احتجاجی مظاہرین نے سڑک بلاک کردی۔ریالی منسوخ
مودی کی ریلی کی منسوخی کی وجہ کسانوں اور پنجاب کے لوگوں کا شدید احتجاج۔کسانوں کا دعوی
چندی:5؍جنوری
(اے ایم این ایس)
وزیر اعظم نریندر مودی کی پنجاب میں فیروز پور ریلی کی منسوخی کی وجہ سیکورئٹی میں کوتاہی بتائی جا رہی ہے۔کسانوں اور پنجاب کے لوگوں کا وزیر اعظم مودی کے قافلہ کے سامنے شدید احتجاج کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی ریالی منسوخ ہوگئی ہے
وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر اعظم کے دورہ پنجاب کے دوران سیکورئٹی میں کوتاہی سامنے آئی ہے۔ ان کا قافلہ تقریباً 15-20 منٹ تک ایک فلائی اوور پر رکا رہا
نریندر مودی جب ریلی منسوخ کرنے کے بعد بھٹنڈہ ایئرپورٹ واپس پہنچے تو انہوں نے پنجاب کی کانگریس حکومت پر بھی طنز کیا۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق مودی نے ہوائی اڈے کے حکام سے کہا – میں اپنے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ میں زندہ بٹھنڈہ ایئرپورٹ پہنچ سکا۔

بی جے پی نے کہا کہ وزیر اعظم کے پروگرام کو منسوخ کرنا کانگریس کی سازش ہے۔ دوسری جانب کسانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ریلی کی منسوخی کی وجہ کسانوں کا احتجاج اور پنجابیوں میں مودی کا آناناقابل قبول ہونا ہے۔ پہلے بتایا جا رہا تھا کہ مودی کی ریلی خراب موسم یا کورونا کی وجہ سے منسوخ کی گئی ہے۔
کسان ایکتا مورچہ نے کہاکہ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مودی کی ریلی کی منسوخی کی وجہ کسانوں اور پنجاب کے لوگوں کا شدید احتجاج ہے، جنہوں نے مودی کو مسترد کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے مودی کو اپنا پروگرام منسوخ کرنا پڑا۔ مودی کی ریلی میں بھی بہت کم لوگ موجود تھے۔ ان میں سے اکثر کو زبردستی جلسے میں بھیجا گیا۔ پنجابیوں کے منفی ردعمل کی وجہ سے مودی کو اپنا پروگرام منسوخ کرنا پڑا۔

وزارت داخلہ نے کہا
وزیر اعظم کی سیکورٹی میں بڑی کوتاہی ، بھٹنڈہ میں اترنے کے بعد، خراب موسم کی وجہ سے 20 منٹ انتظار کرنے کے بعد، وہ سڑک کے ذریعے قومی شہداء کی یادگار پر گئے۔ اس میں انہیں 2 گھنٹے سے زیادہ وقت لگنا تھا۔ پنجاب کے ڈی جی پی نے یقین دہانی کرائی جس کے بعد ان کا قافلہ آگے بڑھا۔
ان کا قافلہ حسینی والا میں یادگار شہدا سے 30 کلومیٹر پہلے فلائی اوور پہنچا، جہاں مظاہرین نے سڑک بلاک کردی۔ مودی یہاں 15-20 منٹ تک پھنسے رہے۔ یہ وزیراعظم کی سیکورئٹی میں بہت بڑی کوتاہی ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق وزیراعظم کی حفاظت کے لیے سڑک سے گزرتے وقت اضافی سیکیورٹی ہونی چاہیے تھی لیکن یہاں ایسا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ جس کی وجہ سے پی ایم کو واپس بھٹنڈہ جانا پڑا۔ مرکزی وزارت داخلہ نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے اور اسے سیکورٹی کی سنگین کوتاہی قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے پنجاب حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت سے اس معاملے میں ذمہ داری طے کرنے اور سخت کارروائی کرنے کو کہا گیا ہے
