کرناٹک میں طالبات کے ساتھ شیطانی حرکت۔مودی حکومت کے تعاقب کا انتباہ

قومی

مرکز کی نریندرمودی حکومت دیوانے پن کا مظاہرہ ۔ 8 سالہ دور اقتدار میں ملک تباہ و برباد
ہندوستان کسی کے باپ کی جاگیرنہیں
مودی کے اقتدار میں ملک سے نقصا دو چار۔چیف منسٹر تلنگانہ

بی جے پی کے کالے کرتوتوں کا پردہ فاش  کرنے ملک بھر کادور

حیدرآباد۔2 1 فروری
(زین نیوز )
چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے بی جے پی کے خلاف اپنی جارحانہ انداز کو جاری رکھتے ہوۓ آج ایک بار پھر اسے اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ کے سی آر نے الزام لگایا کہ 8 سالہ دور اقتدار میں بی جے پی نے ملک کو تباہ و تاراج کر کے رکھ دیا۔
وہ بھونگیر میں کلکٹوریٹ کی نئی تعمیر کردہ عمارت کا افتتاح کرنے کے بعد راۓ گری میں منعقدہ ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ کی جدو جہد کے دوران عوام نے ان کی تحریک کا ساتھ دیا تھا جس کے آج ہمیں مثبت نتائج برآمد ہور ہے ہیں۔

ایک ایسا بھی دور تھا کہ برقی کے لئے تک و دود کرنا پڑتا تھا۔ مگر آج برقی پیدا وار کے میدان میں تلنگانہ ملک بھر میں سرفہرست ہے۔ مرکز کی بی جے پی حکومت نے اپنے 8 سالہ دور اقتدار میں تلنگانہ کو نظر انداز کیا اس کے باوجود فی کس آمدنی میں تلنگانہ دوسری ریاستوں کے مقابل ایک مثالی ریاست بن کر ابھری ہے۔
مرکز کے عدم تعاون کے باوجود ریاست کو ترقی کی سمت گامزن کیا گیا ہے ۔

 

انہوں نے ریمارک کیا کہ مرکز کی نریندرمودی حکومت دیوانے پن کا مظاہرہ کرتے ہوۓ بے تکے قوانین کو روشناس کر رہی ہے۔ سیاہ قانون کو بنا کر ایک سال تک کسانوں کو ہراساں کیا گیا۔ دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کے خلاف لاٹھی چارج کیا گیا۔ 5 ریاستوں کے انتخابات کو دیکھتے ہوئے کسانوں سے خوف کھا کر ان سیاہ قانون سے دستبرداری اختیار کرنے کا وزیراعظم نے نہ صرف اعلان کیا بلکہ ملک کے عوام سےمعذرت خواہی کی۔

انہوں نے کہا کہ مرکز برقی اصلاحات کی صورت میں ہی امداد دینے کی دوہائی دے رہا ہے۔ علاوہ ازیں زرعی پمپ سیٹس پر برقی میٹرس کی تنصیب کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے مگر بی جے پی حکومت کو یہ جان لینا چاہئے کہ جب تک وہ ( کے سی آر زندہ ہیں ) کسی صورت میں ایسا ہونے نہیں دیں گے۔اور نہ ہی وہ ایسی شرط کو قبول کریں گے۔
بی جے پی اپنے 8 سالہ دور اقتدار میں ملک کو تباہ و برباد کیا۔

مرکز اگر کچھ بہتر کرتا ہے تو اس کے ثمرات ریاست تک بھی پہنچنا چاہئے۔انہوں نے سوال کیا کہ ایسا کونسا شعبہ ہے کہ بی جے پی نے بہتر مظاہرہ کیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کا تعاقب کرنا چاہئے۔ کے سی آر نے کہا کہ بی جے پی کی ناکامیوں پر پردہ فاش کرنے پر انہیں دھمکایا جارہا ہے مگر انہیں یہ یادرکھنا چاہئے یہ کے سی آر ہے کسی سے خوفزدہ ہونے والا نہیں ہے۔

انہوں نے طلبہ دانشوروں اور نوجوانوں سے سوال کیا کہ کیا خوفزدہ ہونے سے علحدہ ریاست تلنگانہ کا قیام ممکن تھا۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ نظم و قانون کی برقراری کی صورت میں ہی سرمایہ کار راغب ہوتے ہیں۔ ہندوستان کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے۔ اس کو تباہ و تاراج کرتے ہوئے کوئی بھی خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا ۔ کرناٹک میں طالبات کے ساتھ شیطانی حرکت کی جارہی ہے ۔

سافٹ ویر شعبہ کے لئے انڈین سلیکان ویالی بنگلور سرفہرست ہے تو حیدر آباد دوسرے نمبر پر ہے۔ اگر اس ویالی کو کشمیر بنایا گیا تو کون سرمایہ کاری کرے گا ؟ کیا یہ حقیقت مذمت فوری برطرفی کا مطالبہ ہندوستان کی ترقی کے لئے فرقہ پرستی ضروری ہے اس کا وزیراعظم کو جواب دینا ہوگا۔ مودی کے اقتدار میں ملک پہلے ہی سے نقصان سے دو چار ہوا۔ اگر اس طرز عمل کو روکنے کے لئے دور اندیشی اور سیاست کے ذریعہ کام نہیں لیا گیا تو یہ ملک کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

&

nbsp;

انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کے خلاف چیف منسٹر آسام کے ریمارکس سے انکا دل جل رہا ہے کیونکہ راہول گاندھی کی دادی اور والد نے ملک کے لئے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔ چیف منسٹر آسام کے میریمارکس کیا ہندوستان کی تہذیب کے عکاس ہیں انہوں نے فی الفور اس نااہل چیف منسٹر کو برطرف کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ انہیں مرکز کی بدعنوانیوں کے ثبوت ملے ہیں ۔بھوک اور افلاس کے معاملہ میں 101 کے مقام پر ہے۔

لاک ڈاؤن کے فیصلہ سے کروڑہا عوام کو مشکلات سے دو چار ہونا پڑا۔ کل ہی مجھ سے چیف منسٹر مغربی بنگال میں ممتا بنرجی نے اور پرسوں چیف منسٹر مہاراشٹرامسٹر اودے ٹھاکرے نے بات کی ہے۔انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ مرکز کے خلاف تمام یک جٹ ہوکر جدوجہد کرنی چاہئے ۔ کے سی آر نے کہا کہ ملک کے چوروں کے خلاف جدوجہد ناگزیر انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ وہ ہندوستان بھر کا دورہ کرتے ہوئے ہر ایک زبان میں بی جے پی کے کالے کرتوتوں کا پردہ فاش کریںگے۔