فرقہ وارانہ تشدد تب ہوتا ہے جب حکومت چاہتی ہے
وزیر اعلی دہلی اروند کیجریوال کااصلی چہرہ بے نقاب۔اسد الدین اویسی
نئی دہلی :18؍اپریل
(اے ایم این ایس)
ال انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ ورکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے ہفتہ کو دہلی کے جہانگیرپوری علاقہ میں نکالے گئے جلوس کے دوران ہوئے تشدد پر ردعمل کا اظہارہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات چیت میں اسد الدین اویسی نے کہا کہ آج خود دہلی پولس کمشنر نے کہا ہے کہ جہانگیر پوری میں جو جلوس نکالا گیا تھا وہ بغیر اجازت کے نکالا گیا تھا۔
اویسی نے سوال اٹھایا اور کہا کہ جب جلوس نکالا جا رہا تھا تو پولیس کیا کر رہی تھی۔ یاترا بغیر اجازت کے نکالی گئی اور جلوس کے دوران پستول اور تلوار جیسے ہتھیاروں کی نمائش کی گئی توپولیس تماشا دیکھنے بیٹھی تھی کہ جلوس میں اسلحہ کی کیا ضرورت تھی۔
جلوس کے دوران ہتھیاروں کا استعمال کیوں کیا گیا؟ یاترا کے دوران اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے۔ زعفرانی پرچم لہرانے کی کوشش کیوں کی گئی؟
LIVE: Barrister @asadowaisi addressing a press conference https://t.co/t8Yl0Az7A0
— AIMIM (@aimim_national) April 18, 2022
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ فرقہ وارانہ تشدد تب ہوتا ہے جب حکومت چاہتی ہے، جب حکومت نہیں چاہتی تو ایسا نہیں ہوتا، اس لیے یہاں بھی حکومت نے فرقہ وارانہ تشدد ہونے دیا۔ اویسی نے کہا کہ حکومت کے سامنے سب کچھ ہو رہا ہے جس کی پوری ذمہ داری مودی حکومت پر عائد ہوتی ہے
اسد الدین اویسی نے کہا کہ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے سارا الزام مسلمانوں پر ڈال دیا۔ ایسے بیانات دیتے ہوئے شرم نہیں آتی کہ مسلمانوں نے پتھر پھینکے۔ جب الیکشن آتے ہیں تو آپ سب کے ووٹ لیتے ہیں اور جب ایسے معاملے سامنے آتے ہیں تو اپنا اصلی چہرہ دکھاتے ہیں۔
اسد الدین اویسی نے کہا کہ اگر آپ واقعی انصاف چاہتے ہیں تو انکوائری کمیشن بنائیں اور پھر معلوم کریں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں ہمیشہ انکوائری کمیشن کا مطالبہ کرتا رہا ہوں۔
