سب کچھ یادرکھا جاے گا

تازہ خبر مذہبی

*رشحات قلم عبدالقیوم شاکر القاسمی*

*جنرل سکریٹری جمعیة علما*
*ضلع نظام آباد تلنگانہ*
9505057866

6ڈسمبرتاریخ کا ایک ایسا دن ہے جو بھلایانہیں جاسکتا جس کو یوم سیاہ کے طورپر منایاجاتا ہے بلکہ اب توعمدااس کو یادرکھناچاہیے
اورآنے والی نسلوں کو بھی اس تاریخ سے باخبر رکھنا چاہیے اور حقیقت واقعہ سے ساری انسانیت کو ہرسال کسی نہ کسی طرح واقف کراناہماری اپنی ایک عظیم ذمہ داری سمجھنا چاہیے ورنہ مرورزمانہ کی گردوغبارتلے مسلمانوں کی عبادت گاہ بابر کی عظیم نشانی اور صبح وشام دی گیء اذان ونمازیں بھی دب کر رہ جائیں گی
یقینا
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہیکہ وقت ہمیشہ کروٹ لیتاہے جس کو باری تعالی نے فرمادیا
وتلک الایام نداولھا بین الناس
اللہ فرماتے ہیں کہ دنیا کے شب وروز اورگردش لیل ونہار پر ہماری قدرت ہے ہم ان کو لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں نہ عروج ہمیشہ رہا ہے نہ ہی زوال ہر وقت کسی کا مقدر بنا رہا
عروج وزوال تو لگا ہوا ہے آج کوی حکومت یا حکمران اپنے غلبہ اور پاور یا کثرت کی بناء پر عدالتوں اور انصاف کی چہاردیواریوں سے من چاہے فیصلے کروالے مگر ان کو یہ نہ بھولنا چاہیے کہ ابھی مالک الملک کی عدالت باقی ہے اور احکم الحاکمین کا فیصلہ باقی ہے جو اپنے وقت پر خواہ دنیا میں یا مابعد الموت صادرہونے والا اور ہرحال میں غالب آنے والا ہے جس کا ہم سب مسلمانون کو انتظار ہے اور امید بھی
چونکہ باری تعالی کی نظروں سے نہ ظالموں کا ظلم چھپا ہوا ہے نہ ہی حکمرانوں کی بدنیتی اس سے پوشیدہ ہے ہم تو اپنے عقیدہ کے مطابق مساجد کو ویران کرنے اور اس کی تخریب کاری کرنے والوں کو ظالم ہی کے نام سے یادکریں گے چونکہ قرآن مجیدنے ایسے لوگوں کو سب سے بڑاظالم کہا ہے
ومن اظلم ممن منع مساجد اللہ
ساری دنیا کے مسلمان اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ دین اسلام میں مساجد کا وہی مقام ومرتبہ ہے جو انسانی جسم میں دل اور قلب کا مرتبہ ہے دل کی حرکت سے انسانی زندگی کا ثبوت ملتا ہے اور قلب کی حرکت کا بند ہوجانا موت کہلاتا ہے بالکل اسی طرح دنیا کے کسی بھی گوشہ میں مساجد کا وجود اور اس سے مسلمانوں کے ایمانی عملی فکری وتہذیبی زندگیوں کی وابستگی کامسئلہ ہے مساجدکی آبادی وتعمیر مسلمانوں کی زندگی کا ثبوت ہے اور ان کو ملیامیٹ وویران کرنا یہ مسلمانوں کے لےء موت کے مترادف ہے
اسی لےء ہرمسلمان کی اپنی مذہبی ذمہ داری ہیکہ وہ مساجد کے تحفظ کو یقینی بنائیں اس کو ہراعتبار سے آباد کرنے کی فکر کریں نمازوں سے ذکر واذکار سے قرآن مجید کی تعلیم سے مساجد کے ممبر ومحراب گونجتے رہنا چاہیے یہی بندگی ہماری زندگی کی علامت ہے
مساجد روے زمین پر اللہ کے گھر کہلاتے ہیں جو ایک بار بن گےء تو بس قیامت تک مسجد ہی رہے گی جس کو صبح قیامت تک ختم نہیں کیا جاسکتا ہے
مسجدیں امت مسلمہ کے اایمانی اسلامی اور روحانی مرکز ہوتے ہیں
جہاں یادالہی سے دلوں کو منور اور زندگیوں کو مجلی کیا جاتا ہے مسلمان اپنی عبادات کے ذریعہ اپنے سینوں میں معرفت الہی کے چراغ روشن کرتے ہیں خالق دوجہاں مالک جل وعلاء کے حضور نیازمند بندے اپنی جبین نیاز کو جھکاکر رحمت ومغفرت کی بھیک مانگاکرتے ہیں جہاں خشیت وبندگی کے اعلی نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں
یہی وہ مساجد ہیں جو امت مسلمہ کے لےء ریڑھ کی ہڈی کے مثل ہوتے ہیں جس سے مسلمانوں کو ایک والہانہ عقیدت ومحبت اور لازوال تعلق ہوتا ہے
یہی تعلق پوری دنیا کے مسلمانوں کو بابری مسجد سے تھا ہے اور روز قیامت تک رہے گا
بابری مسجد کی حرمت اس کے تقدس کو گرچیکہ پامال کیا جارہا ہوں لیکن مسلمانوں کے دلوں سے اس کی عظمت وحرمت کو کبھی بھی ختم نہیں کیا جاسکتا ہے
ہر سال 6/ڈسمبر ہمارے دلوں میں اس جذبہ کو بیدار کرتا ہے اور کرتا رہے گا
تاریخ کے حوالہ سے یہ بات بھی یادرکھی جاے گی کہ
گذشت دوسال قبل سپریم کورٹ سے جاری ہونے والے فیصلے نے ہمارے دلوں کو غمزدہ و مضمحل ضرورکیا مگر ہم مسلمانوں نے تسلی کاسامان کرتے ہوے یہی کہا اور آج بھی یہی کہیں گے کہ
ہم نے مقدمہ ہاراہے حوصلہ نہیں ہم باری تعالی کی ذات سے ناامید ہرگز نہیں ہوسکتے اور یہی تمنا دلوں میں لےء جی رہے ہیں کہ بابری مسجد کو ایک دن انصاف ضرورملے گا

