ہندوستان کی بہو بنی شمیم پروین 25 سال کے بعد پہلی مرتبہ اپنے ووٹ کا استعمال کیا
رائے دہندگان میں ووٹ ڈالنے کو لے کر جوش وخروش دیکھا گیا
دیوبند، 14 ؍ فروری
(رضوان سلمانی)
آج دوسرے مرحلہ کے تحت ضلع سہارنپور میں ہوئی ووٹنگ پر امن طریقہ سے اختتام پذیر ہوگئی، حالانکہ ضلع کچھ مقامات پر معمولی واقعات پیش آئے اور کہیں مشینوں میں خرابی کی بھی شکایت آئی لیکن دیوبند میں سبھی بوتھوں پرووٹنگ پر امن طریقہ سے شام چھ بجے اختتام پذیر ہوگئی اور لوگوںنے خوب جوش و خروش کے ساتھ اپنے ووٹ کااستعمال کیا۔ دیوبند اسمبلی حلقہ میں آج صبح سات بجے 177؍ پولنگ مراکز پر بنے تقریباً چار سو بوتھوں پر ووٹنگ پر امن طریقہ سے شروع ہوئی اور صبح سے ہی طویل قطاریں اور ووٹروں کا جوش و جذبہ یہاںدیکھنے کو ملا۔
دیوبند اسمبلی حلقہ میں صبح نو بجے تک تیرہ فیصد،گیارہ بجے تک 32؍ فیصدی، ایک بجے تک 44؍ فیصدی،تین بجے تک 57؍ فیصد اور پانچ بجے تک 65؍ فیصدی ووٹنگ ہوئی ،جبکہ شام چھ تک یہاںتقریباً 70فیصدتک ووٹنگ ہوئی ،جبکہ پورے ضلع میں شام چھ بجے تک 72 فیصد ووٹنگ بتائی جارہی ہے۔ صحیح اعدادو شمار دیر رات تک آنے کی امید ہے۔ آج ووٹنگ کے دوران ووٹروں نے خوب جوش و خروش کے ساتھ اپنی اپنی پسند کے امیدواروں کوووٹ ڈالے۔
الیکشن کمیشن کی جانب یہاں سخت انتظامات کئے گئے تھے اور بھاری پولیس فورس کو تعینات کیاگیا تھا،دیوبند میں تین زونل مجسٹریٹ، بیس سیکٹر مجسٹریٹ کے علاوہ انتظامیہ عملہ نے پوری مستعدی کے ساتھ اپنی ڈیوٹی کو انجام دیا،جس کے سبب الیکشن پر امن طریقہ سے اختتام پذیر ہوگیا،حالانکہ دیوبند کے سرکاری ڈگری کالج میں سماجوادی پارٹی اور بی جے پی کارکنان کے درمیان ہوئی نونک جھونک کے سبب پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا ،جس میںایس پی کارکن تنظیم خان زخمی ہوگئے۔
ساتھ ہی پولنگ مراکز پر افسران اور پولیس کی سختی بھی دیکھنے کو ملی،جہاں لوگوں کے موبائل فون اندر لے جانے پر سختی تھی وہیں بوتھوںپر بنائے گئے سیلفی مراکز کو لیکر لوگ تبصرے کرتے نظر آئے، اتنا ہی نہیںبلکہ کئی مقامات پر میڈیا اہلکاروںکو بھی پولنگ مراکز کے اندر نہیں جانے دیاگیا۔ حالانکہ شام چھ بجے تک ووٹنگ پر امن طریقہ سے اختتام پذیر ہوجانے پر انتظامیہ کے ساتھ ساتھ شہر کے لوگوں نے بھی راحت کی سانس لی ہے، کیونکہ گزشتہ کئی دنوں سے کارکنان میں بھی نرمی گرمی یہاں دیکھنے کو مل رہی تھی ،اب یہاں ہار جیت کی بحث کا دور شروع ہوگیاہے،حالانکہ فائنل نتائج کے لئے 10؍ مارچ تک کا انتظار کرناہوگا۔دیوبند اسمبلی سیٹ پر جہاں مسلمانوں میںایس پی کا رجحان نظر آیا وہیں بی جے پی اور بی ایس پی کواس اپنا فکس ووٹ ملتا دکھائی دیا ۔
ووٹنگ کے دوران سامنے آئے رجحان سے ایک بات صاف ہوگئی ہے کہ دیوبند اسمبلی حلقہ پر ہار جیت کا فرق بہت زیادہ نہیں ہوگا اور بہت معمولی فرق سے یہاں ہار جیت کی قیاس آرائیاں لگائی جارہی ہیں۔ ادھر دیوبند میں پاکستان کی بیٹی اور ہندوستان بہوبن کر خاتون نے پہلی مرتبہ اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔دوسری جانب اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کو لے کر پولیس انتظامیہ کافی مستعد نظر آئی ،پولیس انتظامیہ کے اعلیٰ افسران برابر ووٹنگ مراکز کا جائزہ لیتے رہے، اسی تناظر میں اے ڈی جی راجیو سبھروال نے دیوبند ، گنگوہ، نانوتہ وغیرہ کے ووٹنگ مراکز کا معائنہ کیا اور وہاں پر موجود افسران کو ضروری ہدایات دیں۔
جب کہ ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی نے بھی ووٹنگ مراکز کا معائنہ کیا اور وہاں کے انتظامات کو دیکھا ۔ اس دوران دونوں افسران نے ووٹروں سے بے خوف ہوکر ووٹنگ کرنے کی اپیل کی، اُدھر نکوڑ اسمبلی حلقہ کے گائوں ڈھکاّ میں پریزائڈنگ آفیسر کی حرکت قلب بند ہونے سے موت واقع ہوگئی۔ ووٹنگ کے دوران پل پل کی اطلاعات کنٹرول روم میں فلیش ہوتی رہی اسی لئے الیکشن کمیشن دفتر نے پہلی مرتبہ ایم ایم ایس مونیٹرنگ سسٹم شروع کیا ہے۔ اس سسٹم کے ذریعہ ووٹنگ مراکز کی سبھی اہم اطلاعات کنٹرول روم میں اپڈیٹ ہوتی رہی ۔
پاکستان کی بیٹی اور ہندوستان کی بہو بنی شمیم پروین زوجہ اسلم خاں ساکن محلہ قلعہ دیوبند پچیس سال پہلے شادی کر کے دیوبند آئی تھی، اب اْنہیں ہندوستان کی باقاعدہ شہریت ملی ہے ،جس کے بعد قریب 25 سال کے بعد پہلی مرتبہ انہوں نے اسلامیہ انٹر کالج دیوبند میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔انہوں نے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت کی جمہوریت کی مضبوطی کے لیے میں نے پہلا ووٹ ڈالا ہے، مجھے بہت خوشی ہے، میں نے تعلیم ،صحت اور ترقی کے نام پر اپنے ووٹ کا استعمال کیا ہے۔کل ملاکر آج کی پولنگ پرامن رہی ،کہیں سے کوئی ناخوشگوار واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں ملی جس سے پولیس انتظامیہ نے راحت کی سانس لی۔