پورے عالم میں شہرت دلائی: ڈاکٹر انور سعید
دیوبند، 13؍ فروری
(رضوان سلمانی)
مسیح الملک حکیم اجمل خاں کے یوم پیدائش کے موقع پر جامعہ طبیہ دیوبند کے سیکریٹری ڈاکٹر انورسعیدنے اپنے بیان میں کہا کہ حکیم اجمل خاں اپنے وقت کے بڑے مشہور و معروف حکیم تھے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ قوم کے ایک عظیم خدمت گار اور مجاہد جنگ آزادی بھی رہے ہیں۔ حکیم اجمل خاںنے طب یونانی سے علاج کو فوقیت و اہمیت بخشی اور اسے پورے عالم میں شہرت دلوائی۔
وہ خاندان یونانی کے تئیں ایک ممبر کے لئے انمول اثاثہ ہے۔ یونانی سے متعلق لوگوں کو نہ صرف اس اثاثہ کی حفاظت کرنی ہے بلکہ اس کے فروغ کے لئے مسیح الملک کے بنائے ہوئے راستوں پر چلتے ہوئے طب یونانی سے علاج کو کامیابی کی بلندی پر بھی پہنچانا،انہوں نے کہا کہ طب یونانی ہندوستانی آب ہوا کے عین مطابق ہے ،
انہوں نے زور دیکر اوردلائل کے ساتھ یہ بات کہی کہ اس طب کو کسی زمانے میں یونان میں پرموٹ کیا گیا لیکن ہندوستان میں آکر یہ ہندوستانی تہذیب اور ہندوستانی آب ہوا میں اس قدر رچ بس گئی اور اس میں وہ کیفیاتی تغیرات واقع ہوئے کہ اب یہ طب اپنی رخ کے اعتبار سے خالصاً ہندوستانی طب ہے۔
انہوں نے کہا کہ قوم و غریبوں کی خدمت میں جس طرح مسیح الملک ہمیشہ موجود رہے، یونانی کے ان کے مریدوں کو اسی طرح اپنے ہر کام سے ملک و قوم کے لئے اور خصوصاً یونانی کے فروغ کے لئے تن من دھن سے وقف رہنا چاہئے۔ ڈاکٹر انور سعید نے کہا کہ مسیح الملک حکیم اجمل خاں صرف ایک حکیم ہی نہیں تھے بلکہ ایک سیاسی قائد ،ماہر تعلیم اور سماجی شخصیت تھے ، آپ بیک وقت گاندھی جی کے دوست تو تھے ہی ساتھ ہی وائسرائے لارڈ ہارڈنگ بھی ان کو اپنے سے قریب سمجھتے تھے ۔
انہوں نے اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ اپنی سماجی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے اقتدار اور حزب اختلاف سے ایک ساتھ یکساں تعلقات قائم کئے ہوئے تھے۔ آج ہمیں جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہم طب یونانی سے وابستہ افراد یونانی کے فروغ کے لئے کتنے سنجیدہ ہیں۔ ہم لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ ہم طب یونانی کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں ۔
جامعہ طبیہ دیوبند کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر اختر سعید نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ طب یونانی ہندوستان کے ماحول، رہن سہن اور اس کے غریب عوام کے مزاج کے بالکل موافق ہے اور اس طب یونانی میں دوائوں کے سائڈ افیکٹ بھی نہیں ہیں۔ اس لئے اس کے فروغ و ترقی کے لئے آیوش ڈاکٹروں کو کوشاں رہنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ طب یونانی اب ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں فروغ پارہاہے اور بڑے سے بڑا مرض ان دوائو ں سے صحیح ہورہا ہے ۔انہوں نے یونانی ڈاکٹروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی یونانی دوائوں کو فروغ دینے کے لئے مریضوں کو زیادہ سے زیادہ ان دوائیوں کے استعمال کرنے کی صلاح دیں تاکہ طب یونانی کو مزید فروغ دیا جاسکے۔
انہو ںنے کہا کہ حکیم اجمل خاں ایک بہت اچھے انسان تھے ۔ وہ طب یونانی اور دیگر ہندوستان نظام ہائے طب قوم کے صحتی مسائل کے لئے ایک انمول تحفہ ہے اور مختلف روایتی علاج کے طریقوں کا سب سے اہم مرکز جس کی بنیاد پر ہندوستان میں میڈیکل ٹول ازم کا فروغ ہورہا ہے۔