کرناٹک ہائی کورٹ کے خصوصی بنچ کے ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں

تازہ خبر قومی

دو افراد کو گرفتار
بنگلور:20؍مارچ
(اے ایم این ایس)
کرناٹک ہائی کورٹ کے خصوصی بنچ کے ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے سلسلے میں دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انگریزی ویب سائٹ ٹائمز آف انڈیا میں شائع خبر کے مطابق اس معاملے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ شکایت ملنے کے بعد پولس نے مقدمہ درج کر کے فوری کارروائی شروع کر دی۔

بتایا جا رہا ہے کہ کوائی رحمت اللہ نامی شخص کو ترونالویلی سے گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ 44 سالہ جمال محمد عثمانی کو پولیس نے تھانجاور سے حراست میں لیا ہے۔پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ 506 (1)، 505 (1) (بی)، 153 اے، 109 اور 504 کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔
ملزمان تمل ناڈو توحید جماعت (TNTJ) کے عہدیدار بتائے جارہے ہیں پولیس نے دو اور لوگوں کے خلاف مقدمات درج کیے، TNTJ مدورائی ضلع کے صدر حبیب اللہ اور نائب صدر اسان بادشاہ، جنہوں  نے میٹنگ کا اہتمام کیا تھا

 

یہ گرفتاریاں کرناٹک اور تمل ناڈو میں ملزمان کے خلاف متعدد شکایات کے بعد کی گئیں۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں متعدد افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

تمل ناڈو میں کئی تنظیمیں اس فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔ ملزم Kovai Rahamathulla کا ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں وہ مبینہ طور پر کرناٹک کے ججوں کے خلاف تشدد کو ہوا دے رہا ہے۔

میڈیا میں چلنے والی خبروں کے مطابق سوشل میڈیا پر دھمکی آمیز ویڈیو سامنے آئی تھی۔ جس کے بعد پولیس حرکت میں آگئی۔واضح رہے کہ 15 مارچ کو ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں یونیفارم کو لے کر ریاستی حکومت کے حکم کو برقرار رکھا تھا۔ فی الحال درخواست گزاروں نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاملے میں ایڈوکیٹ اوما پتی نے ہفتہ کو کرناٹک ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کے پاس شکایت درج کروائی ہے۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ اسے واٹس ایپ پر ایک ویڈیو ملا ہے جس میں ایک شخص چیف جسٹس رتوراج اوستھی کو کھلے عام دھمکیاں دیتے ہوئے نظر آرہا ہے۔ ویڈیو میں خاص بات یہ ہے کہ وہ شخص جھارکھنڈ کے ایک جج کے مبینہ قتل کا ذکر کرتے ہوئے بھی نظر آرہا ہے۔

شکایت کنندہ نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ ویڈیو میں اسپیکر نے کرناٹک کے چیف جسٹس کو جھارکھنڈ کے جج کی طرح مارنے کی بات بھی کی ہے۔ اسی طرح کی دھمکی بھی اس شخص نے دی ہے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ جج کہاں چہل قدمی کرتے ہیں۔

اس شخص نے جج کے اہل خانہ کے ساتھ اڈپی مٹھ کے دورے کا بھی حوالہ دیا۔ یہی نہیں عدالت کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے ان کی جانب سے ناشائستہ زبان بھی استعمال کی گئی۔ شکایت کنندہ نے یہ بھی کہا کہ ویڈیو کو مدورائی، تمل ناڈو میں شوٹ کیا گیا ہے۔