینٹر بنایا جارہاہے ،وہ گاؤں پہنچ کر گاؤں والوں کی آواز بلند کریں گے اور یہ سینٹر کبھی بننے نہیں دیا جائیگا۔ اس دوران شیعہ پرسنل لاء بورڈ کے رکن وسیم رضوی کے ذریعہ ڈاسنا مندر میں پوجا کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وسیم رضوی نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صاحب کے متعلق ایک کتاب لکھی ہے۔
مذکورہ کتاب کا اجراء 5 ؍نومبر کو ڈاسنا مندر میں کیا جائیگا، ہم کوشش کریں گے کہ وسیم رضوی کی مذکورہ کتاب دنیا کا ہر فرد پڑھے، ہر مسلمان اسے پڑھے۔ یہ کتاب مسلمانوں کے لیے پڑھنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تن من دھن اور ہر طریقہ سے وسیم رضوی کے ساتھ ہیں،انہوں وسیم رضوی کی تعریف کی اور کہاکہ وہ بہت اچھی لڑائی لڑ رہے ہیں۔
الیکشن کے متعلق انہوں نے کہا کہ ان کا اسمبلی انتخابات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے وہ سناتن دھرم کے پرچارک ہیں اور اپنے مذہب کا پرچار کر رہے ہیں۔ اس دوران ٹھاکر ہرویر سنگھ، پرمود تیاگی، اویناش بالمیکی، شوبھم تیاگی، کلدیپ سینی، رنجیت بالمیکی، دیپک چنچل، منیش تیاگی، سنیل کیندوکی، سمت سینی، مونٹی تیاگی، ونے کچھل، دیپک میرگپور، روہت بالمیکی، وویک سمیت جی جے پی اور ہندو تنظیموں کے افراد موجودرہے۔