دیوبند، 19؍ جنوری
(رضوان سلمانی)
گزشتہ 8روز سے سردی میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے ، شدید سردی کی لہر کے ساتھ ہی موسم میں کہرا بھی بنا ہوا ہے ، یہ موسم دل کے مریضوں کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے والا ہے ۔ اس موسم میں ذرا سی لاپرواہی مریضوں کو مصیبت میں ڈال سکتی ہے ،ایسے میں ڈاکٹروں کی خاص صلاح ہے کہ دل اور بلڈ پریشر کے مریض اپنا خاص خیال رکھیں ۔
جامعہ طبیہ دیوبند کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر اختر سعید کا کہنا ہے کہموسمِ سرما میں عام بیماریوں اور سرد ہوائوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کے ساتھ بعض دوسرے امراض میں بھی شدت آسکتی ہے۔ جیسے دمہ کے مریضوں کو اس موسم میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں، اسی طرح عارضہ قلب کے مریضوں میں بھی سینے اور دل میں درد کی شکایت بڑھ سکتی ہے جس کی مختلف وجوہات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سردیوں میں خون کی نالیاں کسی حد تک سکڑ سکتی ہیں یا تنگ ہو جاتی ہیں جس کے نتیجے میں خون کی گردش متاثر ہوتی ہے۔ اس موسم میں خون کی نالیوں میں کھانوں کی چکنائی بھی گردش میں رکاوٹ ڈالتی ہے اور دل کو مناسب مقدار نہیں پہنچتی جس کی وجہ سے اس عضو کو زیادہ طاقت سے اپنا کام کرنا پڑتا ہے اور یہی وہ مسئلہ ہے جو کسی بھی مریض کو درد اور طبی پیچیدگی سے دوچار کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سردیوں میں عارضہ قلب میں مبتلا افراد کو سب سے پہلے اپنی غذا کی طرف توجہ دینا چاہیے۔ آرام کرتے ہوئے یا سو کر اٹھنے پر سینے اور دل میں درد کا احساس اور اس تکلیف کو آدھے گھنٹے سے زائد برقرار رہنا، اسی طرح گھبراہٹ محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ پیروں کا سُن ہو جانا، اچانک بہت زیادہ پسینہ آنا اور بے چینی کے ساتھ نیند اور غنودگی محسوس کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ موسم کے زیرِ اثر ہیں اور کھانے پینے سمیت دیگر حوالوں سے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر اختر سعید نے کہا کہ دل میں درد یا سینے کی تکلیف کو کبھی نظر انداز نہ کریں اور اسے محض موسم کا اثر سمجھ کر نہ ٹالیں۔ اپنے معالج سے اس کی ہدایات کے مطابق رابطہ کریں اور دوائوں کے ساتھ پرہیز کا خیال رکھیں۔
عارضہ قلب میں مبتلا افراد کو سردیوں کے موسم میں اپنی غذا اور خوراک پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ تمام وہ تدابیر اختیار کرنا چاہئیں جن سے دل کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ سردیوں میں جسم میں کیٹی کولامن کے بہنے میں اضافہ ہوجاتا ہے جو بلڈ پریشر کو متأثر کرتا ہے ، اس کے اضافہ سے برین ہمیرج اور ہارڈ اٹیک ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بلڈ پریشر اور دل کے مریضوں کے لئے سردی کے موسم میں صبح 4بجے سے 10بجے تک کا وقت سب سے خطرناک ہوتا ہے کیو ںکہ یہی وہ وقت ہے جب کیٹی کولامن کا بہنا سب سے زیادہ رہتا ہے ۔ ڈاکٹر اخترسعید نے کہا کہ دل کے مریضوں کو کہرے میں باہر نکلنے سے بچناچاہئے اور ساتھ ہی اپنی مرضی سے دوا گھٹانی یا بڑھانی اورچھوڑنی نہیں چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ بلڈ پریشر کے مریضوں کو اپنا بلڈ پریشر نارمل رکھنا چاہئے کیوں کہ اس کے بگڑنے کی وجہ سے بھی کئی مرتبہ مریض کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ دل کے مریضوں کو ہری پتہ دارسبزیاں ،سلاد اور تازے پھل کھانے چاہئیں ، اسی کی ساتھ ساتھ ثابت اور چھلکے والی دالیں گیہوں کے آٹے کے ساتھ چنا ، جو کا آٹا ملاکر استعمال کریں ، پیاز اور لہسن کا استعمال رکھیں ۔
انہوں نے کہا کہ موسم سرد ہونے پر لوگوں کے کھانے پینے اور پہننے کے معمولات میں چھوٹی بڑی کئی تبدیلیاں آجاتی ہیں ۔ کچھ بیماریاں لوگوں کو سردیوں میں زیادہ پریشان کرتی ہیں ، جیسے عام طور پر نزلہ زکام، گلاخراب ہونا،دمہ ، جوڑوں میں درد ، ہاتھ پائوں خاص طور پر انگلیاں ٹھنڈی ہوجانا سرد موسم کی عام بیماریاں ہیں ۔ ان بیماریوں سے بچنا بہت ضروری ہے۔