رشحات قلم : عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد تلنگانہ
9505057866
اسلام ایک صاف ستھرا بالکل پاکیزہ اور رسم ورواج خرافات ودقیانوسیت سے مبرامذہب ہے اس نے اپنے ماننے والوں کو جو تعلیم دی ہے وہ بھی انتہای نفیس اورمبنی بر احتیاط ہیں جس کو اپنا کر ہم مسلمان دین ودنیا کی ترقیات حاصل کرسکتے ہیں
اس راہ اسلام کو چھوڑ کر یا کسی بھی معاملہ میں اس کی تعلیمات سے بے نیازی برت کر کوی بندہ مومن اپنے آپ کو کامیاب سمجھتا ہے یاماڈرن زمانہ کی ماڈرن اور نئ تہذیب کو اپنا کر اپنے آپ کو مہذب اور اپٹوڈیٹ تصورکرتا ہے تو یہ اس کی اپنی خام خیالی ہے اسی نئ دنیا کے نئے اصولوں کو اپناکر آج بہت سارے مسلم نوجوان اپنی اسلامی ودینی تہذیب سے برگشتہ ہوتے نظرآرہے ہیں
منجملہ ان خرافات میں سے ایک رسم بد نیا سال کا جشن منانا ہے آج کل ہمارے مسلم نوجوانوں میں یہ رسم بد بڑی تیزی سے رواج پارہی ہے اور اس کو اتنا اہتمام کے ساتھ منایا اور پرچار کیا جارہا ہے کہ عقلیں حیرت زدہ ہیں
کہ جس قوم نے انسانیت کوتہذیب وتمدن کا درس دیا جو ہر قسم کی برائیوں سے دوررہنے اور عوام وخواص کو دور کرنے کے لےء پیداکی گیء جس نے اقوام عالم کو برائیوں اور غیروں کی نقالی سے بچنے کا درس دیا وہ آج اس رسم بد کولے کر کیوں اپنے دین وایمان کو بدنام کرتی نظر آرہی ہے
بطور خاص ہمارے مسلم نوجوانوں کو یہ یادرکھنا چاہیے کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو تاریخی ومذہبی یاکوی بھی قومی اہم واقعہ کی وجہ سے کسی دن کو منانے کی اجازت نہیں دی ہے تو پھر یہودونصاری کے ایجادکردہ اس نےء سال کو منانے کی کیسے اجازت ہوسکتی ہے
امیر المؤمنین حضرت عمر رضہ نے یہودیوں سے کہا تھا کہ اگر اسلام میں کسی دن کو بطور یادگار منانے کی اجازت ہوتی تو ہم اس دن کویادگار مناتے جس دن اللہ تعالی نے تکمیل دین والی آیت نازل فرمای اور اتمام نعمت کا اظہارفرمایاتھا
لیکن چونکہ اس قسم کی یادگار منانے کی اجازت نہیں ہے اس لےء ہم اس دن کو بھی یادگارنہیں مناتے
بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نیاسال ہمارےلےء انعام ہوتا ہے تو ہم یہ بتادینا چاہتے ہیں کہ انعام خواہ دینی ہوں یا دنیاوی قومی ہو یاانفرادی بس اسے فضل باری سمجھ کر اللہ تعالی کا شکر اداکرلیا جاءے تو بھی کافی ہے
اس کے لےء باضابطہ کسی گیسٹ ہاوس یا فام ہاوس یا فکنشن ہال لے کر پروگرام منظم کرنا کیک کاٹنا یا گانے گاتے ہوے ڈانس کرنا یا اس قسم کی کوی بھی غیر شرعی حرکت کرناہرگز جائز نہیں ہوسکتاہے
بلکہ اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہے بطور خاص ایسے مواقع پر تو اللہ تعالی سے اورزیادہ ڈرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس لےء کہ عام مشاہدہ سے یہ بات ثابت ہوی اور تاریخ گواہ ہیکہ اگر قوم پوری عمومیت کے ساتھ اللہ کی نافرمانی کرنے لگے گی تو اللہ کا عمومی عذاب بھی اسی وقت آجاتا ہے توہمیں اس موقع پر توبہ واستغفارکرنے کی ضرورت ہے جو نوجوان اس قسم کے پروگرام منعقد کرنے کو فخر سمجھتےہیں اور غلط طریقوں سے خوشیاں منانا اپنا حق سمجھتےہیں خداراوہ اپنی ان حرکتوں سے بازآجائیں
احادیث واسلامی کتب کے حوالہ سے
میں یہ بات بتادینا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کا اسلامی نیاسال وہ ماہ محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے
اور اس اسلامی نےء سال کے موقع پر بھی ہمیں برائیوں سے اجتناب کی تاکید فرمای گیء ہے بلکہ حکم دیا گیا کہ
نےء سال کے موقع پر دوکام کرنا چاہیے 1_ماضی کااحتساب 2_مستقبل کالائحہ عمل۔۔۔
گویا ہر آنے والا نیاسال ہمیں یہ پیغام دے رہا ہیکہ جوگذراہےوہ اب لوٹ کر آنے والا نہیں وہ ماضی بن چکاہے وہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیاہے ہم نے اس گذرے ہوے سال میں کونسے اعمال صالحہ کےء اور کتنےکےء اس کا معیار ومقدارکیاتھی وغیرہ وغیرہ
اس ماضی کا حساب کرنا لازم ہے اور آئندہ مستقبل کے لےء عزم کریں کہ جو مقدار اعمال صالحہ کی سال گذشتہ تھی اس میں اضافہ کیسے ہو آنے والے سال کو کس اعتبار سے اور کیا کام کرکے کارآمد بناسکتا ہو ں
اللہ تعالی سے دعاء ہیکہ ہم سب مسلمانوں کو توفیق سمجھ نصیب فرما
