ابھی چند گھنٹے پہلے یہ خبر صاعقہ اثر ملی کہ شہرِ بھینسہ کے ہردلعزیز عالمِ دین حضرت مولانا تمیز الدین صاحب قاسمی کا کریم نگر میں اچانک انتقال ہوگیا ہے
(مولانا تمیز الدین صاحب قاسمی بھینسہ کی وفات پر)
إنا للہ وانا الیہ راجعون
ابھی گزشتہ کل بتاریخ 30 / جنوری 2022 بروزِ اتوار کی بات ہے کہ مدرسہ معہد الأبرار بھینسہ میں حضرت مولانا صلاح الدین سیفی صاحب نقشبندی دامت برکاتہم کی ماہانہ اصلاحی مجلس سے استفادے کے بعد مولانا تمیز الدین صاحب قاسمی سے ملاقات ہوئی تھی اور وہ کریم نگر روانگی کے لیے پابہ رکاب تھے، جلدی میں روا روی کی ملاقات ہوئی تھی، کسے معلوم تھا کہ مولانا سے یہ آخری ملاقات ہوگی،وہ کریم نگر نہیں بلکہ اپنی آخری سفر پر روانہ ہورہے ہیں، ابھی وہ تندرست تھے، چاق وچوبند تھے،عمر بھی کچھ زیادہ نہ تھی، مکۃ المکرمہ جانے کا ارادہ کیے ہوئے تھے۔لیکن موت کا فرشتہ اُن کے اس ان کی مقررہ زندگی کے اختتام پر پہنچ ہی گیا۔
مولانا کے انتقال کی خبر موصول ہونے کے بعد سے مسلسل یہ خیالات ذہن میں گردش کررہے ہیں کہ موت تو برحق ہے، اور موت ہرایک کے حق میں مقدر ہے لیکن یہی موت کسی کے حق میں پیغامِ فنا ہے تو کسی کے حق میں حیاتِ جاوداں ہے چنانچہ بعض خوش قسمت بندگانِ اس شان سے دنیا سے رخصت ہوتے ہیں کہ اُن کا جسم تو بے جان ہوجاتا ہے لیکن اُن کی روح مزید جاندار ہوجاتی ہے، اُن کا ذکر روشن ہوجاتا ہے، حتٰی کہ پسِ مرگ اُن کی زندگی کے وہ مخفی گوشے جنھیں اُن کی حیات میں کم لوگ جانتے ہیں وہ بھی نمایاں ہوجاتے ہیں

اُنھیں نصیبہ ور لوگوں میں ہمارے ہردلعزیز حضرت مولانا تمیز الدین صاحب قاسمی بھی تھے، مولانا دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے، ان کی سعادت مندی کہیے کہ زندگی کا اکثر حصہ حرمین شریفین کی مقدس سرزمین پر عازمینِ حج ومعتمرین کی خدمت میں گزرا، اس اثناء میں نہ جانے کتنی مرتبہ بیت اللہ کے طواف اور روضۂ رسول کی زیارت سے وہ باریاب ہوئے ہوں گے؟ اور کتنی مرتبۂ مسجدِ حرام اور مسجدِ نبوی میں عبدیت سے معمور بھرے سجدوں سے لطف اندوز ہونے کے بے شمار مواقع نصیب ہوئے ہوں گے یقیناً یہ بہت بلند نصیبے والی بات ہے ۔
مری طلب بھی اُنھی کے کرم کا صدقہ ہے
یہ قدم اُٹھتے نہیں اُٹھائے جاتے ہیں
بالآخر وہ بھی چلے گئے جن کے جانے کا ابھی خیال نہ تھا، مولانا گوناں گو خوبیوں کے مالک تھے، خُوردنوازی کا یہ عالَم تھاکہ جب بھی ملتے تو عمر میں بڑے ہونے کے باوجود خوب حوصلہ افزائی کرتے تھے،وہ بڑے مرنجامرنج طبیعت کے مالک تھے، جس سے ملتے اُسے اپنا بناکر چھوڑ تےتھے۔ا
اللہ تعالیٰ اُن کی ان خدمات کو قبول فرماکر ذریعۂ نجات بنائیں اور ان کے پسماندگان کو بھرپور حوصلہ عطا فرمائے اور ان کے اولاد کے مستقبل کو تابندہ بنائیں ۔اللہ اُن کا حامی وناصر ہو وھو یتولی الصالحین۔