دیوبند، 28؍ جنوری
(رضوان سلمانی)
خانقاہ عظیمیہ و مدرسہ خلیلیہ انبہٹہ پیر کے روح رواں مولانا معین الدین انبہٹوی نے حالیہ الیکشن کے تعلق سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یوپی میں الیکشن قریب ہیں یہاں کا مسلمان عجیب مخمصے کا شکار ہیں اور کیوں نہ ہو جبکہ اغیار نے تو مسلم قیادت کے احیاء کی تمام راہیں مسدود کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا تو وہیں اپنوں نے بھی بچی کچی قوت کا میزانیہ مسلسل روابہ زوال ہوتے ہوئے دیکھ کر دانستہ طور پر اسکو یکسر نظر انداز میں کوئی کمی نہیں کی نہایت افسوس کہ ہندی مسلمان ایسی بند گلی میں پھنس گئے
جس سے نکلنے کی کوئی راہ اتنی آسان نظر نہیں آتی جتنی ہم جذباتی لوگ زیادہ سمجھتے ہیں قطع نظر اس سے خود کو سیکولر کہنے والے اور ہمارے بوتے پر متعدد مرتبہ کرسیوں کی سلامی لینے والوں نے بھی ہمیں نظر انداز کر میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کررہے ہیں مگر پھر بھی ہمیں سمجھداری کا دامن ہاتھ سے ہرگز نہیں جانے دینا چاہیے کیونکہ ہمارے سامنے سوال اپنے تشخیص و وجود کا ہے ۔
انہوں نے کہا نہایت دکھے دل سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آج اگر ہم خدا ناخواستہ جذبات کی ناؤ میں بہہ گئے تو کہیں آئندہ ووٹ کے غیر معمولی حق سے محروم نہ کردئے جائیں کیونکہ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں رہی آر ایس ایس کس نظریہ پر کام کر رہی ہے کم سے کم احقر اس موقع کوآخری تصور کررہا ہے ،خدا کرے یہ تصور سرا سر کم فہمی کی نظر ہو جائے یہ وقت ہے ان لوگوں کو سبق سکھانے کا جو ہمارے خلاف سازشیں کر رہے ہیں،
لاکھوں بہن بیٹیوں کو مرتد کرنے کا پلان بناچکے ہیں، ہزاروں مدارس و مساجد انکی نگاہوں میں کھٹک رہے ہیں، علمائے کرام پر طرح طرح کے الزامات لگا کر انھیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال بھی چکے اور مزید ڈالنا چاہتے ہیں ۔اگر آپ کو اپنے مدارس مساجد اور علماء کرام سے پیار ہے، آپ کو اپنی بیٹیوں کے ایمان کی فکر ہے تو آپ اپنا چھوٹا نقصان برداشت کرلیں لیکن جذباتی ہوکر ہر گز ہرگز کوئی کم عقلی کا مظاہرہ نہ کریں ،
مومن جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ سمجھدار بھی ہوتا ہے اور باشعور اسی کو تصور کیا جاتا ہے جو موقع محل پر اپنے جذبات کا استعمال کرے، اسلئے بڑے نقصان سے خود کو بچالیں بنگال کی طرح یہاں بھی ہوشمندی کا ثبوت دیں۔ یہ وقت اپنے کو بنانے کا کم بچانے کا زیادہ ہے ٹھوکریں کھانے سے عقل آتی ہے انشاء اللہ آگے کوئی موقع ہمیں ہاتھ سے جانے نہیں دینا۔
