مہاراشٹر کے وزیرنواب ملک ای ڈی کے ہاتھوں گرفتار

تازہ خبر قومی

شیو سینا اور این سی پی نے مرکزکو سخت نشانہ بنایا۔
ہم جیتیں گے، نہیں جھکیں گے۔نواب ملک
حق کی فتح ہوگی اور لڑائی جاری رہے گی۔سنجے راوت

ممبئی :23؍فروری
(زین نیوز)
مہاراشٹر کے وزیر اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سینئر لیڈر کوچہارشنبہ کے روز انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ممبئی انڈر ورلڈ کی سرگرمیوں سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کیا۔ ان کا میڈیکل ٹیسٹ بھی کروایا گیا۔ ای ڈی کے ذریعہ نواب ملک سے پوچھ گچھ سے ناراض شیو سینا اور این سی پی نے بی جے پی کو سخت نشانہ بنایا۔ این سی پی کارکنوں نے ای ڈی کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا۔

این سی پی صبح 8 بجے پوچھ گچھ کے لیے پہنچی تھی۔
حکام نے بتایا کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے رہنما ملک (62) صبح 8 بجے یہاں بالارڈ اسٹیٹ علاقہ میں واقع ای ڈی کے دفتر پہنچے۔ اس کے بعد ایجنسی نے ‘پریونشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ’ (PMLA) کے تحت ان کا بیان ریکارڈ کرایا۔ ای ڈی آفس سے باہر آنے کے بعد نواب ملک نے اپنے حامیوں کو ہاتھ اٹھا کرجواب دیتے ہوئے کہا – ہم جیتیں گے، نہیں جھکیں گے۔

بتایا جا رہا ہے کہ ایجنسی جائیداد کی خرید و فروخت میں ملک کے مبینہ ملوث ہونے کی تحقیقات کر رہی ہے، اس لیے ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ای ڈی نے 15 فروری کو ممبئی میں انڈرورلڈ سرگرمیوں، جائیدادوں کی مبینہ غیر قانونی خرید و فروخت اور ہوالا لین دین کے سلسلے میں چھاپے مارے تھے۔ اس کے بعد ایجنسی نے نیا مقدمہ درج کیا تھا۔ اس کے بعد سے مہاراشٹر کے وزیر نواب ملک سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

این سی پی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے کہا کہ یہ مہاراشٹر کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا نے کبھی مرکز کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے اور نہ ہی کبھی ہوں گے۔ مہاراشٹر کے لوک سبھا ایم پی نے کہا کہ این سی پی کو ای ڈی کی کارروائی سے کوئی تعجب نہیں ہوا ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ مرکز بی جے پی کے سیاسی حریفوں کے خلاف ’’جابرانہ‘‘ انداز میں اپنی ’’مشینری‘‘ کا استعمال کر رہا ہے۔ سپریا نے دعوی کیا کہ ای ڈی نوٹس صرف اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کو جاری کیا جاتا ہے

شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے کہا ہے کہ مرکزی تفتیشی ایجنسیاں ‘مافیا’ جیسی بی جے پی کے سیاسی حریفوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جنہوں نے ان کے جھوٹ کو بے نقاب کیا ہے۔ راوت نے کہا کہ ای ڈی حکام پوچھ گچھ کے لیے نواب ملک کو ان کے گھر سے لے گئے۔ یہ مہاراشٹر حکومت کے لیے ایک چیلنج ہے۔ لیکن حق کی فتح ہوگی اور لڑائی جاری رہے گی