تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر تاریخی و علمی دستاویز

تازہ خبر مذہبی

’’ احتساب قادیانیت ‘‘ کا سیٹ منظر عام پر

دیوبند، 31؍ جنوری
(رضوان سلمانی)
مرکز التراث ا لاسلامی کے آفس واقع محلہ خانقاہ دیوبند میں مرکز کے زیر اہتمام احتساب قادیانیت سیٹ کی پانچ جلدوں کا رسم اجرا ایک سادہ سی تقریب میں عمل میں آیا ۔ اورمرکز التراث الاسلامی کے سرپرست مولانا شاہ عالم گورکھپوری کے بدست ممبران میں سیٹ تقسیم کیے گئے ۔ اس سیٹ کی فراہمی کے لیے ممبرسازی پہلے سے کی گئی تھی ، جنھوں نے یہ سیٹ حاصل کیے ۔

ا س سیٹ کی کل اسی۸۰ جلدیں ہیں جو قسطوار شائع کوتی رہیںگی ۔ مولانا گورکھپوری نے بتایا کہ سیٹ میں،حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ،مولانا احمد حسن محدث امروہیؒ،شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، ولی کامل پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ،مفتی اعظم ہند مفتی محمدکفایت اﷲ دہلوی ،مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ دیوبند ی ،رئیس المتکلمین علامہ انور شاہ کشمیریؒ، مولانا اشرف علی تھانویؒ،مولانا عبد السمیع انصاریؒ دیوبندی، مولانا اعزاز علی امرو ہیؒ، مولانا عبد القدیر صاحب امروہیؒ،مولانا عبد الوہاب صاحب رامپوریؒ ،متکلم اسلام مولانا محمد مسلم عثمانی صاحب دیوبندی ؒ ، کی تمام تصنیفات ۔

مولانا محمد مرتضیٰ حسن صاحب چاند پوریؒ سابق ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند کی تمام تصنیفات ۔شامل ہیں۔ سیٹ میں شامل بیشتر کتابیں عرصہ دراز کے بعدہندستان میں دیوبندسے پہلی مرتبہ شائع ہوئی ہیں ۔مولانا عبید اقبال عاصم قاسمی نے اس تاریخی و دستاویزی کام پر مولانا گورکھپوری کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ موصوف نے ایسے حضرات کی علمی و عملی خدمات کو منظر عام پر لائے ہیں جن کو گردش ایام نے ان کے عزیزوں کے بھی دل و دماغ سے محو کردیا تھا

انہی میں سے ایک مولانا محمد مسلم عثمانی صاحب ہیںجو محلہ قاضی دیوبند کے باشندے شیخ محمد اکرام کے لائق و ہونہا فرزند تھے 1916ء میں دار العلوم دیوبند سے فراغت کے فراغت کے بعد پہلے انبالہ کے مدرسہ میں صدر مدرس رہے ا سکے بعد لائل پورچلے گئے تھے جو موجودہ پاکستان میں واقع ہے ۔

ان کی خدمات کی تحسین بڑے بڑے علما بالخصوص مولانا شبیر احمد عثمانی نے کی ہے ،آپ کی کتاب ’’ مسلم پاکٹ بک بجواب قادیانی پاکٹ بک ‘‘ بڑی معرکۃ الآرا کتاب ہے جو ایک بار کے بعد دوبارہ طبع نہیں ہوسکی تھی۔ اسی طرح مولانا اعجاز احمد دیوبندی ،بھی ہیں ، مولانا عبد اسمیع انصاری دار العلوم کے علیاء کے اساتذہ میں رہے ہیں ۔

احتساب قادیانیت کے موجودہ سیٹ میں شامل کرکے ایسے نابغۂ روزگار علماء سے نئی نسل کو استفادہ کرنے کا موقع مولانا گورکھپوری نے فراہم کیا ہے ، اس کے لیے باشندگان دیوبند کی جانب سے مولانا شاہ عالم صاحب قابل مبارکباد ہیں ۔تقریب میںدیوبند کے مشہور سماجی کارکن جناب نجم عثمانی ، محمد فاروق فیض آبادی،ماسٹر محمد احمد ،قاری مبشر عالم ،مولانا منیر احمد آسامی ،مفتی ابوبکر قاسمی ، مولانا منیر احمد، حافظ عمیر خوشحال پوری،وغیرہ نے شرکت کی۔