6/ڈسمبر 1992 سے لے کر آج تک 29 سال سے جن حالات سے ہم اور ہماری مسجد گذری ہے وہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے زمانہ کبھی اس کو فراموش نہیں کرسکتا اور ہم اپنی ذمہ داری سمجھ کر آنے والی نسلوں تک اس حقیقت سے انحرافی والے تاریخی واقعہ اور درد والم کی اس داستان کو پہونچاتے رہیں گے
دشمنوں کی سازش نے جو کچھ کیا اور جس طرح سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کیا گیا اور جس طریقہ سے ہمارے عقیدہ توحید کامظہر سعادتوں کے مرکز اور برکتوں کے گھر کو نیست ونابود کیا گیا وہ سب کچھ یادرکھا جاے گا
ساتھ ہی ساتھ ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے خواہش کریں گے کہ خدارا مساجدکو ویران ہونے سے بچانے کی فکرکریں محلہ محلہ ایسی مہم چلای جاے کہ سوفی صد لوگ نمازی بن جائیں کوی بھی عاقل بالغ مرد مسجد سے دور نہ ہوں خواہ وہ کسی مسلک ومشرب سے وابستگی رکھے لیکن نمازوں سے غفلت وبے اعتنای نہ کریں
چونکہ تعمیر مساجد مومن کی پہچان وعلامت ہے جس میں ظاہری عمارت کے ساتھ ساتھ باطنی تعمیر یعنی عبادات سے مساجد کو آباد کرنا بھی شامل ہے
اللہ پاک امت مسلمہ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نصیب فرماے سببکو پنج وقتہ جماعت کے ساتھ نمازوں کے اہتمام کی توفیق عطاء فرماء
آمین بجاہ سید المرسلین