یوکرین میں پھنسے اترپردیش کے طلباء اورباشندوں کو فوری وطن واپس لایا جائے۔ ڈاکٹر نظام الدین خان

تازہ خبر قومی

لکھنو: یکم؍مارچ
(پریس ریلیز)
۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے ریاستی صدر ڈاکٹر نظام الدین خان نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ جنگ زدہ یوکرین سے آنے والی ہندوستانی طلباء کی تصویریں دل دہلادینے والی ہیں۔ حکومت کی جانب سے طلباء کو وہاں سے نکالنے کا عمل انتہائی غیر تسلی بخش ہے۔ یوکرین میں پھنسے ہوئے طلباء کو بے یارو مددگار چھوڑدیا گیا ہے۔

ہم حکومت ہند سے درخواست کرتے ہیں کہ یوکرین میں پھنسے تمام طلباء کو فوری طور پر بحفاظت نکالا جائے اور ان کو وہاں سے نکالنے کے عمل میں تیزی لائی جائے۔ ڈاکٹر نظام الدین خان نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین میں اتر پردیش کے 400سے زیادہ طلباء سمیت 1173لوگوں کے پھنسے ہونے کی اطلا ع ہے۔

جن میں لکھنو سے 60، بجنور سے 59، غازی آباد سے 48اور گورکھپور کے 46اور یوپی کے مختلف اضلاع کے باشندے شامل ہیں۔ یوکرین کے حالات جس طرح دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں، جنگ زدہ یوکرین میں پھنسے لوگ مسلسل اپنے وطن واپسی کی درخواست کررہے ہیں اور بھٹک رہے ہیں اور دھکے کھارہے ہیں اور ان کی جان کو خطرہ درپیش ہے۔

اس سلسلے میں اتر پردیش حکومت نے انہیں واپس لانے کیلئے کیا اقدامات کیں ہیں، کتنے باشندوں کو گھر لایا گیا ہے،ریاست کے لوگوں کو فوری طور پر مطلع کیا جائے تاکہ پھنسے ہوئے طلباء کے اہل خانہ اور ریاست کے باشندے راحت کی سانس لے سکیں۔ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر ڈاکٹر نظام الدین خان نے اپنے اخباری بیان میں کہا ہے کہ یوکرین کی جنگ میں کرناٹک کے رہائشی نوین نامی طالب علم کی گولی باری میں ہلاک ہونے کی خبر انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہے۔

جس کی ذمہ دار بھارتی حکومت ہے۔ اگر ہمارے ملک کے شہریوں کو بر وقت یوکرین سے نکالا جاتا تو ایسا واقعہ پیش نہ آتا۔ آج ہمارے بچے محفوظ ہوتے۔ ایس ڈی پی آئی، اتر پردیش متوفی طالب علم کو خراج عقیدت اور لواحقین سے گہری تعزیت کا اظہارکرتی ہے۔