مجسمہ کو ہٹانے کا مطالبہ۔ حالات کشیدہ۔ پولیس کا لاٹھی چارج
نظام آباد :20؍مارچ
(زین نیوز)
تلنگانہ ریاست کے ضلع نظام آباد کے بودھن میں۔ شیو سینا اور بی جے پی کے کارکنوں نے بودھن چوراستہ پر بلااجازت راتوں رات بلااجازت شیوا جی کا مجسمہ نصب کردیا جس کے بعد اقلیتی قائدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی
راتوں رات شیواجی شیواجی کے مجسمہ کی تنصیب کو لیکر اقلیتی فرقہ کے لوگوں نے اعتراض کیا اور شیواجی کے مجسمہ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا مجسمہ کو ہٹانے کے مطالبہ کے بعد دنوںو طبقوں کے درمیان تصادم جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔اور دونوں طبقہ کے افراد مقام پر کیثر تعداد میں جمع ہوگئے ہیں
پولیس کی بھاری جمعیت نے جائے مقام پر پہنچ کر دونوں گروپس کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔
حالات میں گرمی کو دیکھتے ہوئے ‘ پولیس کے ذمہ داروں نےجے پی اور آر ایس ایس کے قائدین سے بات چیت کی اور ترغیب د ی کہ اجازت کے بغیر کسی بھی مجسمہ کی تنصیب کو برداشت نہیں کیا جاسکتا البتہ اجازت کے بعد اگر مجسمہ کو نصب کیا جاتا ہے تو ان کوئی اعتراض نہیں ہے
پولیس کی مداخلت کے باوجود دونوں گروپ اپنی اپنی جگہ بضد ہیں۔اطلاعات کے مطابق اس موقع پر ایک گروپ کے چند احتجاجیوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا!بتایا جارہا ہے کہ اس مجسمہ کے قریب ریلوے ٹریک بھی ہے جہاں سے پتھر پولیس پر پھینکے گئے۔بی جے پی قائدین کا کہنا ہے کہ مذکورہ مقام سے مجسمہ ہٹانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اس واقعہ کے بعد ٹاون کی صورتحال بھانپتے ہوئے پولیس نے چوکسی اختیار کی تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال کے ارتکاب کی نوبت پیش نہ آئےحالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بودھن ٹاؤن میں دفعہ 144 نافذ کردیا ہے۔ اور پولیس کی بھاری جمعیت کا طلب کرلیا گیا ہےاضلاع نظام آباد، کاماریڈی اور عادل آباد کے ضلع ایس پیز اور ڈی ایس پیز بودھن پہنچ گئے ہیں۔قفہ وقفہ سے پولیس کی گاڑیاں ٹاون میں گشت کررہی ہیں