میری سرشت میں شامل نہیں انا کا وجود٭ ہر ایک شخص کو میں خود سلام کرتا ہوں

تازہ خبر مذہبی

انجمن پروازِ ادب ‘‘کی جانب سے شعری نشست کا انعقاد

دیوبند، 4؍ فروری

(رضوان سلمانی)
انجمن پروازِ ادب ‘‘کی جانب سے گزشتہ شب ایک شعری نشست کا انعقاد شاعر ’’زہیر احمد زہیر‘‘ کی رہائش گاہ پر ہوا۔ پروگرام کی صدارت
عبداللہ راہی نے کی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر کاشف اخترنے انجام دئیے۔ محفل کا آغاز عقیل میاں مہذو کی نعت پاک سے

ہوا،پسندیدہ اشعارقارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔
خشک شاخوں میں توانائی کہاں سے آئے٭ ظرف مردہ ہو تو سچائی کہاں سے آئے عبداللہ راہی
میری سرشت میں شامل نہیں انا کا وجود٭ ہر ایک شخص کو میں خود سلام کرتا ہوں ماسٹر شمیم
روز اک خواب دفن کرتا ہوں٭ دل کو مدفن بنا لیا میں نے زہیر احمد زہیر
حاکم کے ہر اعزاز کو ٹھکرا دیا میں نے٭ اُسکی یہ تمنا تھی کہ سر ہو ذرا خم اور ولی وقاص
اُنکے پہلو میں بیٹھ جانے سے٭ غم لگے سب کے سب ٹھکانے سے ڈاکٹر کاشف اختر
مغفرت کے لیے شاید یہی کافی ہو زکی٭ سیکڑوں مرتبہ میت نے جو کاندھے بدلے ذکی ماہر
جلے پڑے ہوئے زخمی بدن کی یاد آئے٭ خدا کرے نہ کبھی اُس گھٹن کی یاد آئے عبد الرحمن سیف
کون کہتا ہے زمیں یا آسماں رہ جائے گا٭ آگ ایسی لگ رہی ہے بس دھواں رہ جائے گا وسیم شہپر
اہل جنوں کو وجد کے قابل بنا دیا٭ جب جب تری نگاہ نے بسمل بنا دیا عدنان انوار
کسی کے واسطے ہم نے کسی کو چھوڑ دیا٭ کہ غم قبول کیا اور خوشی کو چھوڑ دیا ندیم انوار
ان کے علاوہ زاہد دلبر، سرور عثمانی، عقیل میاں صاحب نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔اس موقع پر مفتی عمیر ، نبیل مسعودی، صائم عثمانی، ولی عثمانی، صہیب اختر، زوہیب احمد، وصیف احمد وغیرہ موجود رہے۔آخر میں نشست کے کنوینر ولی وقاص نے سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