ین آر سی کے خلاف تحریک چلانے والی متحدہ خواتین کمیٹی
دیوبند، 15؍ مارچ
(رضوان سلمانی)
متحدہ خواتین کمیٹی نے حجاب کے متعلق کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے بے بنیاد فیصلہ قرار دیا۔ کمیٹی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے قرآن کا غلط حوالہ دیا۔ جبکہ قرآن کے پارہ نمبر 18 اور 22؍باقاعدہ اس کا ذکر ہے ،جس کو پڑھا نہیں گیاہے۔
سی اے اے اور این آر سی کے خلاف دیوبند کے عیدگاہ گراؤنڈ میں 57 روزہ’ ستیہ گرہ‘ منعقد کرنے والی متحدہ خواتین کمیٹی کی صدر آمنہ روشی نے کہا کہ اگر حجاب کو لیکر احتجا ج کرنا پڑا تو دیوبند کی خواتین پھر سے گھروں سے باہر آئیں گی اور تحریک چلائینگی۔
انہوں نے کہا کہ کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ قرآن و حدیث کے خلاف ہے۔کمیٹی کی جنرل سیکرٹری سلمیٰ احسن نے کہا کہ ملک میں سکھ بھائیوں کو مذہبی بنیادوں پر پگڑیاں باندھنے اور کرپان رکھنے کی اجازت ہے، تو مسلمانوں کے ساتھ مذہبی امتیاز کیوں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پردے کا حکم پارہ نمبر سورہ نور کی 31 ویں آیت میں دیا گیا ہے۔
نائب صدر فوزیہ سرور نے کہا کہ آزادی کے بعد سے ملک میں جمہوری اور سیکولر آئین کا نظام رائج ہے۔ اس طرح کے فیصلے ملک میں مذہبی بنیادوں پر تنازعہ پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لیے جھوٹے حقائق پر مذہبی جذبات سے نہ کھیلا جائے۔انہوں کہا کہ پردہ ہر دور اور ہر مذہب میں رہا ہے، اسے مذہبی بنیادوں سے نہ جوڑا جائے،بلکہ مذہبی آزادی کا مکمل خیال رکھا جائے۔