رشحات قلم : عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد تلنگانہ
9505057866
اسلام کوی بے جان نظریہ نہیں بلکہ ایک انقلاب آفریں نظام حیات ہے جس کے بہت سارے شعبے ہیں جو انسانی زندگی کو ہر اعتبار سے محیط اورگھیرے ہوے ہیں عقائد عبادات معاملات معاشیات اخلاقیات اور سیاست وانسانی معاشرت ہر لائن میں اس کی تعلیمات قرآن وحدیث کی ہدایات واحکامات کامل ومکمل اندازمیں مرتب وموجود ہیں جو انسانیت کو راہ راست پر لانے اور بھٹکے ہوؤوں کو منزل مقصود سے واقف کرانے کے لےء کافی وشافی ہیں
مسلمانوں کی بہت ساری تنظیمیں جماعتیں اور گروہ ہیں جو اس حوالہ سے اپنی اخروی ودنیوی فلاح وبہبود سمجھ کر اور اپنا فرض منصبی تصورکرتے ہوے انسانیت کو ان کا مقصد زندگی بتانے کاکام کرتے چلے آرہے ہیں اور تاقیام قیامت اس کام کو انجام دینے والی کوی نہ کوی جماعت روے زمین پر موجودرہے گی
جب جب بھی اس دنیاجہاں والوں میں بگاڑ وفساد آیا یا برائیوں نے ان کو آگھیرا اور انسانیت پر جمود وتعطل جمارہا اس وقت باری تعالی اور اس دنیاوانسانیت کے پیداکرنے والے پاک پروردگار نے انہیں میں سے ایک نیک صفت صلاحیت وصالحیت کی اعلی منزل پر فائز انسان کو منتخب کرکے اپنا فرستادہ اور رسول بناکر اس دنیا میں بھیجا اور انسانیت کو برائیوں سے نکالنے ان کو راہ راست پر گامزن کرانے انکو منزل مقصود کی جانب راہ نمای کرنے کاعظیم کام ان سے لیا
جو ابتداے دنیا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخری نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تک سلسلہ وار جاری رہا اس کے بعد اس عظیم کام کی ذمہ داری کو اللہ پاک نے عام بندوں کے سپرد کیا کہ وہ اسکو انجام دیتے رہیں
لوگوں کو انسانیت کادرس دیں اللہ اور اس کے رسول اور دین کے حقوق سے لوگوں کو باخبر کریں
اچھی صفات سے انسانیت کو متصف کرائیں ان کو یہ بتلائیں کہ تم ایک اچھے اور ستودہ صفات انسان کیسے بن سکتے ہوجو تمہارا مقصد تخلیق ہے
اب مسلمانوں میں اس کام کو کرنے والی الگ الگ جماعتیں بنیں اور اپنی اس ذمہ داری کو بحسن وخوبی اپنےاپنے دائرہ عمل میں رہ کر انجام دے رہی ہیں انہیں میں سے ایک تحریک تبلیغی جماعت کے نام سے تیار ہوی جو پوری خاموشی کے ساتھ رسولوں کے اس مشن کو آگے بڑھاتے ہوے مخلوق خدا کو خالق سے ملانے کاکام کرتی آرہی ہے
ظاہر ہیکہ جب یہ کام عام ہے تو اقطاع عالم اور پوری دنیا میں میں اللہ کے مخلص بندوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور کام چلتا رہا
یہاں تک کہ خطہ ارضی کا کوی حصہ یا گوشہ ایسا نہیں ہے جہاں یہ کام نہ ہوتا ہوں
چنانچہ ہماری اپنی دانست اور ورق گردانی کے مطابق سن 1926میں ہندوستان کی سرزمین میں اس کام کو منظم انداز میں کرنے اور احساس ذمہ داری کو اجاگر کرتے ہوے ہر عام وخاص کو اس جماعت سے جوڑنے کا سلسلہ مولاناالیاس صاحب کانھلوی رح نےاپنے مضافاتی علاقہ میوات سے شروع کیااور یہ کام کوی نیا نہیں تھا بلکہ لوگ اس کام سے غافل تھے آپ نے اس کو ایک تحریک بناکر شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے مختلف ممالک میں اسی نوعیت کی تحریک بنتی چلی گیء
