روس کا دعویٰ کہ یوکرائنی سیکوریٹی فورسز نے ہندوستانی طلباء کو یرغمال بنا لیا

تازہ خبر عالمی

یوکرین کی فوج کی لڑکیوں کے ساتھ بدتمیزی۔ طلبہ پر تشدد
ٹرین میں سوار ہوئے تو گولی مار دیں گے۔یوکرینی فوج
نئی دہلی :3؍مارچ

(ا ے ایم این ایس)

یوکرین ہندوستانی طلباء کو روس کے خلاف ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ یہ بات روس نے کہی ہے۔ روسی سفارتخانے کے مطابق یوکرین کی فوج بھارتی طلباء کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ سفارتخانے نے کہا ہے کہ یوکرین کی فوج نے ہندوستانی طلباء کو یرغمال بنا رکھا ہے، اور انہیں روس جانے سے روک رہی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ بدھ کو وزیر اعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے فون پر بات کی۔ دونوں رہنماؤں نے یوکرین میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کے انخلاء کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ یہاں روسی وزارت دفاع کی طرف سے ایک بیان آیا ہے کہ، روسی فوج کیف اور کھارکیو میں پھنسے ہندوستانی طلباء کو بچانے میں مدد کر رہی ہے،۔

 روسی ایمیبسی نے ایک ٹویٹ کے ذریعہ دعویٰ کیا ہے کہ یوکرائنی سیکوریٹی فورسز نے ہندوستانی طلباء کو یرغمال بنا لیا ہے۔ہندوستان میں روسی
سفارت خانے اور "تازہ ترین معلومات کے مطابق، ہندوستانی طلباء کو یوکرین کی سیکورٹی فورسز نے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے لیے یرغمال بنایا ہے اور انہیں ہر ممکن طریقے سے جانے سے روس نے روک دیا ہے۔ ذمہ داری پوری طرح کیف حکام پر عائد ہوتی ہے۔ "

اطلاعات کے مطابق روس کی سرحد سے صرف 40 کلومیٹر کے فاصلے پر مشرقی یوکرین کا ایک شہر خارکیف۔ تقریباً 1,000 ہزار ہندوستانی طلباء 2 مارچ کی شام ووکجال، کھرکیو ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کا انتظار کر رہے تھے۔ انہیں کسی بھی حالت میں کھرکیو چھوڑنا تھا، انہیں جو بھی ٹرین ملتی، جہاں بھی وہ بس میں سوار ہوتے، لیکن یوکرین کی پولیس نے دھماکوں کے دوران سٹیشن میں پھنسے طلباء کے ساتھ بُرا سلوک کیا۔ نہ صرف جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں بلکہ ہندوستانیوں کو دھمکانے کے لیے گولیاں بھی چلائیں اور طلبہ پر تشدد بھی کیا۔

یوکرین کی پولیس اور فوج اسٹیشن پر صرف اپنے ملک کے لوگوں کو ترجیح دے رہی ہے۔ وہ دوسرے ممالک کے لوگوں اور خاص کر ہندوستانیوں کو مار رہے ہیں۔ پولیس والوں نے لڑکیوں کو بھی نہیں بخشا۔ لڑکوں کو یوکرین کی فوج نے واضح طور پر کہا تھا کہ اگر وہ ٹرین میں سوار ہوئے تو براہ راست گولی مار دیں گے۔ ہمیں ہندوستانی سفارت خانے نے شام 6 بجے تک، کھرکیو سے نکل جانے کو کہا ہے۔

طلباء نے بتایا کہ ایک طرف ہمیں اپنے ہاسٹل میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تو دوسری طرف ہمیں ٹرین میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اب ہم نہیں جانتے کہ کیا کرنا ہے۔ باہر نکلیں تو کراس فائرنگ میں مارے جانے کا خدشہ ہے۔ ہم یہاں فون نکال کر فوٹو بھی نہیں لے سکتے، یوکرین پولیس نے براہ راست گولی مارنے کی دھمکی دے دی۔

، کھرکیو نیشنل میڈیکل یونیورسٹی کے پہلے سال کے طالب علم دیویانش ڈکشٹ نےیہ بات اس وقت بتائی جب وہ کھرکیو اسٹیشن پر ٹرین کا انتظار کر رہے تھے۔ دیویانش کا تعلق اتر پردیش کے بریلی سے ہے۔ دیویانش کے ساتھ، سدھانت، انشول، اجول، پریا جیسے تقریباً 1000 ہزار طلباء اسٹیشن پر موجود تھے۔

اپسالا یونیورسٹی کے امن اور تنازعات کی تحقیق کے پروفیسر اشوک سیون نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ رومانیہ کی سرحد پر ہندوستانی سفارت خانے کے اہلکار لاپتہ ہیں۔ پاکستانی سفارتخانہ یوکرین میں جنگ سے بچنے کے لیے بھارتی طلباء کی مدد کر رہا ہے!انھوں نے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے پاکستانی ایمبیسی کا ویڈیو شیئر کیا ہے

Africans don’t have a voice nor a strong Govt like India. See how they are being discriminated. The story is they are used a shields as well.

درحقیقت یہ صورتحال اس لیے پیدا ہوئی کہ 2 مارچ کو شام 4.47 بجے یوکرین میں ہندوستانی سفارت خانے نے ایک فوری ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا کہ، کھرکیو میں موجود تمام ہندوستانیوں کو فوری طور پر شہر سے نکل جانا چاہیے۔ ہندوستانی کھرکیو سے ملحق مغربی علاقوں جیسے کہ پیسوچین‘ بابے‘ اور بیز لیوکا کی طرف بڑھیں۔ ٹھیک ایک گھنٹے بعد دوبارہ ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے، ہندوستانی سفارت خانے نے کہا کہ ہندوستانیوں کو ‘فوری طور پر فوری اثر کے ساتھ’ ، کھرکیو کو چھوڑ دینا چاہیے۔

یوکرین کی فوج نے لڑکیوں کے ساتھ بدتمیزی کی

خارکیف میں روسی حملے کا خطرہ بڑھتا جا رہا تھا۔ 2 مارچ کو صبح 6 بجے دیویانش اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھارکیو کے وکجل ریلوے اسٹیشن کے لیے روانہ ہوئے۔ تقریباً 10 کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد جب وہ ریلوے اسٹیشن پہنچے تو وہاں کی صورتحال دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ پیٹھ پر اپنا سامان اٹھائے تھکے ہارے طلباء کا ساتھ دینے کے بجائے، الٹا یوکرین کی فوج اور پولیس نے تشدد کا سہارا لیا۔

یہ طلباء صبح 8 بجے سے 2 بجے تک انتظار کرتے رہے۔ طلباء یوکرین کی پولیس سے ٹرین میں سوار ہونے کی التجا کرتے رہے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ نہ ہی اسے ٹرین میں سوار ہونے دیا گیا، الٹا اس کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ دیویانش بتاتے ہیں کہ یوکرین آرمی کے ایک جوان نے ہندوستانی طلباء کو ڈرانے کے لیے ہوا میں گولیاں برسانا شروع کر دیں، ایسا کئی بار ہوا۔ اس سے سب حیران رہ گئے۔ کچھ لڑکیوں کے ساتھ بدتمیزی بھی کی گئی اور انہیں چوٹ لگی۔