دیوبند،6؍فروری
(رضوان سلمانی)
ہندوستانی سنیما اور اپنی آواز کا پوری دنیا میں جادو جگانے والی لیجنڈ گلوکارہ لتا منگیشکر چند دن کورونا سے متاثر رہ کر 92سا ل کی عمر میں اس دنیا کو الوداع کہہ گئیں ۔لتا منگیشکر کی موت پر جہاں پورا بالی ووڈاور پوری دنیا میں ان کے پرستاروں کو شدید صدمہ پہنچا ہے وہیں شعراء ،ادیب اور سیاسی وسماجی شخصیات نے بھی عظیم فنکارہ کی موت پر تعزیت کااظہار کیا۔
بلبل ہند لتا منگیشکر کی وفات پر عالمی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر نواز دیوبند نے آنجہانی گلوکارہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ لتا منگیشکر بحیثیت گلوکارہ ہندوستان ہی کی نہیں بلکہ عالمی سطح پر گلوکاری کا عظیم شاہکاراور کوہ نور تھیں۔انہوں نے لتا منگیشکر کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عظیم فنکارہ کی موت سے ہندوستانی فلمی دنیا یا گلوکاری کا ہی نقصان نہیں ہوا بلکہ اس ملک نے اپنے ایک بیش قیمت اثاثہ کو کھودیا ہے ۔
ڈاکٹر نواز دیوبندی نے بتایا کہ لتا منگیشکر سے ان کی سب سے پہلی ملاقات ممبیٔ کے ایک مشاعرہ میں ہوئی تھی انہوں نے کہا کہ لتا منگیشکر ہندوستان کے ماتھے کا تاج ،تاریخی اثاثہ اور کروڑوں دلوں کی دھڑکن تھیں ۔انہوں نے جن نغمات کو اپنی سریلی آواز بخشی وہ نغمات آج بھی اور ان کے جانے کے بعد صدیوں تک لوگوں کی زبانوں پر گنگنائے جاتے رہیں گے۔

انہوں نے لتا منگیشکر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ زندگی ایسے جیوکہ دشمنوں کو رشک ہو اور موت ہو تو ایسی کہ دنیا دیر تک ماتم کرے ۔انہوںنے کہا کہ قدرت نے ہر ملک کو کچھ انمول تحفہ عطا کئے ہیں ہندوستان کو لتا منگیشکر کی شکل میں آواز کا جادو گر بناکر بہترین تحفہ عنایت کیا گیا۔ڈاکٹر نواز دیوبند ی نے بتایا کہ لتا منگیشکر نے تقریباً ہر ہندوستانی زبان میں لکھے نغمات کو اپنی سریلی آواز میں گاکر ان گیتوں کو زندگی بخشی ہے ۔
واضح ہو کہ لتا منگیشکر نے ایک ہزار سے زائد ہندی فلموں میں گانے گائے انہوں نے ہندی سنیما کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ۔ہندوستانی سنیما کیلئے نمایاں خدمات انجام دینے کے لئے لتا منگیشکر کو پدم بھوشن،پدم وبھوشن،دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سمیت کئی قومی وفلمی ایوار ڈ سے نوازا گیا ۔انہوں نے نہ صرف اپنی جادوئی آواز سے مسحور کیا بلکہ اپنی حیرت انگیز شخصیت سے وہ ہمیشہ سب کی پسندیدہ رہیں۔