اور اپنے خاص انداز سے لوگوں کو دین کی بنیادی باتوں نمازروزہ اخلاق حمیدہ اور صفات حسنہ رسول اللہ کی تعلیمات سے لوگوں کو واقف کراتے رہے ۔۔۔
یادرہے کہ اس جماعت کا سب سے بڑا مقصد اور ہدف اصلی اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑناہے
یہ تحریک کسی بھی طرح کی فرقہ واریت اور سیاست سے بالکل کنارہ کشی اختیارکرنے والی تحریک ہے
اختلافی ومسلکی مسائل سے بھی اپنے آپ کو دور رکھ کر کام کرنے والی اس جماعت نے دنیا میں وہ انقلاب برپا کیا کہ لوگ اپنے پیداکرنے والے سے جڑے انہیں زندگی کا مقصد سمجھ میں آیا گناہوں اور برائیوں سے توبہ کیا اچھای اور انسانیت والے کام کےء
ایک اندازہ کے مطابق 8 تا 10 کروڑ لوگ اس تحریک سے وابستہ ہیں اور کسی سے بھی چھیڑ چھاڑ کےء بغیر وہ اس کام میں لگے ہوے ہیں
لیکن افسوس
کہ مبدأ دین مہبط وحی اور تعلیمات اسلامی کامرکز سمجھے جانے والے اسلامی ملک سعودی عرب کی جانب سے اس جماعت پر پابندی لگانے کی بات اور مساجد کے خطباء سے اس جماعت کے خلاف بیانات کروانے کےمعاملہ نے پوری دنیاکے مسلمانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور سعودی فرمانرواکے عقل پر ماتم کرنے پر آمادہ کردیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک اچھا کام کرنے والی جماعت انسانیت کو برائیوں اور جرائم سے نکالنے کاکام کرنے والی اس تحریک پر پابندی کیوں لگانا چاہتے ہیں ؟
ہم صاف دل سے یہ کہ دینا چاہتے ہیں ہم تن من دھن کے ساتھ اس جماعت کی بقاء اور تحفظ کےلےء اس جماعت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے
عقل انسانی حیران ہیکہ سعودی عرب جیسے اسلامی ملک میں جرائم اور کرائم روزبہ روز بڑھتے جارہے ہیں اس پر روک لگانے کے بجاے اچھے اور بھلے کاموں کو انجام دینے والی اس تحریک سے شاہ اور دیگر اراکین مملکت کو کیوں تکلیف ہورہی ہے
ہم کھلے لفظوں میں اس ہابندی کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں حکومت سعودیہ سے کہ وہ اپنے اس حکم نامہ پر نظر ثانی کرے
اور عالم انسانیت کو بتادینا چاہتے ہیں کہ
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جاے گا
یہ خداتعالی کا روشن کیا ہواوہ چراغ ہے جسے مخالفت کی آندھیاں کبھی بجھانہیں سکتیں خودباری تعالی نے اس حقیقت کو واضح فرمادیا
یریدون لیطفئوانوراللہ بافواھھم
زمانہ قدیم سے ہی اسلام اور اسلامی تحریکوں کو نابود کرنے والوں کو اس طرح کی آزمائشعں سے گذرنا پڑا اور قیامت تک گذرتے رہناپڑے گا
اس قسم کی پابندیوں اور اسلامی تحریکات کو دہشت گردی سے جوڑنے والا مذموم عمل ہمیشہ انہی لوگوں کی جانب سے وجود میں آیا جو ذہنی طورپر مریض یا کسی صیہونی طاقت سے مغلوب ہوتے ہیں اس سعودی فرمان کے درپردہ بھی شاید اسی طرح کی محرکات ہوں گی جو آئندہ دنوں میں کھل کر عالم آشکارا ہوگی
چونکہ اس دنیا سے نہ اچھای مٹ سکتی ہے نہ ہی اچھائیوں کی تلقین وتعلیم کا کام رک سکتا ہے
اللہ پاک عالم عرب اور ساری انسانیت کو ہدایت تامہ نصیب فرماے اور ہر قسم کے شروروفتن سے اسلام اور امت مسلمہ کی حفاظت فرماے
آمین بجاہ سید المرسلین